vry dangerous accident in depalpur 1,463

دیپالپور،باپ بیٹوں کے ایک ساتھ اٹھنے والے جنازوں نے علاقے میں کہرام مچادیا

دیپالپور،زندگی موت کا سفر ساتھ ساتھ چلتا ہے اور موت کی گھڑی کو کوئی نہیں ٹال سکتا مگر بعض اموات ایسی ہوتی ہیں کہ دل کو دہلا دیتی ہیں گزشتہ دنوں آپ نے اوکاڑہ ڈائری پر دوبھائیوں کے ایک ساتھ انتقال کی خبر پڑھی ہوگی جس نے ہرایک کو دکھی کردیا تھا اب گزشتہ روز ایک ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں باپ بیٹے کے ایک ساتھ دنیا سے رخصت ہونے پر پورا بہاولداس دکھ اور رنج میں مبتلا ہے ۔ہو اکچھ یوں کہ بہاولداس پل کے قریب ویلڈنگ کاکام کرنیوالے مستری نورسمند نے ہمیشہ کی طرح اپنی موٹرسائیکل نکالی اور اس پر اپنی دوبیٹیوں حمیرا، عائشہ اور ایک بیٹے مزمل کو بٹھایااور دیپالپور کے ایک پرائیویٹ سکول میں چھوڑنے کیلئے حویلی روڈ پر رواں دواں ہوالیکن شہر میں داخل ہونے سے چند گزپہلے ڈی پی ایس سکول کے قریب مخالف سمت سے آنے والے تیز رفتار ڈالے نمبری lOT/6363 نے اسے بری طرح کچل ڈالا جس کے نتیجے میں نورسمند موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ اس کے بچوں کو ٹی ایچ کیو ہسپتال دیپالپورمنتقل کردیا گیا جن میں سے مزمل کو تشویشناک حالت کے باعث لاہور ریفرکردیا گیا تاہم پتوکی کے قریب دس سالہ مزمل نے بھی جان دے دی ۔دونوں باپ بیٹوں کا جب ایک ساتھ جنازہ اٹھا تو پورے گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ اہل علاقہ نے اوکاڑہ ڈائری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نورسمند ایک انتہائی خوش اخلاق انسان تھا جس نے اپنی آنکھوں میں اپنی اولاد کیلئے بہت سے سپنے سجارکھے تھے نورسمند کی پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے تھے جن کو وہ اعلیٰ تعلیم دلواناچاہتا تھا اسی مقصد کیلئے اس نے گاؤں کے سکول کی بجائے دیپالپور شہر کے سکول میں اپنے بچوں کو داخل کروایا ہوا تھا جن کو وہ روازانہ سکول چھوڑتا اور واپس لے جاتا تھا ۔علاوہ ازیں اوکاڑہ ڈائری کوایک اور افسوسناک بات معلوم ہوئی کہ نورسمند کی ایک بیٹی کی چارروز بعد شادی طے تھی جو مہندی کی بجائے نورسمند کے خون میں نہاگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں