live stock okara news 392

حجرہ شاہ مقیم ،محمد عبداللہ فردوسی صحافتی یونیورسٹی کی مانند تھے انکی موت بڑا سانحہ ہے،راؤمشتاق قادرخان

حجرہ شاہ مقیم (نعیم غوری سے)محمد عبداللہ فردوسی صحافتی یونیورسٹی کی مانند تھے انکی موت بڑے سانحہ سے کم نہیں،خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی سینئرز کی قدر و قیمت کا اندازہ ا ن کے چلے جانے کے بعد ہوتاہے ،ہمیں پنے بڑوں کے تجربات سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے ، ان خیالات کا اظہار ضلعی صدر ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹس اوکاڑہ راؤ مشتاق قادر خاں نے سٹی پریس کلب کنگن پور کے چیئرمین محمد عبداللہ فردوسی مرحوم کی یاد میں منعقدہ ایک پروقار تعزیتی ریفرنس کے دوران کیا جس کااہتمام مقامی میرج ہال میں کیاگیاتھا جس میں مقامی صحافیوں کے علاوہ دیگر مقامات سے صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی انہوں نے کہاکہ فردوسی مرحوم کی شعبہ ء صحافت کیلئے گراں قدر خدمات ہیں انہوں نے عمر بھر صحافتی حقوق کی پاسدار ی کی اور مثبت صحافت کو فروغ دینے میں اہم کرداراداکیا انہوں نے ہمیشہ تنظیم واتحاد پر زور دیااور آزادی صحافت پر کسی قدغن کو برداشت نہیں کیا انکی ناگہانی وفات سے جہاں کنگن پور کے صحافتی حلقوں میں ایک نہ پر ہوجانے ولا خلاء پید اہوگیاہے وہاں صحافی برادری ایک مدبر دور اندیش اورقابل صحافتی شخصیت سے بھی محروم ہوگئی ہے، انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے سینئرز کی قدر کرنی چاہیے اور ان کے تلخ و شیریں تجربات سے استفادہ حاصل کرناچاہیے، انہوں نے صحافیوں کے اتحاد و یگانگت کی ضرورت پر بھی زور دیااس موقعہ پر انہوں نے صدر سمبڑیال پریس کلب ذیشان عرف شانی بٹ کے قاتلوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچانے کامطالبہ کیااور کہا کہ اس سلسلہ میں ملک بھرکے صحافی سراپااحتجاج ہیں اور صحافتی فرائض کی بجا آوری کے دوران جان کا نزرانہ پیش کرنے والے ذیشان بٹ نے بلاشبہ شہادت کا رتبہ پاکر اپنے ورثاء اور صحافیوں کے سر فخرسے بلند کردئیے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں