world tax day 10 april 504

حکومت اعتماد اور تحفظ دے،عوام ٹیکس دیں گے

تحریر:قاسم علی…
ٹیکس ادا کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہوتی ہے کیوں اس ٹیکس سے ہی نظام مملکت چلتا اور عوام کو سہولیات میسر ہوتی ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام ٹیکس دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں 10اپریل کو پاکستان میں ٹیکس ڈے منایا جارہاہے جس کا مقصد ٹیکس کی اہمیت اور اس کے ادا کرنے بارے عوام میں شعور اجاگر کرنا و اس کے فوائد سے آگاہ کرنا ہے ہم اس فیچر میں آپ کو ٹیکس ادائیگی سے متعلق کچھ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔
ٹیکس کی ادائیگی صرف پاکستان ہی نہیں ہر ملک میں ہوتی ہے مگر فرق صرف یہ ہے وہاں کے عوام کو اپنی حکومت کی جانب سے ملنے والی سہولیات اور حکومتی پالیسیوں پر اعتماد ہوتا ہے جبکہ ہمارے یہاں نہ تو کوئی پالیسی ہے نہ ہی بار بار بدلنے کی وجہ سے حکومت پر عوام کو اعتماد ہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا شمار انتہائی کم ٹیکس دینے والے ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر پوری آبادی کا صرف ایک فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
رانا محمد اکرم خاں ایڈووکیٹ نے کہا کہ ٹیکس کی کئی اقسام ہیں تاہم یہ سب کو دو جزو میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک ڈائریکٹ ٹیکس جو کہ انکم ٹیکس کہلاتا ہے یہ ٹیکس شرح آمدنی کے لحاظ سے لگتا ہے اور دوسرا ان ڈائریکٹ ٹیکس یہ وہ ٹیکس ہیں جو ہم روزمرہ اشیاء وغیرہ کی خریداو فروخت اور مختلف سروسز استعمال کرنے پر ادا کرتے ہیں۔
معروف وکیل رانا محمد اکرم خاں ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے غیر یقینی پالیسیاں اور حکومت اورعوام کے مابین پیدا ہونیوالی خلیج کی وجہ سے عوام ٹیکس دینے سے گریزاں ہیں انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں ٹیکس رعائتی سکیم متعارف کروائی جس کے مطابق ہر وہ شخص جس نے گزشتہ دس سال سے ٹیکس ادا نہیں کیا وہ محض ایک فیصد ٹیکس ادا کرکے ٹیکس نیٹ میں آسکتا ہے اس کے بعد اس کو چار سال تک ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا مگریہاں پر تاجر حضرات اور ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والے تذبذب کا شکار ہیں کہ چار سال تک تو انہیں یہ چھوٹ حاصل رہے گی مگر چونکہ حکومتی مدت پانچ سال ہوتی ہے ہوسکتا ہے پانچویں سال حکومت کسی نئی پالیسی کے تحت پچھلی بھی ساری کسر نکال لے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رضاکارانہ ٹیکس سکیم فلاپ ہوچکی ہے جس کا ایک ثبوت تو یہی ہے کہ امسال پیش کی جانیوالی اس ٹیکس سکیم کے باوجود ریجنل ٹیکس آفس لاہور 2 میں مجموعی طور پر صرف 891 نئے ٹیکس گزار شامل ہوسکے ہیں جبکہ اوکاڑہ سے صرف تین سو افراد اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے شامل ہوئے ہیں جو کہ بہت ہی کم تعداد ہے۔
رانا محمد اکرم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کوانکم ٹیکس،سلیز ٹیکس،ودہولڈنگ ٹیکس،پراپرٹی ٹیکس اور پروفیشنل ٹیکس سمیت کئی ٹیکسز لگائے گئے ہیں مگر ان ٹیکسز کی ادائیگی کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر وہ شخص جو سالانہ چار لاکھ روپے کماتا ہے اس پر ٹیکس لاگو ہوجاتا ہے جو کہ ادا کرنا اس کی ذمہ داری ہے مگر ٹیکس کی ادائیگی کی شرح کا یہ عالم ہے کہ پاکستان میں 3400000چونتیس لاکھ لوگوں نے نیشنل ٹیکس نمبر تو حاصل کررکھا ہے مگر ٹیکس جمع کروانے والوں کی تعداد 856987 ہے۔
معروف سکالرڈاکٹر امجد وحید نے اوکاڑہ ڈائری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے مناسب پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے عوام کا حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے ان کا کہنا تھا کہ چونتیس لاکھ لوگ جنہوں نے این ٹی این نمبر حاصل کررکھا ہے حکومت کو چاہئے کہ ان لوگوں کو اعتماد میں لے وہ لازمی ٹیکس دیں گےڈاکٹر صاحب کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس حکومت کا ایک غیرمناسب قدم ہے اس کی بجائے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے نیا نظام وضع کیا جانا چاہئے۔
شہری محمد یٰسین سعیدی نے کہا کہ ہر آدمی حکومت کو ان ڈائریکٹ ٹیکس تو دیتا ہے ہر چیز کی خریدوفروخت پر وہ ٹیکس دیتا ہے ایک صابن ،ایک بوتل اور ایک لیٹر تیل پر بھی اسے ٹیکس دینا پڑتا ہے جبکہ مقامی تحصیل میونسپل ایڈ منسٹریشن والے بھی ہم سے ٹیکس لیتے ہیں مگر ہمیں اس ٹیکس کا ریٹرن نہیں ملتا ہمیں پینے کیلئے صاف پانی میسر نہیں،صحت کی سہولیات میسر نہیں سیوریج کا نظام تباہ ہوچکا ہے وغیرہ وغیرہ باقی رہا انکم ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس تو اس کیلئے حکومت کو تاجر اور دیگر بزنس مینوں کیساتھ مل کر کوئی مناسب لائحہ عمل بنانا چاہئے اور سب کے تحفطات دور کرنے چاہئے۔
حاشر ٹریڈرز کے نام سے بزنس کرنیوالےاوکاڑہ کی رہائشی ایک کاروباری شخصیت محمد عمران صاحب نے رضاکارانہ سکیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں رضاکارانہ سکیم کو سود مند سمجھتے ہوئے تمام حکومتی شرائط کو پورا کرتے ہوئے 24 فروری کو ٹیکس جمع کروایا مگر تاحال میرا نام ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں نہیں آیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ٹیکس سکیم جس طرح عوام کو بتائی گئی ہے اس طرح عوام کو فائدہ نہیں دے گی انہوں نے کہا کہ ہم دس بارہ دوست اس سکیم کے تحت ٹیکس نیٹ میں آنا چاہتے تھے مگر میرے تجربے کے بعد اب کوئی دوسرا اس سکیم میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا انہوں نے کہا کہ ٹیکس جمع کروانے کے فوری بعد ٹیکس گزار کا نام ایکتو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل کیا جانا چاہئے اور اس پر وہ تمام سہولیات و مراعات فوری ملنی چاہئں جو حکومت نے اس سکیم کو لانچ کرتے ہوئے بتائیں ہیں ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں