depalpur khalid nagar education 752

اوکاڑہ کی نمبر ون تعلیمی رینکنگ اورسکول کا منتظرخالد نگر

قاسم علی…
جنوری میں مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ضلع اوکاڑہ نے تعلیمی رینکنگ میں پنجاب بھر کو ٹاپ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے اس وقت میرا بھی جی چاہا کہ میں بھی سی ای او ایجوکیشن میڈم ناہید صاحبہ کو پھولوں کا ایک گلدستہ پیش کرتے ہوئے اس اعلیٰ ترین کارکردگی پر بھرپور مبارکباد دوں اور پھر کچھ سیلفیاں بنا کر اپنی فیس بک وال پر اپ لوڈ کروں.
okara depalpur khalid nagar education news
مگر میری یہ خوشی اس وقت اڑن چھُو ہوگئی جب انہی ایام کے دوران میرا اسی ضلع کی تحصیل دیپالپور کے نواحی گاؤں خالدنگر جانا ہوا اور وہاں میں نے سکول کی وردی میں ملبوس بچوں کی ایک لمبی قطار کو ویران فصلوں کے درمیان سے گزرتے دیکھا ان کو دیکھ کر فوری میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہ قریبی کسی سکول کے طالب علم ہیں مگر میری تمام تر کوشش کے باوجود مجھے دور دور تک کسی سکول کی علامات نظر نہ آسکیں میرے استفسار پر معصوم بچوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں سکول موجود ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمیں چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے دوسرے گاؤں پڑھنے کیلئے جانا پڑتا ہے.
خالد نگر تحصیل دیپالپور کی ایک چھوٹی سے بستی ہے جس کی آبادی ایک ہزار کے لگ بھگ ہے مگر بدقسمتی سے یہاں پر کوئی سرکاری یا پرائیویٹ سکول نہیں ہے جس کی وجہ سے یہاں کے سینکڑوں بچوں کو یا تو تعلیم حاصل کرنے کیلئے چارکلومیٹر دور قصبے میں جانا پڑتا ہے یا پھر سرے سے سکول جاتے ہی نہیں۔
education department okara news
ڈاکٹر وحید خالد نگر کے رہائشی ہیں ان کا کہنا ہے کہ خالد نگر میں زیادہ تر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ رہتے ہیں جن کو روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کیلئےنکلنا پڑتا ہے ایسے میں چھوٹے بچوں کو سکول چھوڑنا اور لانا ان کیلئے خاصا مشکل ہوجاتا ہے جبکہ وہ ان کو اکیلےسکول بھیجنے کا رسک لے نہیں سکتے اسی مجبوری کے باعث کئی بچے زیور تعلیم سے محروم ہی رہ جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پھلرون کا سکول تین کلومیٹر اور املی موتی کا گورنمنٹ سکول 5کلومیٹر دور ہے۔
حاجی عبدالحفیظ کا کہنا ہے سکول ہمارے علاقے کی بنیادی ضرورت ہے سیاستدان ہر الیکشن میں ہم سے وعدہ تو کرجاتے ہیں مگر کامیاب ہونے کے بعد کسی کی جانب سے کوئی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں نہیں آئی۔
خالد نگر کے ہی ایک باسی جاوید احمد کا کہنا ہے کہ اس کے دو بچے ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ وہ پڑھیں مگر ان کو سکول چھوڑنے کیلئے نہ تو میرے پاس سواری ہے اور نہ ہی میرے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ ان کو خود سکول چھوڑنے اور لینے جاؤں کیوں کہ وہ علی الصبح مزدوری کیلئے نکل جاتا ہے اور شام کو گھر لوٹتا ہے۔
بارہ سالہ مزمل ریاض نے بتایا کہ وہ چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا کہ ایک دن سکول سے واپس آتے ہوئے حادثے میں اس کی ٹانگ فریکچر ہوگئی جس کے بعد میرے والدین نے مجھے سکول نہیں بھیجا اگر مقامی سطح پر سکول ہوتو میں اب بھی تعلیم جاری رکھ سکتا ہوں۔
ان بچوں نے اوکاڑہ ڈائری سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ وہ سکول میں آتے جاتے بہت تھک جاتے ہیں اور ساتھ ہی خوفزدہ بھی ہوتے ہیں کیوں کہ ہمیں آبادی سے دُور فصلوں اور کھیتوں سے گزرکرسکول جانا پڑتا ہے خاص طور پر گرمیوں میں ہمارے لئے چار کلومیٹر کا یہ فاصلہ طے کرناانتہائی مشکل ہوجاتاہے۔
میاں بشیر احمد مقامی کونسلر ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اپنے علاقے کے بچوں کو تعلیم کے حصول میں مشکلات کا پوری طرح احساس ہےمیں اپنے حلقے کی یہ آواز ضروراپنے چیئرمین اور ضلع کونسل تک پہنچاؤں گا ۔
میاں یار محمد وٹو یہاں کے بڑے زمیندار اور سابقہ ناظم ہیں
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دور میں محدود وسائل کے باعث سکول نہ بنوا سکے تاہم اب اگر حکومت یہاں پر سکول قائم کرے تو وہ اس کیلئے مفت جگہ فراہم کرنے کو تیار ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر امجد وحید نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دیہی علاقوں میں سکول قائم نہ کرنا ایک مجرمانہ غفلت ہوگی کیوں کہ اس طرح سینکڑوں بچوں کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے.
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کبھی پڑھالکھا پنجاب اور کبھی پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب جیسے نعرے تو سننے کو بہت ملتے رہتے ہیں مگر خالد نگر کو دیکھ کرایک بار پھر واضح ہوگیا ہے کہ حقیقت میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے.انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طورپر خالد نگر میں کم ازکم مڈل تک سکول قائم کرے اور جب تک سکول نہیں بنتا بچے جن سکولوں میں جارہے ہیں وہاں تک پہنچانے کیلئے انتظامیہ بچوں کو مفت ٹرانسپورٹ فراہم کرے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں