pti ticket announcements 1,319

تحریک انصاف NA 143 اور pp 187 دیپالپور میں ٹکٹوں کی تقسیم میں تاخیر کا شکار کیوں ؟

تحریر:قاسم علی…
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک میں انتخابات کیلئے 25جولائی کی تاریخ مقرر کردی ہے۔جس کے بعد تمام پارٹیاں اپنے مضبوط امیدواروں کو میدان میں اتاررہی ہیں ۔جس کیلئے ٹکٹوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اگرچہ زیادہ تر حلقوں کیلئے ٹکٹوں کا اعلان کردیا گیا ہے تاہم ابھی کئی حلقوں پر غور و خوض جاری ہے ان حلقوں میں دیپالپور پی پی 187اور این اے 143کے حلقے بھی شامل ہیں ۔
حلقہ این اے 143سے پی ٹی آئی کیلئے چار امیدواروں نے ٹکٹ کیلئے اپلائی کررکھا ہے جن میں سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری راؤ قیصرعلی خان مرحوم کے بھائی راؤصفدرعلی خان،سید عباس رضا رضوی،سردار شہریار موکل اور سید گلزارسبطین شامل ہیں ۔جبکہ پی پی 187کیلئے رانا طارق ارشاد خان جو کہ پی ٹی آئی ضلع اوکاڑہ کے صدر بھی ہیں اور ڈاکٹر امجد وحید ڈولہ کے درمیان ٹکٹ کیلئے مقابلہ ہے ۔
این اے 143کا جائزہ لیں تو تین کا تعلق دیپالپور سے ہے اور ایک کا تعلق شیرگڑھ سے ہے ۔دیپالپور سے تعلق رکھنے والے امیدواران سردار شہریار موکل،سیدعباس رضا رضوی اور راؤ صفدر ہیں مگر نئی حلقہ بندیوں کے بعد راؤصفدر علی خان بھی مظہرآباد میں چلے گئے اس طرح پی ٹی آئی ورکرز کے مطابق ٹکٹ کیلئے سیدعباس رضا رضوی اور سردار شہریار موکل زیادہ موزوں امیدوار بن گئے تاہم ان میں سے بھی سردار شہریار موکل کو زیادہ فوقیت اس لئے ہے کہ وہ نوجوان اور زیادہ سرگرم ہیں اور گزشتہ کچھ عرصہ سے انہوں نے حلقہ بھر میں ہنگامی دورے کرکے پارٹی کیلئے بہت کام کیا ہے جبکہ سید عباس رضا رضوی اگرچہ علاقے میں بہت احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں مگر وہ فیلڈورکر نہیں ہیں اور یہ چیزیں پارٹی کی اعلی قیادت کی نظر میں بھی ہیں۔
NA 143,PP 187 POLITICS NEWS
اسی لئے سردار شیریار موکل اس حلقہ سے موسٹ فیورٹ امیدوار ہیں مگر سید گلزار سبطین شا ہ کی جانب سے پارٹی ٹکٹ کیلئے اپلائی کرنے سے مقابلہ سخت ہوگیا کیوں سید گلزار سبطین ایک بڑا نام ہے جو اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن میں رہے اور اپنے سابقہ دور میں شیرگڑھ اور رینالہ میں بہت ترقیاتی کام کرواکرعوام میں خاصے مقبول ہیں۔لیکن اس کیساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دیپالپور سے دور ہونے کی وجہ سے ان کی اس حلقہ سے کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے اور اسی بات کے پیش نظر پارٹی ٹکٹ کیلئے دیپالپور سے سرگرم رہنماؤں نے سید عباس رضا رضوی کی رہائشگاہ پر ہنگامی اجلاس بھی کیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹکٹ دیپالپور سے باہرکسی صورت نہیں جانے دیا جائے گا اور اگر ایسا کیا گیا تو ہمارے لئے اس کو سپورٹ کر مشکل ہوگا۔اس اجلاس کی خبر بھی لازمی طور پر اعلیٰ قیادت کے علم میں ہے ۔
ابھی یہ معاملات چل رہے تھے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور پیپلزپارٹی کے مرکزی نائب صدر میاں منظور احمدوٹو کی جانب سے بھی پی ٹی آئی میں شمولیت خبریں عام ہوگئیں ہیں۔اوربات یہاں تک چلی گئی کہ پی ٹی آئی میاں منظور احمدوٹو کو این اے 143اور این اے 144کا ٹکٹ دے رہی ہے۔
لیکن دوسری جانب مشکل یہ ہے کہ میاں منظور احمد وٹو جیسی بڑی شخصیت کی پی ٹی آئی میں شمولیت پر اعلیٰ سطح پر شادیانے تو شائد بجانا تو شائد ٹھیک ہو مگر مقامی قیادت اور پی ٹی آئی کے پرانے ورکرز نے پارلیمانی بورڈ کو یہ واضح پیغام پہنچادیا ہے کہ منظور وٹو کو پارٹی ٹکٹ دینے کے فیصلے کو ورکر ہرگز قبول نہیں کریں گے۔یہی وجہ ہے کہ ان کو بھی فی الحال ٹکٹ نہیں دیا گیا ہے۔
pti tickets for NA 143,PP 187
پی پی 187کی ٹکٹ پر بھی تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کیوں کہ ایک طرف رانا طارق ارشاد خان امیدوار ہیں جو کہ نہ صرف پارٹی کے ضلعی صدر ہیں بلکہ سابقہ انتخابات میں انہوں نے اٹھارہ ہزار سے زائد ووٹ بھی لئے تھے ۔مگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کیلئے اسی سیٹ کیلئے امیدوار ڈاکٹرامجدوحید ڈولہ کو نظرانداز کرنا بھی مشکل ہے جو کہ نہ صرف پی ایچ ڈی سکالر ہیں بلکہ اپنی ڈھائی سالہ محنت ،اپنے اصلاحی و ترقی پسندانہ نظریات اور ملکی و عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے کے باعث انتہائی مقبول رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔اور اگر پی ٹی آئی واقعی تبدیلی کانام ہے تواسےاس کیلئے ایسے ہی قابل لوگوں کی ضرورت ہے جو پالیسی میکنگ اور قانون سازی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں تا کہ ملک بحرانوں سے نکل کر خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے ۔آج اسمبلیوں میں ایسے لوگوں کے نہ ہونے کا شاخسانہ پوری قوم بھگت رہی ہے.
بہرحال وقت بہت کم ہے اور مقابلہ بہت سخت پارٹی کو اس حلقے کے بارے میں جلد از جلد فیصلہ کرلینا چاہئے تا کہ امیدواران الیکشن کیمپین بروقت شروع کرسکیں اور ورکرز کی کنفیوژن بھی دور ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں