okara politics 750

ارکان اسمبلی کی مدت پوری ہوگئی مگر وعدے پورے نہ ہوسکے

تحریر:قاسم علی…
پاکستانی تاریخ میں دوسری بار جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری کی ہے جو کہ نہائت خوش آئند ہے لیکن دوسری جانب افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ اسمبلی مدت پوری ہونے کے باوجود کئی ممبران اسمبلی الیکن 2013ء میں عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہ کرسکے۔
رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ کی ایک تحصیل ہے جس کی آبادی سات لاکھ نفوس پر مشتمل ہے مگر اتنی بڑی آبادی کیلئے تحصیل ہیڈکوارٹر آج تک نہیں بن سکا ۔2013ء کے انتخابات میں اس حلقہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر جاوید علاؤلدین نے الیکشن میں حصہ لیا اور وعدہ کیا کہ وہ اپنے دور میں رینالہ کو بہترین سہولیات سے مزین جدیدٹی ایچ کیو ہسپتال بنوا کردیں گے ۔جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے اس کا آغاز بھی کیا مگر چار سال قبل شروع کئے گیا یہ منصوبہ پانچ سال مکمل ہونے کے بعد اس حدتک پہنچا کہ یہ عمارت تو کسی حدتک بن گئی مگر اس میں انسانوں کے علاج کی بجائے جانوروں کے باندھنے کیلئے استعمال کرنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔اور وہاں پر انسانوں کی بجائے جانور دکھائی دیتے ہیں.
okara politics
محمدطاہر اس علاقے کے باسی ہیں ان کا کہنا ہے کہ رینالہ کی تحصیل وطویل عرصہ سے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو ترس رہی ہے کیوں کہ کسی بھی ایکسیڈنٹ یا دیگر ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں اور زخمیوں کو بنیادی مرکز صحت میں منتقل کیاجاتا ہے جہاں پر جدید سہولیات نہ ہونے کے باعث اس کا مناسب علاج نہیں ہوپاتا اوراسے لاہور ریفر کرنا پڑتا ہے جس کے باعث اکثر اوقات مریض رستے میں ہی دم توڑجاتا ہے۔اس لئے یہ انتہائی ضروری تھا کہ یہ ہسپتال پہلی ترجیح میں ہی بنایا جاتا مگر ایسا نہ ہوسکا۔
ایسا ہی ایک وعدہ جو اوکاڑہ کے این اے 145سے جیتنے والے سید عاشق حسین کرمانی نے بھی اپنی عوام سے کیا تھا ۔جنہوں نے اپنی الیکشن کیمپین میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کامیاب ہوکر رینالہ سے شیرگڑھ کی سڑک بنوائیں گے مگر سترہ کلومیٹر کا یہ ٹکڑا آج بھی مقامی عوام کیلئے دردسر بنا ہوا ہے اور کنسٹرکشن مکمل ہونا تو دور کی بات ابھی شروع بھی نہیں ہوئی
اور یہی نہیں رینالہ کے چوچک روڈ کا بھی یہی حال ہے جو عاشق حسین کرمانی صاحب کی عدم توجہی کے باعث کھنڈرات کا منظر پیش کررہاہے ۔
مقامی لوگوں نے اس بارے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ
سیدعاشق حسین کرمانی میاں نوازشریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے وہ ایم این اے سے ہٹ کر بھی اپنے تعلقات کی بنا پر اضافی فنڈز لے کر اپنے حلقے کیلئے ترقیاتی کاموں کا جال بچھا سکتے تھے مگر افسوس کہ انہوں نے پانچ سالوں میں کچھ نہیں کیا اور لوگ آج بھی اسی طرح ذلیل و خوار ہورہے ہیں جیسے 2013ء میں تھے ۔
مقامی لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ عاشق حسین کرمانی صاحب نے پورے حلقے میں گیس فراہمی کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا حتیٰ کہ 11/1Lاور اس کے قریبی دیگر علاقوں میں منظوری کے باوجود گیس نہیں پہنچائی جاسکی ۔جو کہ ایم این اے صاحب کی نااہلی ہے۔
ashiq hussain kirmani renala
دیپالپور کا سیوریج منصوبہ بھی مقامی قیادت کی وعدہ خلافی کا شاہکار ہے ۔عوام کا کہنا ہے کہ دیپالپور بھر میں سیوریج کی مسئلہ بہت پرانا ہے موجودہ سیوریج آج سے چالیس سال قبل ڈالا گیا تھا مگر اب آبادی بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے پرانے سیوریج کے چھ انچ کے پائپ آئے روز بند ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ سے کئی گھر وں کی چھتیں اور دیواریں بھی گری ہیں اور قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔
مگر 2008ء میں حلقہ پی پی 192(موجودہ پی پی 187)سے ملک علی عباس کھوکھر منتخب ہوئے تو انہوں نے اپنے ووٹرز سے وعدہ کیا کہ وہ اس مسئلہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے پورے شہر کو نیاسیوریج سسٹم دیں گے مگر پہلے 2008ء اور پھر 2013ء میں ایم پی اے منتخب ہونے کے باوجود یہ سیوریج سسٹم مکمل نہ ہوسکا ۔اور آج بھی لوگ اپنے گھروں ،چوکوں اور دوکانوں میں گندے پانی کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں ۔خاص طور پر پاکپتن روڈ پرپپلی چو ک سے گلبرگ ٹاؤن تک انتہائی خراب صورتحال ہے اور کاروبار تباہ ہوچکے ہیں ۔
مقامی لوگوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک علی عباس صاحب نے یہ ایک انتہائی اچھا منصوبہ شروع کیا جس کی تکمیل سے عوام کو بہت فائدہ ہوتا مگر دس سال میں بھی اس کا مکمل نہ ہونا ہمارے ایم پی اے صاحب کی ناکامی ہے۔مگر اوکاڑہ ڈائری نے جب اس بارے ملک علی عباس سے موقف لیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس منصوبے کیلئے اپنی حدتک مکمل کوشش کی مگر فنڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے یہ تاخیر ہوئی تاہم اب یہ تمام فنڈز مہیا کردئیے گئے ہیں اور اب بہت جلد یہ میگا پروجیکٹ مکمل ہوجائے گا۔

okara politics

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں