accidents in okara 384

اوکاڑہ میں غیر قانونی رکشوں کی بہتات اورٹریفک پولیس افسران کی غفلت سے حادثات میں اضافہ

اوکاڑہ ،ٹریفک پولیس کے ضلعی افسران کی مبینہ غفلت ماتحت عملہ کی لا پروائی موٹر سائیکل رکشاؤں کی تعداد بڑھ جانے سے حادثات میں خوفناک حد تک اضافہ ہو جانے سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہونے لگا رکشاؤں کے شور اور دھواں سے شہری بہر پن اور دمہ جیسے موذی مرض میں مبتلاء ہونے لگے اوکاڑہ شہر اور اس کی تینوں تحصیلوں میں چلنے والے غیرقانونی ہزاروں رکشاؤں چلتے پھرتے موت کے فرشتوں میں تبدیل ہو گئے ضلع بھر میں اندارون بازاروں اور لنک سڑکوں پر پیدل چلنا بھی وبال جان بن گیا تفصیلات کے مطابق اوکاڑہ شہر اور اس کی تحصیلوں دیپالپور ،رینالہ خورد قربی قصبات گوگیرہ ،منڈی احمد آباد ،شیر گڑھ ،حویلی لکھا ،حجرہ شاہ مقیم ،راجوال ،بصیر پور ،ینگ پور ،نول پلاٹ ،چوچک ،نول پلاٹ ،باماں بالا ،ہارنیاں والا سمیت درجنوں مقامات پر اس وقت پانچ ہزار سے زائد غیر قانونی موٹر سائیکل رکشہ چلائے جا رہے ہیں جن کو چلانے والے ڈرائیوں میں زیادہ تر تعداد چھوٹے بچوں کی ہے جن کے پاس ڈرائیونگ لائسینس تو درکنار شناختی کارڈ بھی نہیں ہوتا غیر قانونی طور پر موٹر سائیکل کو رکشہ کی شکل میں تبدیل کرتے ہوئے ان رکشاؤں کو ضلع بھر میں چلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے حادثات کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے متعدد انسانی زندگیوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ درجنوں افرادحادثات میں شدید زخمی ہو کے معذوری کی زندگیاں بسر کر رہے ہیں اس حساس نوعیت کے معاملہ پر ٹریفک پولیس کے ضلعی افسران کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے ٹریفک پولیس کی کار کردگی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے شہریوں نے آئی جی پنجاب عارف نواز خان ،ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب ،آر پی او ساہیوال طارق رستم چوہان اور ڈی پی او اوکاڑہ حسن اسد علوی سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی ٹریفک پولیس کی مبینہ غفلت کا نوٹس لیتے ہوئے غیرقانونی چلنے والے رکشاؤں کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات صادر کیے جائیں ۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.