mian manzoor wattoo 795

الیکشن 2018ء میں تحصیل دیپالپور کے چند دلچسپ مقابلوں کا احوال جانئے

تحریر:قاسم علی…

میاں منظور احمد خان وٹوکی شکست۔
میاں منظور احمد خان وٹو ملکی سیاست کا ایک بڑا نام ہے جو تین بار وزارت اعلیٰ اور سپیکر کے جلیل القدر عہدہ پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں اور ماضی میں متعدد بار ایک سے زائد حلقوں پر الیکشن لڑکربھی دونوں حلقوں سے الیکشن جیتتے رہے ہیں ۔اب کی بار پی ٹی آئی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں انہوں نے پیپلزپارٹی کی مرکزی نائب صدارت چھوڑ کراین اے 144میں آزاد حیثیت میں حصہ لیا اور این اے 143میں پی ٹی آئی کی حمائت کی جبکہ جواب میں پی ٹی آئی نے نہ صرف ان کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا بلکہ ان کے بیٹے خرم جہانگیر وٹو اور روبینہ شاہین وٹو کو پارٹی ٹکٹ بھی دئیے ۔لیکن جوڑ توڑ کی سیاست کے ماہر سمجھے جانے والے میاں منظور احمد خان وٹو کو اس بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور نہ صرف خود کامیاب نہ ہوئے بلکہ ان کا بیٹا اور بیٹی بھی شکست سے دوچار ہوگئے۔ان کی شکست کی کئی وجوہات ہیں تاہم ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حویلی لکھا کے پی ٹی آئی ورکرز نے ان کو قبول نہیں کیا اور ان کو بھرپور سپورٹ فراہم نہیں کی۔
depalpur politics k dilchasp muqablay
ملک علی عباس کھوکھر پھر بازی لے گئے۔
ملک علی عباس کھوکھر کا خاندان دیپالپور میں سیاسی لحاظ سے سب سے زیادہ پرانا ہے ان کے والد ملک عباس کو سدا بہار ایم پی اے کہا جاتا ہے ۔ان کے بعد ملک علی عباس کھوکھر بھی ناقابل شکست رہے ہیں ۔گزشتہ انتخابات میں انہوں نے پی ٹی آئی کے چوہدری طارق ارشاد کو باآسانی23000ووٹوں کے واضح مارجن سے شکست دے دی تھی مگراب کی بارحلقہ پی پی 187پر سب کی گہری نظر مرکوز تھیں کیوں کہ اب کی بار نہ صرف ان کی برادری میں سے ملک یاور نے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا بلکہ اس کیساتھ ہی اب تک کے انتخابات میں ان کے اہم ترین حلیف بلوچوں نے بھی اپنا امیدوار محمود حیدرخان بلوچ کی صورت میں کھڑا کردیااور سب بڑھ کر یہ کہ دیپالپور سٹی میں میاں بلال عمر بودلہ بھی ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے تھے۔اس ساری صورتحال میں بعض سیاسی ماہرین کا خیال تھا کہ ملک علی عباس کھوکھر جیت نہیں پائیں گے مگر علی عباس کھوکھر نے بہترین سیاسی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے ملک یاور فرید کھوکھرکو اپنے حق میں بٹھا لیا اور دوسری جانب اندرون خانہ بلوچوں کی اکثریت کی حمائت حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے ۔ اس کیساتھ ساتھ میاں بلال عمر نے بھی ان کی فتح کی راہ ہموارکرنے میں اہم کردار ادا کیا کیوں کہ انہوں نے شہر میں پی ٹی آئی کی کمر توڑ کے رکھ دی ۔جس کی وجہ سے چوہدری طارق ارشاد خان 36000ووٹوں سے آگے نہ بڑھ سکے جبکہ ملک علی عباس 8000 کی رتری سے ایک بار پھر ایم پی اے بن گئے ۔میرا خیال ہے کہ اگر میاں بلال عمرالیکشن میں نہ ہوتے تو چوہدری طارق ارشاد یہ سیٹ نکالنے کی پوزیشن میں تھے۔
depalpur politics k dilchasp muqablay
میاں بلال عمربودلہ کی اونچی پرواز اور ” میرا شہر میرا نمائندہ ”کا نعرہ
میاں بلال عمر بودلہ کی پرواز نے سب کو حیران کرکے رکھ دیا ان کی شعلہ بیان تقاریر اور عوامی انداز نے لوگوں کو بہت متاثر کیا۔دوران کیمپین ان کا لگایا گیا نعرہ ”میرا شہر میرا نمائندہ”بہت مقبول ہوا لیکن جب رزلٹ اناؤنس ہوا تو ہماری یہ بات سچ ثابت ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر میاں بلال جیتے تو اس کی وجہ یہ نعرہ ہوگا اور اگر شکست ہوئی تو بھی یہی نعرہ ان کی کشتی ڈبو نے میں اہم کردار ادا کرے گا۔تاہم انہوں نے پہلی بار عام انتخابات میں حصہ لے کر جس طرح 20000لوگوں کا اعتماد حاصل کیا وہ ناقابل فراموش ہے ۔میاں بلال عمر بودلہ کے قریبی ساتھی ملک شاہ بہرام مون نے اوکاڑہ ڈائری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی ٹکٹ ان کے پاس ہوتی تو ہم ریکارڈ لیڈ سے یہ الیکشن جیت جاتے۔تاہم جس طرح انہوں نے بغیر کسی دھڑے اور ٹکٹ کے 20000ووٹ لئے ہیں اور جس طرح پی ٹی آئی بری طرح یہاں ناکامی سے دوچار ہوئی ہے اس کے بعد پی ٹی آئی کو چاہئے کہ ایسے قابل افراد کو اپنی پارٹی میں شامل کرے۔
raza ali gilani ko badtreen shikast
سید رضا علی گیلانی کو ٹکٹ واپس کرنی مہنگی پڑگئی ۔
سید رضا علی گیلانی حجرہ کی ایک ممتاز شخصیت ہیں اور سابقہ دور میں صوبائی وزیربرائے ہائیر ایجوکیشن تھے لیکن الیکشن سے قبل وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار کیساتھ شدید اختلافات کے بعد انہوں نے اعلیٰ قیادت کو کہہ دیا کہ وہ شاہ مقیم گروپ اور راؤاجمل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں اس کے بعد جب پارٹی نے راؤاجمل خان کو ٹکٹ دیدیا تو رضا علی گیلانی نے ن لیگ کا ٹکٹ واپس کرکے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جس پر ن لیگ نے ان کے مقابل سیدہ جگنو محسن کے سرپر ہاتھ رکھ دیا اور راؤاجمل خان نے ان کو بھرپور سپورٹ فراہم کی جبکہ رضا علی گیلانی کو پی ٹی آئی کے سیدگلزار سبطین کی حمائت حاصل تھی لیکن نہ گلزارسبطین جیتے اور نہ ہی رضا علی گیلانی کو کامیابی مل پائی ۔یوں ن لیگ کی پارٹی ٹکٹ ٹھکرانے کا نتیجہ شکست اور 33 سالہ اقتدار سے محرومی کی صورت میں بھگتنا پڑا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں