bachon ki larai mai baray zakhmi 550

دیپالپور،بچوں کی لڑائی بڑوں کے تصادم تک جاپہنچی،خاتون سمیت تین افراد زخمی

دیپالپور بستی عبداللہ میں بچوں کے مابین ہونیوالا معمولی جھگڑا بڑوں کی لڑائی تک جا پہنچا.تھانہ سٹی دیپالپور میں علی شیر بھٹی کی مدعیت میں درج ہونیوالی ایف آئی آر کے مطابق علی شیر اور محمدحسین کے بچوں کے مابین جھگڑا ہوگیا جس پر علی شیر کی بیوی اور محمدحسین کی بیٹی کے درمیان تلخی ہوگئی جو بعد ازاں اتنی بڑھی کہ محمدحسین،عاطف اور عابد نے چادر اور چاردیواری کا خیال نہ کرتے ہوئے میری بیوی اور بھائی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کا مجھے پتا چلا تو میں بھی فوری گھر پہنچا اور اپنی بیوی اور بھائی علی شہزاد کو ہسپتال لے آیا مگر ملزمان وہاں پر بھی پہنچ گئے اور ایمرجنسی میں محمدحسین اور عابد حسین نے مجھ پر تشدد کیا جس سے میری ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی.علی شیر نے اپنے ایک وڈیو بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ہسپتال میں ان پر ہونیوالے تشدد میں مقامی صحافی رانا علی رضا کا ہاتھ ہے جس کی شہہ پر ملزمان نے اس پر تشدد کیا ہے.جبکہ دوسری جانب رانا علی رضا خاں کا موقف ہے کہ بستی حامے شاہ دیپالپور کے رہائشی فوجی محمد حسین اور اسکے بڑے بھایی رمضان کے گھروں میں خواتین کا معمولی تکرار پر جھگڑا ہوا جس میں دونوں افراد کے بچے بھی شامل ہوئے دونوں اطراف سے سگے رشتہ دار زخمی ہوئے ان زخمیوں میں ایک صحافی عابد حسین نمایندہ روزنیوز دیپالپور بھی شامل تھا واقعہ کی اطلاع پر میں بھی ہسپتال پہنچا اور دونوں اطراف کو رمضان المبارک میں شر سے بچنے کے حوالے سے تلقین کی اسی دوران پھر دونوں کزن عابد اورعلی شیر لڑ پڑے سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اس جھگڑے میں میرا کوئی کردار ثابت نہیں ہوتا ہے.رانا علی رضا نے کہا کہ پولیس اس معاملے میں تحقیقات کر رہی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں