NA143 depalpur political situation 782

این اے 143میں فتح کی پگ کس کے سر سجے گی ؟

تحریر:قاسم علی…
جوں جوں الیکشن قریب آتے جارہے ہیں امیدواروں نے کامیابی کیلئے اپنی سیاسی جدوجہد تیزکردی ہے۔این اے 143دیپالپور میں تین پارٹیوں کے امیدواران آمنے سامنے ہیں۔
rao ajmal khan NA 143
راؤمحمداجمل خان۔
راؤمحمد اجمل خان کا خاندان دیپالپور کی سیاست میں ہمیشہ متحرک رہاہے ۔راؤمحمداجمل خان سے پہلے ان کے والد راؤمحمدافضل خان مرحوم اپنے وقت کے مقبول ترین سیاستدان تھے جس کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے نے 1988ء کے انتخابات میں اس حلقے سے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو شکست دی تھی۔راؤمحمد افضل مرحوم پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما تھے ۔ان کے بعدراؤمحمد اجمل خان نے 2002ء میں پہلا الیکشن راؤصفدر کے مقابلے میں جیتا اس میں انہوں نے آزاد حیثیت سے حصہ لیا تھا تاہم جیت کے بعد وہ پاکستان مسلم لیگ ق میں شامل ہوگئے۔اس کے بعد 2008ء کے عام انتخابات میں انہیں میاں منظور احمد خان وٹو نے شکست سے دوچار کردیا لیکن 2013 ء میں انہوں نے یہ قرض سود سمیت اتاردیا اور میاں منظور احمدخان وٹو کے 25000کے مقابلے میں انہوں نے 110000ووٹ لئے اس طرح وہ 85000ووٹوں کی ریکارڈ لیڈ سے فاتح رہے۔اب ایک بارپھروہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے شیر کے انتخابی نشان پرمیدان میں ہیں۔راؤمحمد اجمل خان اپنے دور میں ایگری کلچر یونیورسٹی دیپال پور کیمپس، نیو گرلز کالج، فلڈ لائٹ افضل منی اسٹیڈیم، ریسکیو1122 قیام، دیپال پور شہر میں ٹف ٹائل، 57 دیہات میں سوئ گیس کی فراہمی، حلقہ میں 100 سے200 کے وی کے 45 ٹرانسفارمرز، دیپال پور اور حجرہ میں 50 سے 100 کے وی کے 100 نئے ٹرانسفارمرز کی فراہمی، ماڈل اربن سب ڈویژن کا قیام، 11 نئے فیڈرز کی تنصیب، 30 کروڑ روے کی لاگت سے اپنے حلقہ کی یونین کونسلز میں نالی سولنگ سیوریج اور پلوں کی تعمیر، سینکڑوں کلو میٹر سڑکوں کی پختگی، دیپال پور میونسپل کمیٹی کی بلڈنگ کی تعمیر جیسے ترقیاتی کاموں کے کیساتھ الیکشن کیمپین پر نکلے ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بار بھی اپنی فتح کا سلسلہ برقرار رکھیں گے اور جیت ان کا مقدر بنے گی کیوں کہ انہوں نے عوام کیلئے بہت کام کیا ہے۔تاہم نئی حلقہ بندیوں کے بعدکوئے کی بہاول نامی قانونگوئی کے این اے 144میں چلے جانے کے بعد ان کی پوزیشن کو کافی فرق پڑا ہے کیوں کہ کوئے کی بہاول قانونگوئی نے گزشتہ مرتبہ ان کی جیت میں مرکزی کردار ادا کیا تھا.اس کے علاوہ یہاں اہم بات یہ بھی ہے کہ پانامہ سے لے کرمیاں نوازشریف کی نااہلی اور ایون فیلڈ فیصلے نے مسلم لیگ کی ساتھ کو بہت نقصان پہنچایا ہےجس کا خمیازہ ن لیگ کے تمام امیدواروں کو بھی بھگتنا پڑرہاہے تاہم اس کو بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا کہ ان سب مشکلات کے باوجود ن لیگ اپنا ووٹ بنک رکھتی ہے اور اگر 13جولائی کو نوازشریف اور مریم نواز کو گرفتار کرلیا جاتا ہے تو اس سے ن لیگ کو ملک بھر میں ہمدردی کا ووٹ بھی مل سکتا ہے جس سے دیگر امیدواروں کی طرح راؤمحمداجمل خان کو بھی بہت فائدہ پہنچے گا لیکن فی الحال انہیں سید گلزارسبطین کے ساتھ سخت مقابلے کا سامنا ہے.
NA 143 syed gulzar sibtain shah
سیدگلزارسبطین شاہ ۔
سیدگلزارسبطین شاہ نے حلقہ این اے 145سے 2002ء میں پاکستان مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑااور فاتح رہے ۔اس وقت وہ وفاقی وزیر بھی بنے انہوں نے اپنے دور میں رینالہ کو انڈرپاس بنوا کردیا اور گیس بھی رینالہ کے تقریباََ ہر حلقے میں پہنچائی ۔اس کے علاوہ ریسٹ ہاؤس کے قیام سمیت متعدد ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کی تکمیل کے باعث عوام میں بہت مقبول ہوئے تاہم 2008ء کے الیکشن میں انہیں سید صمصام شاہ بخاری نے شکست سے دوچار کردیا ۔اوراسی طرح 2013ء کے انتخابات میں ان کے کاغذات پانی چوری کے مقدمے کے باعث مسترد ہوگئے اور وہ الیکشن نہ لڑسکے ۔ان کے اس مقدے کے باعث اب کی بار بھی خدشہ تھا کہ وہ الیکشن نہیں لڑسکیں گے مگر ہائیکورٹ کی جانب سے ان کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے ان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ہے اور وہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں اور ان کا انتخابی نشان بلا ہے ۔راؤمحمد اجمل خان کی طرح نئے حلقہ کی وجہ سے ان کوبھی کیمپین میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے تاہم دیپالپور شہر اور نواحی علاقوں سے بڑے دھڑوں ،برادریوں اور علمائے کرام کی حمائت کے بعدان کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف عوام کی مقبول ترین جماعت بن چکی ہے اور امیدوار کوئی بھی ہو جیت اس کا مقدر بنے گی ۔ان کا کہنا ہے کہ پانامہ اور اب ایون فیلڈ کیسز میں ن لیگ کے خلاف فیصلوں نے ان کی جیت یقینی بنا دی ہے۔پی ٹی آئی کے حامیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ راؤمحمداجمل خان کئی ماہ سے اپنی کیمپین جاری رکھے ہوئے ہیں مگر سیدگلزارسبطین نے صرف دوہفتوں میں حساب کتاب برابر کردیا ہے اوراگلے چندروز میں سیدگلزار سبطین شاہ راؤمحمداجمل خان کو بہت پیچھے چھوڑ دیں گے.
NA 143 depalpur javaid kanwal chandoo
چوہدری جاوید کنول چنڈور۔
چوہدری جاوید کنول چنڈور ایک صحافی ہیں اور تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔یہ عام انتخابات میں ان کی پہلی انٹری ہے تاہم وہ پرامید ہیں کہ دیپالپور میں کثیر تعداد میں موجودمذہبی طبقہ ان کو سپورٹ کرے گا ۔تحریک لبیک یا رسول ﷺ کرین کے انتخابی نشان پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جیت کا ہمہ ان تینوں میں سے کس کے سر بیٹھتا ہے ؟عوام کو اس کیلئے 25جولائی تک انتظار کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں