ahmad abad super league 611

احمدآباد سپرلیگ فلڈ لائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کا احوال

تحریر:محمود شفیع بھٹی…
احمد آباد سپر لیگ فلڈ لائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ منڈی احمد کی کرکٹ تاریخ کا ایک انوکھا ٹورنامنٹ تھا۔ یہ ٹورنامنٹ ماضی میں ہونے والے ایونٹس سے اس لیے بھی مختلف تھا کہ اس میں پاکستان سپر لیگ کی طرز پر ٹیم اونرز اور پلئیر ڈرافٹس کا طریقہ کار اپنایا گیا۔
اے ایس ایل بنیادی طور ٹیپ بال کرکٹ کا ایونٹ تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں سات ٹیمیں تھیں۔ احمد آباد قلندرز، احمد آباد یونائیٹڈ، احمد آباد ایگلز، احمدآباد خان زلمی، احمد آباد مہر باد شاہ، احمد آباد پنجابینز اور احمد آباد بھڈال لائنز کے ناموں پر مشتمل تھیں۔
مقامی سطح کے ایونٹس میں ذات ، برادری اور قبیلے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اور ہر ٹیم اونر کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی قوم مقامی سطح پر نمایاں رہے۔ اس لیے اس ایونٹ میں بھی اونر حضرات نے اپنی برادری کے ناموں کی نسبت اپنی قومیت کو شامل رکھا۔ اس ایونٹ کی سات میں سے 4 ٹیمیں ایسی تھیں جن کا دعوی تھا کہ وہ پورے علاقے کی نمائندہ ٹیمیں ہیں اور اسی نسبت سے انہوں نے اپنی ٹیمز کے نام احمد آباد پنجابینز جس کے اونر عادل خورشید تھے، احمد آباد ایگلز جس کے اونر ارشد جاوید تھے،احمد آباد قلندرز جس کے اونر ملک عامر دلشاد تھے اوراحمد آباد یونائیٹڈ جس کے اونر سردار شہزاد ڈوگر تھے کے نام رکھے۔
اس ایونٹ کے روح رواں ملک عامر دلشاد تھے۔ بلدیہ احمد آباد کے جنرل کونسلر ہیں۔ تحریک انصاف کی ٹکٹ پر منتخب ہوۓ۔ بعدازاں ن لیگ کے اتحادی بن گئے۔ اس ایونٹ کی کامیابی کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔ ہر ٹورنامنٹ میں چند ناخوشگوار ہوتے ہیں، اسی طرح اس ٹورنامنٹ میں بھی چند واقعات ہوۓ۔ جس کو آپ انتظامی کوتاہی یا پھر مس ہینڈلنگ بھی کہہ سکتے ہیں۔
ahmad abad super league winner team
اس ٹورنامنٹ میں ایمپائرنگ کے فرائض سید اصغر مشعل، اکرام شاہد اور ماسٹر عبدالغفور سلطانی نے ادا کئے۔ چند میچز کو چھوڑ کر، جس میں تکنیکی معاملات تھے مجموعی طور پر اچھی ایمپائرنگ کی گئی۔ سید اصغر مشعل اور اکرام شاہد کی ایمپائرنگ نے مجھے خاصہ متاثر کیا لیکن غفور سلطانک صاحب کی ایمپائرنگ پر مجھے تحفظات تھے اور ہیں۔
اس ٹورنامنٹ کی سب سے بڑے بدقسمتی مقامی اسپورٹس حلقوں کا دوگروپوں میں تقسیم ہوجانا تھا۔ ہر گروپ اپنی پزیرائی کے لیے نت نئے طریقے لگا رہا تھا۔ اور اس لیے اس میں سیاست کا عنصر غالب رہا۔ منظور وٹو گروپ اس لیگ کے کسی حدتک خلاف تھا۔ کیونکہ یہ لیگ ن لیگ کی سرپرستی میں ہورہی تھی۔
احمد آباد یونائیٹڈ نے اپنے پول میں چار میچز جیت کر سیمی فائنل میں خان زلمی کو 21 رنز سے شکست دی تھی اور فائنل جو کہ 5،5 اوورز پر،مشتمل تھا احمد آباد بھڈال لائنز جوکہ اس ٹورنامنٹ کی ناقابل شکست ٹیم تھی 9 وکٹوں سے ہرایا۔ احمد یونائیٹڈ کے اونر شہزاد ڈوگر خود بھی اچھے کرکٹر ہیں۔ یونائیٹڈ کے کپتان شہریار علاقے کے کامیاب فاسٹ باؤلر ہیں اور DPL میں بھی احمد آباد یونائیٹڈ کی قیادت کرتےہیں۔
بطور کرکٹ لوور یہ ایونٹ اہلیان علاقہ کے لیے بہترین انٹرٹینمنٹ کا باعث تھا۔ میری جانب سے ٹیم یونائیٹڈ کو مبارکباد۔ اس ٹیم،کے اسپانسرز، مینجمنٹ،فینز داد کے مستحق ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں