164

دیپالپور،ایم ایس ٹی ایچ کیو کی معطلی،چولی کے پیچھے کیا ہے ؟

تحریر:قاسم علی

کل سے دیپالپور ٹی ایچ کیو کے ایم ایس ڈاکٹر نوید حفیظ صاحب کی معطلی ہر خاص و عام کیلئے ہاٹ ٹاپک بن چکا ہے جن کو بظاہر اپنے فرائض میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا ہے لیکن ان کی معطلی کی ٹائمنگ اور انداز پر غور کیا جائے تو چولی کے پیچھے کچھ اور ہی نظر آتا ہے۔

میں ڈاکٹر صاحب کو نہ تو ڈیفینڈ کر رہا ہوں اور نہ ہی انہیں فرشتہ یا شیطان ثابت کرنا چاہتا ہوں کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر نوید حفیظ ایک انسان ہیں اور ان کا مئی دوہزار سترہ سے ابتک بطور ایم ایس چار سالہ ریکارڈ دیکھا جائے تو انہوں نے خود کوصرف انسان ہی نہیں بلکہ ایک اچھاانسان اور ایڈمنسٹریٹر ثابت کیا ہے۔

سب سے پہلے تو میں چند ہزار روپے کی ادویات چرانے میں ایم ایس کو ملوث قرار دے کر اس معطلی کو انصاف کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں ان کے سامنے ڈاکٹر نوید حفیظ صاحب کی تعیناتی سے قبل کا ٹی ایچ کیو رکھنا چاہتا ہوں کہ اس وقت ہسپتال میں کوئی سپیشلسٹ تو دور کی بات فزیشن بھی محض اتنے سے تھے جنہیں محض ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا تھا۔مزید یہ کہ ہسپتال کی بری حالت کے باعث یہاں پر کوئی بطور ایم ایس بھی زیادہ دیر نہیں ٹکتا تھا۔مگر ڈاکٹر صاحب کی چارج سنبھالتے ہی ہسپتال کی بہتری کیلئے کی گئی مخلصانہ اورشبانہ روز کوششوں سے ہسپتال کا نقشہ ہی تبدیل ہوگیا۔اس وقت نہ صرف ان ڈور اور آوٹ ڈور ڈسپینسریوں اور کیو سسٹم سے لوگ مستفید ہو رہے ہیں بلکہ اس وقت دو درجن سے زائد فزیشنز اور دس کے قریب میڈیکل سپیشلسٹ موجود ہیں۔اور اس سب کا کریڈٹ کافی حد تک ایم ایس صاحب کو جاتا ہے۔

اور ہاں ایک اور قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ان کے چار سالہ دور میں محکمہ صحت کے کئی افسران اور وزراء بشمول وزیراعلیٰ نے ہسپتال کا وزٹ کیا مگر کسی نے بھی ان کی کارکردگی پر انگلی نہیں اٹھائی ۔

اور چندروز قبل سرکاری ہسپتال سے ادویات میڈیکل سٹوروں پر بیچنے کا معاملہ سامنے آیا تھا تو ڈاکٹر صاحب نے بطور سربراہ ادارہ قانون کے مطابق ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کاروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کروا دی تھی ۔مگر اس کے باوجود ایم ایس کو معطل کرنا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے جن میں سے ایک اہم ترین فیکٹر جو گردش میں ہے وہ مسلم لیگی رہنما اور موجودہ ایم این اے راؤمحمداجمل خان کا ٹی ایچ کیو وزٹ بھی ہے۔سوشل میڈیا پر موجود ایک بڑے اور سنجیدہ طبقے کا خیال ہے کہ ایم ایس کی طرف سے لیگی ایم این اے کو ہسپتال کا وزٹ کروانے کے گناہ کبیرہ کی سزا کے طور پرہٹایا گیا ہے ۔اس طبقے کا کہنا ہے کہ مقامی پی ٹی آئی ورکرز کو راؤمحمداجمل خان کا دورہ ایک آنکھ نہیں بھایا اور انہوں نے اس دورے کوپی ٹی آئی کیلئے بڑا خطرہ قرار دے کر اعلیٰ سطح پر شکائتیں لگائیں اور انہوں نے بھی پتہ نہیں کس میرٹ کا خیال رکھتے ہوئے ایم ایس کی سیٹ پر تعینات اس بندے کو اٹھارہ سوروپے کی ادویات باہر فروخت کرنے کے جرم میں شریک سمجھ کر معطل کردیا جو خود ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔

یوں بادی النظر میں دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے ڈاکٹر نویدحفیظ کو ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت ہٹایا گیا ہے بلکہ اس کیساتھ ہی ان کی اچھی شہرت کو نقصان پہنچانے کیلئے سرکاری ادویات فروخت کرنے کا راگ بھی الاپ کر انہیں بدنام کیا گیا ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی سربراہ ادارہ لیگی رہنماؤں کو پروٹوکول دینے کا جرم نہ کرے چاہے وہ کتنے ہی لاکھوں لوگوں کے ووٹ لے کر منتخب ہوا ہو.

آخر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر واقعی ایم ایس کو معطل کرنے کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر آخر میں کیا گیا ہے تو یہ کارواءی جمہوری روایات کے بالکل برعکس اور حکومت کی خطرناک سوچ کی عکاس ہے جو مستقبل میں عدم برداشت اور غیرجمہوری رویوں کو مزید فروغ دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں