okara NA 141 politics 952

اوکاڑہ این اے 141 کی سیاسی صورتحال پر ایک نظر

تحریر:عبدالباسط بلوچ…
اوکاڑہ کی سیاست نظریاتی سےزیادہ حالاتی اور موسمیاتی ہوتی ہے جس قسم کا موسم اس طرز کے سیاستدان ،نظریہ مک مکا اس بد قسمت ضلع کے حصے میں آیا ہے ۔اس لیے کوئی بڑا نام ابھی تک نہ ایوانوں میں جا سکا ہے اور نہ اس کی کوئی امید نظر آتی ہے۔اس لیے ہر جماعت کی کوشش ہوتی ہے جو جتنا مقبول ہو اتنا ہی اس کو نواز کر سیٹیں پکی کی جا سکیں ۔اس لیے میں کہہ سکتا ہوں اہلیت کی بنیاد پر کم اور تعلق کی بنیاد پر زیادہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں۔ہر پارٹی میں وہی چہرے ہیں جن کو دیکھ دیکھ کر آنکھیں تھک چکی ہیں۔ن لیگ میں سارے قافی بٹیرے ہیں اور پی ٹی آئی بھی پپلی اور قافی باقیات ہیں ۔میں یقین سے کہہ سکتا ہو ان میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ کبھی اسمبلی کے فلور پر 5 منٹ گفتگو کر سکے ۔سب ووٹ ڈالنے والے انگوٹھا چھاپ ہیں ۔اب آتے ہیں ٹکٹس کی تقسیم اور موجودہ صورتحال پر ۔تحریک انصاف نے اپنے کچھ امیدوار فائنل کر لیے ہیں اور ن لیگ نے بھی اپنے پہلوان میدان میں اتار دیے ہیں ۔اب ہم ایک ایک کرکے ان کا جائزہ لیتے ہیں ۔این اے 141 جس میں پی ٹی آئی کے پیر سید صمصمام بخاری سابقہ پی پی پی اور ن لیگ کے ندیم عباس ربیرہ امیدوار ہیں ۔دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ دونوں کا آدھا آدھا حلقہ نیا ہے ایک طرف اگر ربیرہ صاحب مضبوط ہیں دوسری طرف صمصمام بخاری اپنا رسوخ رکھتے ہیں ۔اس حلقے میں مسعود شفقت ربیرہ بھی امیدوار تھے لیکن ٹکٹ نہ ملنے کیوجہ سے اب دوڑ میں کافی تھکے تھکے محسوس ہو رہے ہیں۔ لیکن اگر ریویو میں فیصلہ ان کے حق میں آیا تو ایک اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا.اس کے علاوہ پی پی پی کے کیپٹن مجتبی کھرل بھی بڑے زوروشور سے انتخابی مہم میں ہیں ۔ایک نیا لیکن ان سب کے لیے درد سر امیدوار بطور آزاد امیدوار نعمت بناسپتی والے خلیل الرحمان بھی میدان میں ہیں اور وہ کافی پر امیدہیں کہ وہ بھی ایک اچھا مقابلہ کریں گے ۔اگر آزاد امید واروں کو ایک طرف رکھ کرپارٹی ٹو پارٹی دیکھا جائے ندیم عباس اور صمصمام بخاری کا مقابلہ ہو گا ۔ندیم عباس کو اپنے سابق ایم این اے ہونے کا مان ہےاور انہوں نے علاقے میں کام بھی کیے ہیں اس کا کریڈٹ بھی لینا چاہتے ہیں لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ ان کو ایک ایم پی اے کی سیٹ تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق جو سپورٹ پچھلی بار ندیم عباس کو حاصل تھی وہی سپورٹ اس بار تحریک انصاف کے امیدوار کے ساتھ ہے ۔جس کی وجہ سے کافی بدلی صورتحال ہے ۔ندیم عباس کو اپنے ضلعی چئیرمین اور چئیرمین کونسل کا بھی مان ہے لیکن حالات اتنے سازگار نظر نہیں آ رہے ۔اب اگر ان کے نیچے ایم پی اے کا جائزہ لیں ن لیگ کی طرف سے ایک تو جاوید علاوالدین ہیں جو کہ کافی عرصہ سے اس علاقے سے آ رہے ہیں ۔وہ بھی اس بار اس طرح نہیں رہے کیونکہ عوام ان سے بھی کافی تنگ ہے بابا ضیاء الدین گروپ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی سپورٹ کرے گا اور کافی حلقہ نیا بھی ان کے لیے درد سر بنا ہواہے ۔ان کے مقابلے میں مہر جاوید پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں یہ نو وارد ہیں لیکن ان کو علاؤالدین مخالف ووٹ ملنے کا قوی امکان ہے ۔باقی اگر وہ ایڈجسمنٹ کر لیتے ہیں تو دیکھا جا سکتا ہے جیسے اکرم بھٹی اور عارف لاشاری کو منانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کافی بہتر مقابلہ ہو گا فی الحال ن لیگ کے ایم پی اے مضبوط ہیں ۔دوسری سیٹ پر غلام عباس ربیرہ ہیں اور ان کے مقابلہ میں پی ٹی آئی کے حماد اسلم پوری برادری کےساتھ میدان میں ہیں اب دیکھتے ہیں کیا صورتحال بنتی ہے ۔اس حلقےکا ایک اور اپ سیٹ ہوا ہے کہ رائے نور کو بالکل ہی سیاست سے بے دخل کر دیا گیا ہے عوام میں بھی ان کے بارے کچھ اچھی ہوا نہیں لیکن وہ جوڑ توڑ کے ماہر ہیں دیکھتے ہیں کیا حالات بنتے ہیں اگر وہ پی پی 190 میں اپنے بیٹے کو لاتے ہیں تو کافی ووٹ تقسیم ہو گا جس کا فائدہ تو پارٹیوں کو ہو گا۔ ندیم عباس ربیرہ نے اپنے پی پی کے حلقہ کو کافی نوازا بھی تھا اس لیے وہ مطمئن بھی ہیں کہ سیٹ ان کی ہے اس پر کام بھی کیا ہے یوں کہا جا سکتا ساری ایم این اے شپ اپم پی اے کی سیٹ پر لگا دی اس لیے وہ اس بارے میں پر امید بھی ہیں لیکن مسعودشفقت اگر آزاد ہی کھڑے ہوتے ہیں تو ووٹ تقسیم ہو گا ۔لیکن ایک بات ضرور ہے اب ن لیگ کے لیے اس طرح گراونڈ نہیں جس طرح وہ سمجھ رہے تھے۔غلام مجتبی کھرل بھی اپنے حصے کا ووٹ لے گا اس کا فرق بھی ندیم عباس کو پڑے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں