chemists association ka shutter down 658

اوکاڑہ میں میڈیکل سٹوروں کی ہڑتال ،ڈرگ ایکٹ 2017ء اور ایک سوال

تحریر:قاسم علی
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ترمیمی آرڈیننس ڈرگ ایکٹ2017 واپس نہ لینے کے خلاف پورے پنجاب میں میڈیکل سٹوروں کی ہڑتال شروع ہوگئی ہے اس سلسلے میں ضلع اوکاڑہ میں مِلی جُلی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے یہاں پر اکثریتی میڈیکل سٹور مالکان نے پنجاب ڈرگز اینڈ کیمسٹس ایسوسی ایشن کی کال پر لبیک کہتے ہوئے اپنے شٹرڈاؤن رکھے ہیں اورگزشتہ رات بارہ بجے کے بعد سے ہی میڈیکل سٹور بند ہیں جس کے باعث مریضوں کو ادویات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے .ان میڈیکل سٹور مالکان کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ترمیمی آرڈینینس میں نرمی کرے گی مگر ایسا نہیں کیا گیا اور ہمیں دوبارہ ہڑتال کرنا پڑی ہے.تاہم اوکاڑہ ڈائری کے رپورٹرز کے مطابق کئی میڈیکل سٹور مالکان نے میڈیکل سٹور کھول رکھے ہیں جب اس بارے ان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ترمیمی آرڈیننس ڈرگ ایکٹ2017 میں چند ترامیم ضروری ہیں تاہم یہ معاملہ مزاکرات کے ذریعے حل کیاجانا چاہئے کیوں کہ سٹور بندکرنے سے کئی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے.
یادرہے پنجاب اسمبلی نے گزشتہ برس 8 فروری کوڈرگ ایکٹ بل منظور کیا تھا ،جس کےتحت غیر معیاری ادویہ سازی پر 6 ماہ سے 5 سال تک قیداور ایک کروڑ سے 5 کروڑ روپےتک جرمانہ ،کوالیفائیڈ پرسن کےموجود نہ ہونےپر30 دن سے 5 سال تک قید اور 5 لاکھ سے 50 لاکھ روپےتک جرمانہ کیاجاسکےگا،حکومت پنجاب کے جاری کردہ اس آرڈینینس کے خلاف دواؤں کےکاروبارسےوابستہ افراد نے فروری 2017ء میں بھی ہڑتال کی تھی جس کے نتیجے میں حکومت نے وعدہ کیا کہ جلد ہی اس آرڈینینس میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں گی مگر وعدہ پورا نہ ہونے کے باعث ڈرگز اینڈ کیمسٹ ایسوسی ایشن ایک بار پھر سڑکوں پر ہے.
اس حوالے سے عوام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی ہڑتالوں کے بعد میڈیکل سٹوروں کی ہڑتال کسی المیے سے کم نہیں مہذب معاشروں میں ایسی ہڑتالیں نہیں ہوا کرتیں حکومت کو چاہئے کہ کسی بھی قسم کی قانون سازی سے قبل اس سے متعلقہ افراد کو اعتماد میں ضرور لیا کرے اور باہم اتفاق سے قانون سازی کی جائے تو ایسی صورتحال ہرگز پیدا نہ ہو اوکاڑہ ڈی ایچ کیو کے سامنے میڈیکل سٹوروں کے بند ہونے کی وجہ سے پریشان ایک شخص نے اوکاڑہ ڈائری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی صورتحال کا تو سب کو پتا ہی ہے ایسے میں اکثر ادویات باہر سے ہی خریدی جاتی ہیں مگر وہ بھی اب بند ہیں اس نے ہڑتال کرنے والوں اور حکومت سے ایک چبھتا ہوا سوال کیا کہ اگر ادویات بروقت نہ ملنے سے کسی کا عزیز دنیا سے چلا جائے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں