woman protection bill FACE 284

اوکاڑہ،خواتین کی ڈیجیٹل سکیورٹی کو یقینی بنانےکےاقدامات ناگزیرہیں،سماجی تنظیم فیس

ضلع اوکاڑہ میں خواتین کو انٹرنیٹ کےمحفوظ استعمال پر تربیت کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔اس منصوبے کے تحت سماجی تنظیم “فاؤنڈیشن فاراوئیرنیس اینڈ سوک انگیجمنٹ (فیس)”Foundation For Awareness & Civic Engagement ایک ہزار سےزائد خواتین کو انٹرنیٹ کی دنیا میں ہراسانی سے بچاؤ سےمتعلق آگاہی دےگی۔یہ منصوبہ ادارہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ برائے عالمی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ایمبیسیڈرزفنڈ گرانٹ پروگرام(AFGP) کی اعانت سے شروع کیا گیا ہے.”فیس”کی پراجیکٹ مینجر آصفہ خان نے خواتین کی آن لائن سکیورٹی سے متعلق بات چیت کرتے ہوئےکہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور فورجی(4G) ٹیکنالوجی نے جہاں لوگوں کو آپس میں جوڑا ہے وہیں مختلف مسائل کو بھی جنم دیا ہے ۔ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال نے بلیک میلنگ، دوسروں کی نجی زندگی میں دخل اندازی، تصاویر کے غلط استعمال اور آن لائن ہراسانی جیسے جرائم کوفروغ دیا ہےاورخواتین ان جرائم کا آسان شکار ہیں.انہوں نےاوکاڑہ ڈائری کو بتایا کہ خواتین خود کو آن لائن محفوظ بنانے کی بنیادی تربیت سے محروم ہیں اور آسانی سے ہراساں ہو نے کے باعث انٹرنیٹ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال چھوڑ دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ “ملک میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون 2016 نافذ ہے تاہم اکثرخواتین اس سے بے خبر ہیں۔مذکورہ قانون کے تحت کوئی بھی متاثرہ فرد فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے نیشنل ریسپانس سنٹر برائے سائبر کرائم کی ویب سائٹ یا اس کی ہیلپ لائن 9911 پر کال کر کے شکایت درج کروا سکتا/سکتی ہے۔”فیس “کے مطابق خواتین کی ڈیجیٹل سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ آٹھ ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد خواتین کو تربیت فراہم کرنے کے علاوہ انٹرنیٹ اورسماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے محفوظ استعمال سے متعلق آگاہی دی جائے گی۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.