qasabon ne awam ki khal atarna shru kr di 725

بچوں کی عید کا زمانہ ہوا پُرانا،اب حقیقت میں عید کس کی ہوتی ہےجانئے اس تحریر میں

تحریر:قاسم علی…
ایک وقت تھا جب کہاجاتا تھا کہ صاحب عید تو بچوں کی ہوتی ہے مگر موجودہ دور میں جب میں نے کچھ چیزوں کو غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اب شائد یہ حقیقت نہیں رہی یا کم از کم یوں کہاجاسکتا ہے کہ بچوں کیساتھ ساتھ عید کی خوشیوں میں کچھ اور طبقات بھی شریک ہوگئے ہیں اوکاڑہ ڈائری کے سروے کے مطابق بچوں کے بعد جس طبقے کی واقعی عید ہوتی ہے وہ ہے ہمارے قصاب بھائیوں کا طبقہ جنہوں نے عید پر جانوروں کیساتھ ساتھ عوام کی کھال بھی اتارنا شروع کردی ہے.دنیا بھر میں ہر تہوار کے موقع پر نہ صرف حکومتوں کی جانب سے عوام کیلئے خصوصی ریلیف کا اہتمام کیا جاتا ہے بلکہ کاروباری شخصیات بھی حتی الوسع اپنے شہریوں کو انتہائی رعائت کیساتھ اشیائے خوردونوش فراہم کرتے ہیں مگر پاکستان کا باواآدم ہی نرالا ہے جہاں تہواروں اور مقدس ایام کو سیزن بنالیا جاتا ہے اور ہر چیز کے ریٹس کئی گنا بڑھادئیے جاتے ہیں۔مہنگائی کے اس طوفان میں قصاب حضرات سب سے آگے نظرآتے ہیں جنہوں نے سرکاری طورپر دئیے گئے نرخوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی من مرضی کے ریٹس مقرر کردئیے ہیں ۔اوکاڑہ ڈائری کے سروے کے مطابق بڑا گوشت 400سے 450روپے تک بیچا جارہاہے جبکہ بکرے کا گوشت 900روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ سرکاری طور پر بڑے گوشت کے نرخ 350روپے مقرر ہیں اسی طرح بکرے کا گوشت بھی ڈیڑھ سے دوسو روپے زائد قیمت پر بیچا جارہاہے ۔عوام نے اوکاڑہ ڈائری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قسابوں کی جانب سے من مانے ریٹس وصول کرنا پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کھلی ناکامی ہے جس کا حکام بالا کو سخت نوٹس لینا چاہئے۔بلکہ بعض افراد نے تو یہ بھی کہا کہ مہنگائی کا سبب پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی قصابوں کیساتھ ملی بھگت بھی ہوسکتی ہے۔عوام نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ رمضان بازار کے دوران سرگرم نظرآنے والے پرائس کنٹرول افسران اب کہاں ہیں جب ان کی ضرورت تھی ۔عوام نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ سے اپیل کی ہے کہ پرائس کنٹرول افسران کی چھٹیاں منسوخ کرکے سرکاری نرخوں کے نفاذ کو یقینی بنایاجائے۔
transporters ki eid per chandi
دوسرا طبقہ جو عید کا بڑی شدت سے منتظر رہتا ہے وہ ہیں ہمارے ٹرانسپورٹر حضرات جو ان دنوں کرائیوں میں ہوشربا اضافہ کرڈالتے ہیں اور چونکہ پردیسیوں نے واپس اپنے گھروں کو لوٹنا ہوتا ہے اس لئے ان کی کھال دونوں ہاتھوں سے اتار کر ان کی مجبوری سے خوب فائدہ اٹھایا جاتا ہے.اور ایسا سالہاسال سے ہورہاہے مگر حکومتی سطح پر اس سلسلے کو روکنے کیلئے کبھی سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئی ہیں.تاہم مسافروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی اس کھلے عام بدمعاشی اور بھتہ خوری کو روکا جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں