398

اوکاڑہ میں بچوں کے اغواء کی کچھ افواہوں کا احوال

تحریر:قاسم علی

کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں تو نہیں ہوتے مگر یہ پھیلتا بڑی تیزی سے ہے ایسا ہی کچھ عرصہ قبل ضلع اوکاڑہ کے مختلف علاقوں میں بھی ہوا جب یکے بعد دیگرے اوکاڑہ دیپالپور اور شیرگڑھ میں بچوں کے اغوا کی خبریں گردش کرنے لگیں جن کو لے کر سوشل میڈیا نے ایسی آگ لگائی کہ علاقے بھر میں خوف و ہراس کی ایک فضا قائم ہوگئی خصوصاََ خواتین نے بچوں کیلئے گلی محلے میں جانا بھی اس طرح ممنوع قراردے دیا جیسے یہاں کرفیو لگا ہو۔
ہوا کچھ یوں کہ دوروز قبل پہلے شیر گڑھ میں پولیس کو اطلاع ملی کہ موضع 21ون اے ایل میں دو اگوا کاروں کو دیکھا گیا ہے جنہوں نے بچے اٹھا رکھے تھے اور وہ عورتوں کے شور مچانے پر قریبی فصل میں چھپ گئے ہیں پولیس ایس ایچ او یعقوب بھٹی کی قیادت میں موقع پر پہنچ گئی اور کماد کی فصل سمیت اردگرد سب گاؤں کو مکمل چھان مارا مگر اغواکار ہوتے تو ملتے ایس ایچ او یعقب بھٹی نے کہا کہ یہ محض ایک افواہ تھی کوئی بچہ اغوا نہیں ہوا اور نہ ہی ایسی کوئی رپورٹ درج کروائی گئی ہے۔
اس کے بعد دیپالپور میں بھی تین بچوں کے اغوا کی اطلاعات نے شہر میں تھرتھلی مچائے رکھی خاص طور پر ایک مدرسے میں زیر تعلیم دو طالب علم بھائیوں علی شان اور قربان کی گمشدگی نے سوشل میڈیا پر بہت شہرت حاصل کی ڈی ایس پی دیپالپور سرکل محمد طارق ملک موقع پر پہنچے مدرسہ کی انتظامیہ نے بھی ان کی گمشدگی کی تصدیق کی مگر یہ بھی معاملہ بالکل الٹ نکلا۔
اس کیس کا ڈراپ سین یہ نکلا کہ 55ڈی کے غلام مصطفیٰ کے یہ دونوں بیٹے سات سالہ علی شان اور پندرہ سالہ قربان علی مدرسہ رحیمیہ میں زیر تعلیم تھے اس روز یہ بچے اپنی مرضی سے باہر آم خریدنے کا کہہ کر نکلے مگر واپس آنے کی بجائے فرید کوٹ میں اپنے ماموں کے پاس چلے گئے اسی دوران ہی مدرسہ انتظامیہ نے بچوں کے واپس نہ آنے پر ان کی تلاش شروع کردی اور کسی طرح یہ بات سوشل میڈیا تک پہنچ گئی کئی صحافیوں اور شہریوں نے اس بارے فرضی داستانیں اپ لوڈ کرنا شروع کردیں۔
مگر اس شوروغوغا کے بعد جب بچوں کے ماموں نے انہیں اپنے باپ کے پاس پہنچا دیا تو بچے کے والدین نے تھانہ میں فون کرکے بتایا کہ ہمارے بچے بخیریت گھر پہنچ گئے ہیں۔


اس ضمن میں ایس ایچ او سٹی مہر محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ بچوں کے اغوا کی یہ داستان بالکل غلط دیپالپور میں کسی بھی جگہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تاہم خدا نخواستہ اگر ایسا کچھ ہوا بھی تو ہم اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
اسی طرح تھانہ بی ڈویژن اوکاڑہ میں بھی مقدمہ نمبر451/16درج ہوا جس میں زیب ولد شہزاد کے اغوا کی داستان تھی جس پر پولیس فوری ایکشن میں آئی اور ایس ایچ او صبغت اللہ نے کافی تگ و دو کے بعد جب اس بچے کو 40جی ڈی سے برآمد کیا تو حقیقت یہ سامنے آئی کہ اس بچے کو اس کے والد نے ہی یہاں پر چھپا رکھا تھا۔
دیپالپور میں افواہ سازی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے آج سے بارہ سال قبل بھی ایسی افواہیں بڑے زوروشور سے پھیلیں کہ دیپالپور میں کوئی ایسا گروہ آیا ہوا ہے جو بچوں کو اغوا کرتا ہے اور پھر ان کے جسمانی اعضاء نکال لیتا ہے مگر ان جھوٹے افسانوں کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی ثابت نہ ہوسکا۔
جب اس بارے ہم نے پولیس تھانہ صدر کے ایس ایچ او ملک طارق صاحب سے پوچھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بچوں کے اغوا کے کتنے مقدمات درج ہوئے ہیں تو ان کا کہناتھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نامعلوم افراد کی جانب سے بچوں کے اغوا کا کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے حالیہ اطلاعات افواہیں ہی ہیں۔

جامعہ ریاض الجنۃ کے مہتمم مولانا حسان صدیقی کا کہنا تھامدارس میں بچوں کی تعلیم کیساتھ ساتھ ان کی تفریح کا بھی خیال رکھا جاتا ہے مگر چھوٹے بچوں کو مدرسہ کے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جانے چاہئے کیوں کہ بچوں کا اغوا ہونا ایک حقیقت بھی ہے اس کیلئے احتیاط کی ضرورت ہے۔

spread a number in okara

تبسم پروین نے کہا ہے کہ والدین کو بچوں کی تربیت میں اغوا کاروں کے چنگل سے بچنے کی تدابیر سے آگاہ کرنا بھی شامل کرنا چاہئے کیوں کہ ایک بچے کے اغوا ہونے کا درد سب سے زیادہ ایک ماں ہی محسوس کرسکتی ہے
سوشل میڈیا پرافواہ سازی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی مختار احمد چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا کمیونیکیشن کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن اس کیساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس پر کوئی بھی چیز اپ لوڈ کرنے سے پہلے اس کی مکمل جانچ کرلی جائے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط خبروں کی ایک وجہ فیس بک پر زیادہ سے زیادہ لائیکس کمنٹس اور ہر خبر کو پہلے بریک کرنے کا جنون بھی ہے جو کہ بغیر تحقیق کے ہی اپ لوڈ کردی جاتی ہیں۔
چراغ سکول سسٹم کے سربراہ چوہدری کاشف کا کہنا تھا کہ بچوں کے والدین اگر بچوں کو خود سکول چھوڑنے اور لے جانے کا کام کرلیا کریں تو اس سے نہ صرف بچوں کے اغوا کے واقعات پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ اس سے بچے سکول انتظامیہ اور والدین میں کوآرڈینیشن بھی مزید مضبوط ہوسکتی ہے جس سے بچوں کی پڑھائی پر بہت مثبت اثر پڑے گا۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.