social media can change the society 331

تعمیرمعاشرہ میں سوشل میڈیا کا کرداراور جرنلسٹ فرینڈز گروپ اوکاڑہ

تحریر:قاسم علی

میڈیا کو بجا طور پرریاست کا چوتھا ستون کہاجاتا ہے جو معاشرے کی آنکھ کا کردار ادا کرتے ہوئے انتظامی اداروں کے سامنے عوام کے سلگتے مسائل کو پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے رکھتا رہتا ہے اس طرح عوام کو انصاف کی فراہمی،قانون کی عملداری اور امن و امان کے قیام میں بہت مدد ملتی ہے ۔ ملکی ترقی میں میڈیا کے کردارپر بات سے پہلے ہ میں یہ سوچنا ہوگا کہ ملک ترقی کرتا کیسے ہے اور میرے خیال میں ملک ترقی اس وقت کرتا ہے جب اس کے باسی باشعور ہوں ،اپنا حق پہچانتے ہوں ،ملکی قوانین کا احترام کرتے ہوں ،اپنی مذہبی روایات کی پاسداری کرنے کیساتھ ساتھ دیگر مذاہب اور ان کے پیروکاروں کا بھی احترام کرتے ہوں ،ملک کو درپیش تمام مسائل کی جڑ حکمرانوں کو قرار دینے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو بھی بحسن و خوبی سرانجام دیتے ہوں تو ایسے معاشرے اور ایسی معاشرت ملکی ترقی کیلئے زینے کا کام سرانجام دیتی ہے جو قو میں ان چیزوں کا خیال رکھتی ہیں انہیں ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ اب آتے ہیں میڈیا کی طرف کہ وہ کیا کردار ادا کرسکتا ہے تو آدھی بات تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے میڈیا کو یہاں ایک ٹیچر کا کردار ادا کرنا ہوگا جیسا کہ میرے ہمنام اور میرے فیورٹ گریٹ موٹیویشنل سپیکر سیدقاسم علی شاہ صاحب کہتے بھی ہیں کہ میڈیا بالکل ایک ٹیچر کی طرح ہوتا ہے کیوں کہ جس طرح ایک استاد اپنے الفاظ سے بچوں کو سکھاتا ہے بالکل اسی طرح میڈیا معاشرے پر اثرانداز ہوتا ہے ۔ میڈیا صرف خبر دینے کا نام نہیں ہے بلکہ میڈیا ایک opinion makerکا کردار ادا کرتا ہے جس سوچ کا اظہار ہمارے اخبار،ہمارا الیکٹرونک و سوشل میڈیا پر ہوتا ہے وہی کچھ ہمارے معاشرے میں نظر آتا ہے ۔ اس لئے میڈیا پر یہاں بہت بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کی سمت کودرست کرنے کیلئے اپنا رول پلے کرے ۔ کیوں کہ وہ کروڑوں لوگوں پر اثرانداز ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر جو ایک تجزیہ حامد میر کے پروگرام میں کسی ٹاپک پر پیش کیا جاتا ہے وہ صرف ایک میزبان اورپروگرام کے دو تین مہمانوں تک محدود نہیں ہوتا وہ اگلے دن لاکھوں لوگوں کی رائے بن چکا ہوتا ہے ۔ نوائے وقت میں لکھا جانیوالا اداریہ یا ایکسپریس میں لکھا جانیوالا جاوید چوہدری کا کالم ہزاروں لوگ اپنی باتوں میں کورٹ کرتے ہیں آپ ان سب کو ایک طرف رکھیں ایک ایسا بندہ جو فیس بک پر اکاوَنٹ ہولڈر ہے وہ بھی اپنی وال پر لگائی گئی پوسٹوں کے ذریعے کم از کم پانچ ہزار لوگوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے کیوں کہ فیس بک نے پانچ ہزار فرینڈز کی لمٹ رکھی ہے اور اتنے فرینڈز تقریباََ سب کے ہی ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی ہزاروں لوگ ہماری فالوانگ لسٹ میں بھی ہوتے ہیں تو اگر ایک فیس بک اکاوَنٹ رکھنے والا بندہ اگر اپنی اس طاقت کو صحیح طریقے سے مینج کرے تو وہ اس کے ذریعے معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی لاسکتا ہے اس ملک کی ترقی میں اپنا بڑا کردار ادا کرسکتا ہے ۔ مختصر یہ کہ میڈیا معاشرتی اور ملکی ترقی کو ہی نہیں بلکہ عالمی امن میں بھی انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے ۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مشن کی ابتدا کیسے کی جائے تو سب سے پہلے مجھے خود پازیٹو ہونا پڑے گا تبھی میں معاشرے میں مثبت رویوں اور اقدار کوپروان چڑھا نے میں موثرکردار ادا کرسکتا ہوں ۔ اس کے بعد وقت کیساتھ ساتھ ایجاد ہونیوالے کمیونیکیشن کے نت نئے ذراءع سے بھی بخوبی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے وٹس ایپ بھی انہی میں سے ایک ہے جس نے صرف ٹیکسٹ کی شکل تک محدود میسجز کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے اور اب وٹس ایپ کے ذریعے ہم نہ صرف آڈیو اور وڈیو پیغام بھی دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں بلکہ ہر طرح کی فائلز کا تبادلہ بھی کیا جاسکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وٹس ایپ ہ میں گروپ کنورسیشن کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے یعنی ہم اس وٹس ایپ میں اپنی فیلڈ کی مناسبت سے ایک گروپ بنا کر باہمی تبادلہ خیالات اور ایک طرز کی آن لائن میٹنگ کا انعقاد بھی کرسکتے ہیں ۔ اس طرح ایک طرف تو دوستوں کے مابین دوری ختم ہوتی ہے تو دوسری جانب سب کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کا بھرپور موقع بھی میسر آتا ہے ۔ لیکن یہ تو تصویرکا ایک رخ ہے کیوں کہ اکثر اوقات یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ سوشل میڈیا پر وقت کا ضیاع بہت ہوتا ہے مگر ہم تعمیرمعاشرہ اور مثبت صحافتی اقدار کیلئے اپنی سی کوشش تو کرسکتے ہیں ۔ تو بسم اللہ کیجئے آپ جہاں کہیں بھی رہتے ہیں ایک وٹس ایپ گروپ بنائیں اور اس میں اپنی تحصیل یا ضلع کے ایسے لوگوں کو ایڈ کریں جو آپ کے خیال میں مثبت صحافتی اقدارکے ذریعے تعمیرمعاشرہ میں بہتر کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہیں پھر اس گروپ کے ذریعے باہمی روابط اور محبت و آتشی کا پیغام پھیلانے کی ابتدا کیجئے خیال رہے کہ اس گروپ میں خبروں ،سیاست اور دیگر امور پر بات چیت نہ کی جائے کیوں کہ اس سے بحث مباحثہ کی راہیں کھلیں گی اور گروپ چند دنوں میں ہی ناکام ہوجائے گا اس کی بجائے ابتدائی طور پر تعارف،حال احوال ،ادب و احترام کو فروغ دیا جائے اور اگر آپ صحافی ہیں تو صحافت بارے سیکھنے سکھانے پر گفتگو پربھی فوکس کیا جائے اس چھوٹی سی کوشش کے آپ کو حیرت انگیز اثرات ملیں گے ۔ تھوڑے ہی دنوں میں گروپ ممبرز کود کہیں گے کہ اس گروپ کے ذریعے وہ ان لوگوں سے بھی با آسانی بات چیت اور خیالات سن رہے ہیں جو ہم ایک شہر میں رہتے ہوئے بھی برسہا برس سے نہیں سن پائے تھے اس کے بعد انشا اللہ مزید بہتر آئیڈیاز آپ کو ملتے رہیں گے جن پر عملدرآمد سے آپ اپنی قلم اور کیمرے کے ذریعے واقعی معاشرے میں بہت بہتری لاسکیں گے ۔ اس سلسلے کی ایک کوشش ضلع اوکاڑہ میں کی جارہی ہے جہاں حویلی لکھا کے سینئر صحافی رانا ظفراقبال ظفر صاحب نے جرنلسٹ فرینڈزوکاڑہ کے نام سے ایک وٹس ایپ گروپ بنایا جس میں ضلع بھر سے سو سے زائد صحافی دوست شامل ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ ان صحافیوں کا تعلق مختلف پریس کلبوں اور صحافتی تنظیموں سے ہوتا ہے مگر وہ گروپ میں ایک فیملی کی طرح رہتے اور بات چیت کرتے ہیں یہی نہیں بلکہ اس گروپ ممبرز کی فزیکلی ملاقاتیں بھی شروع ہوچکی ہیں پہلی میٹنگ ضلع اوکاڑہ کے نامور صحافی عباس جٹ کی میزبانی میں منعقد ہوئی ۔ گروپ کے باقاعدہ قواعد و ضوابط بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے گروپ میں غیراخلاقی ،متنازعہ اور غیر ضروری طور پر کسی کی نجی زندگی کو موضوع گفتگو بنانے کی ہرگز اجازت نہیں ہوتی ۔ ہرروز اس گروپ کا ایک نیا میزبان ہوتا ہے جو گروپ ممبرز کو روزانہ ایک ٹاپک دیتا ہے جس پر سب گفتگو کرتے ہیں اور اپنا نالج شیئر کرتے ہیں یہ اور اس جیسے مزید قواعد آپ بھی اپنے گروپ کیلئے بناسکتے ہیں ۔ تو پھر دیر کیسی ابھی شروع کیجیے اور معاشرتی اصلاح میں اپنا کردار ادا کیجئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں