wapda sdo depalpur 652

دیپالپور،خلیل آبادکالونی میں طویل لوڈشیڈنگ کیوں ہوتی ہے،واپڈا کا موقف سامنے آگیا

یہ درست ہے کہ موجودہ حکومت نے توانائی بحران پر خاصا قابو پالیا ہے مگر اس کے باوجود اب بھی کئی علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے دیپالپور میں رتہ کھنہ روڈ اور خلیل آباد کالونی سمیت متعدد علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ دس سے بارہ گھنٹے ہے جبکہ دیپالپور کے دیگر علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے.اسی مسئلہ کے پیش نظر ان علاقوں کے لوگ کل واپڈا دفتر کے سامنے احتجاج کرنے والے ہیں جب اوکاڑہ ڈائری نے اس بارے ایس ڈی او میاں طارق بشیر کا موقف لیا تواُن کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے کسی کیساتھ زیادتی نہیں کی جارہی ہے.حقیقت یہ ہے کہ اب بجلی کی فراہمی کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا ہے اور جس فیڈر کی جانب سے بجلی بلوں کی ریکوری جتنی زیادہ ہوتی ہے اس فیڈرکو اتنی ہی زیادہ بجلی فراہم کی جاتی ہے اور جہاں کی ریکوری کم ہوتی ہے اس فیڈر کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ بھی اتنی برداشت کرنا پڑتی ہے.جب ہم نے ان سے پوچھا کہ ایک ہی شہر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا ٹائم مختلف کیوں ہے حالاں کہ دیگر کسی علاقے میں لوڈشیڈنگ سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ سٹی ون،سٹی ٹو اور ڈولہ پختہ فیڈرز میں جو کنیکشن ہیں وہاں لودشیڈنگ اس لئے نہیں ہے کہ وہاں کی لائن لاسز بیس فیصد سے کم ہیں اور متعین کردہ طریقہ کار کے مطابق جہاں کی لائن لاسز بیس فیصد سے کم ہوں گی اور ریکوری نوے فیصد سے زیادہ ہوگی وہاں بجلی نہیں جائیگی اور یہ فیڈرز اس میعار پر پورا اترتے ہیں جبکہ خلیل آباد اور اس کے دیگر ملحقہ بستیاں مدینہ فیڈر کیساتھ منسلک ہیں جہاں لائن لاسز تئیس فیصد ہیں اور ریکوری بھی انتہائی کم ہے.اسی وجہ سے وہاں پر سسٹم کے تحت لوڈشیڈنگ زیادہ ہورہی ہے.تاہم انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ جلد ہی لائن لاسز پر قابو پاکر دس دن کے اندر اندر مدینہ فیڈر کو بھی زیرولوڈ شیڈنگ پر لے آئیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں