ac okara program on domestic violance 422

اوکاڑہ،گھریلو تشدد کے خاتمے کیلئےمثبت سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا،اسسٹنٹ کمشنررافعہ قیوم

اوکاڑہ ،اسسٹنٹ کمشنررافعہ قیوم نے کہا ہے کہ گھریلو تشدد کے خاتمہ کے لئے ذہنوں اور رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے مہذب معاشروں میں گھریلو تشدد کو سنگین جرم قرار دیا جاتا ہے ترقی یافتہ معاشرے خواتین کے جن حقوق کی بات کرتے ہیں دین اسلام میں 1400سال پہلے ہی یہ حقوق خواتین کو دے دئیے تھے اور ہمارے پیارے نبی ﷺ نے پوری دنیا کے لئے زندگی کیسے گزارتے ہیں کا عملی نمونہ پیش کیا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گھریلو تشدد کے خلاف عالمی دن کے موقع پر دار الامان میں16روزہ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، ۔انہوں نے کہا کہ جن گھروں میں لڑائی جھگڑا ،مار پیٹ اور گھریلو تشدد ہوتا ہے ان گھروں کے بچے یہ سب دیکھ کر تشدد آمیزرویے اختیار کرتے ہیں اور بڑے ہو کر نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وسائل ہوتے ہوئے بھی اپنے گھر کی خواتین پر خرچ نہ کرنا بھی گھریلو تشدد ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپنے حق کی بات کرنا کسی غیر کا ایجنڈا نہیں اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنا وقت کی ضرورت ہے دین اسلام نے ہر شخص کے حقوق اور فرائض متعین کر دئیے ہیں اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس موضوع پر بات کریں اور لوگوں کو آگاہی دیں کیونکہ بات کرنے سے ذہن بدلتے ہیں اور لوگوں کو شعور ملتا ہے انہوں نے کہا کہ خواتین کو مارنا پیٹنا ہی تشدد نہیں ہے اگر خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہ دیا جائے تو یہ بھی تشدد کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ذہنی اذیت جسمانی بیماریوں میں بدل جاتی ہے پر امن گھروں میں پروان چڑھے بچے مستقبل میں امن و محبت اور رواداری کے علم بردار بنتے ہیں ۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.