punjab ki wahid pan chaki okara mai hai 919

اوکاڑہ میں موجود آٹا پیسنےوالی پنجاب کی واحد پن چکی کے بارے میں جانئے

تحریر:قاسم علی …
آٹا ہر گھر کی ضرورت اور برصغیر پاک و ہند میں کھانے کیلئے استعمال ہونیوالی سب سے بڑی جنس ہےعام طور پر آٹا پسوانے کے لئے بجلی،انجن یا ہاتھ سے چلنے والی چکی ہی استعمال کی جاتی ہے مگر نئی نسل اس بات سے شاید واقف نہ ہو کہ آٹا بجلی ہی نہیں بلکہ پانی سے چلنے والی چکی سے بھی پیسا جاسکتا ہےلیکن اب اس طریقہ کار کی بجائے جدید ترین مشینی چکیوں نے لے لی ہےلیکن ضلع اوکاڑہ میں آج بھی ایک چکی ایسی موجود ہے جو پانی سے چلتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اس نوعیت کی پنجاب میں واحد چکی ہے۔
اوکاڑہ میں ستگھرہ روڈ پر نہر کے اوپر موجود یہ چکی پچاس سالہ ذوالفقار احمد چلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ 1906ء میں پنجاب میں نہری نظام کے قیام کے بعد پنجاب میں پانی سے چلنے والی تین چکیاں لگائی گئیں جن میں سے ایک میاں چنوں دوسری سرگودھا اور تیسری اوکاڑہ میں لگائی گئی تھی تاہم میاں چنوں اور سرگودھا کی چکیاں اب بند ہوچکی ہیں تاہم ضلع اوکاڑہ کی یہ چکی تاحال فنکشنل ہے۔
ذوالفقار نے دیگر چکیوں کے بند ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کی دوبڑی وجوہات ہیں پہلی تو یہ کہ ان چکیوں کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ان عمارتوں کا تباہ ہوجانا اور دوسری عوام کی تیز رفتاری اور جلد بازی ہے جو بغیر انتظار کے فوری طور پر آٹا گھر لے جانا چاہتے ہیں کیوں کہ بجلی والی چکی دس منٹ میں ایک من آٹا پیس دیتی ہے جبکہ پانی والی چکی اتنا آٹا دو گھنٹے میں تیار کر پاتی ہے۔
“پانی سے چلنے والی اس چکی کی ملکیت حکومت کے پاس ہی ہے اور وہ اس کا ہم سے ٹھیکہ وصول کرتی ہے مگر اس اہم ورثے کی حفاظت کے لئے حکومتی اقدامات نہ ہونے کے باعث، چار کمروں اور ایک برآمدے پر مشتمل یہ بلڈنگ بھی زائد المیعاد ہوچکی ہے جو کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
functional pan chaki in okara
انہوں نے بتایا کہ قیامِ پاکستان سے پہلے اس چکی کاانتظام ہندوؤں کے پاس تھا۔
“میرے والد ملک عمر دین بھی راج ناتھ نامی ایک ہندو جو بعد میں مسلمان ہو گیا سے اس کو چلانے کا فن سیکھتے رہے اور 1960ء میں اس کی وفات کے بعد حکومت نے اس چکی کا ٹھیکہ مبلغ دوآنہ روزانہ کی بنیاد پر میرے والد کو دے دیا جو آج دو سو دس روپے روزانہ میں تبدیل ہوچکا ہے۔”
پانی کی چکی سے بنے آٹے کی افادیت بتاتے ہوئے ذوالفقار کا کہنا تھا کہ اس چکی سے بنا آٹا دنیا کا نمبرون اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہر جنس میں قدرتی طور پر آئل ہوتا ہے جو اس جنس کی غذائیت، طاقت اور ذائقے کا سبب ہوتا ہے مگر بجلی کی چکیاں اس آئل کو جلا دیتی ہیں جس کے باعث یہ تیار شدہ آٹا اپنی اصل ہیئت کھو بیٹھتا ہے۔
پانی کی چکی اس آئل کو بالکل نہیں جلاتی جس کی وجہ سے نہ صرف اس کی غذائیت برقرار رہتی ہے بلکہ یہ روٹی کئی دن تک بغیر ڈھانپے رکھنے سے بھی خشک نہیں ہوتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ آٹا شوگر، یرقان اور معدہ کے امراض میں مبتلا لوگوں کے لئے ان امراض سے چھٹکارے میں بھی بہت معاون ثابت ہوتا ہے۔
اس چکی کے چلنے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کو چلانے کے لئے نہری پانی کی ایک مخصوص مقدار کی ضرورت ہوتی ہے یہ پانی پتھر کی بنی بڑی بڑی سلیٹوں کے نیچے لگے پنکھوں کو اپنے پریشر سے چلاتا ہے جس سے آٹا پستا رہتا ہے جبکہ پریشر کم ہونے کی صورت میں اس کی سپیڈ کم ہوجاتی ہے اور جن دنوں نہر میں پانی نہیں ہوتا اس دوران ہم سے ٹھیکہ نہیں لیاجاتا۔
pakistan,s first water mil in okara
ذوالفقار کا کہنا ہے کہ یہ چکیاں نہ صرف ہمارا قیمتی ورثہ ہیں بلکہ پاکستان میں مختلف نہروں پر یہ چکیاں لگائی جائیں تو اس سے نہ صرف عوام کو بہترین آٹا کھانے کو مل سکتا ہے بلکہ اس سے بجلی کی بہت بھی بچت ہوسکتی ہے تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ مزید چکیاں لگانا تو دور کی بات حکومت کی مسلسل عدم توجہی کے باعث یہ قیمتی ورثہ اور سوسال پرانی چکی بھی آخری سانسیں لے رہی ہے۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ اس چکی کی حفاظت اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے اس کی بلڈنگ نئے سرے سے تعمیر کی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اب عمارت کی خستہ حالی کے باعث لوگوں کا رجحان اس چکی کی طرف کم ہوگیا ہے مگر اب بھی اس آٹے کے قدر شناسوں کی کمی نہیں اور لوگ دور دور سے گندم لا کر یہاں سے پسواتے ہیں۔
ساٹھ سالہ میاں امام دین دیپالپور کے رہائشی ہیں اور اپنی قابل رشک صحت کا راز اسی چکے کے آٹے کو گردانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہی اس چکی کا آٹا کھاتے آئے ہیں۔
ان کے والد ہرماہ اور پھر وہ خود ہر ماہ دانے پسوانے کیلئے اوکاڑہ باقاعدگی سے جاتے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس آٹے کے چھان کی بھاپ نزلے زکام کا بہترین علاج ہے اور یہ آٹا بہت ہی لیس دار ہوتا ہے جسے گوندھنے کیلئے بھی اضافی طاقت لگتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس آٹے کی روٹی کم از کم ایک ہفتہ تک بھی پڑی رہے تو بالکل تروتازہ رہتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں