238

دیپالپور،طاقتور اور کمزور کیلئے الگ الگ قانون کب تک ؟

چندروز قبل اسسٹنٹ کمشنر دیپالپورخالدعباس سیال کی جانب سے دیپالپور کے نواحی گاؤں انچاس ڈی بلوچاں والا میں سرکاری اراضی کو ناجائزقابضین سے چھڑانے کے نام پر کاروائی کرتے ہوئے پانچ غریب خاندانوں کو بے گھر کردیاحالاں کہ یہ لوگ وہاں پر عرصہ دراز سے اسی طرح ہی آباد ہیں جس طرح دیگر سینکڑوں گھرانے وہاں رہائش پزیر ہیں ۔ متاثرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انچاس ڈی بلوچاں والی کا کل رقبہ 126کنال ہے اور یہ علاقہ قیام پاکستان سے قبل سے موجود ہے اب جبکہ یہاں پر ہزاروں افراد آباد ہیں مگر ایسے میں انتظامیہ کی جانب سے محض چند غریب گھروں کے خلاف یکطرفہ کاروائی اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے با اثر افراد کو کھلی چھوٹ سراسرنا انصافی اور ظلم کے مترادف ہے ۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے سرکاری اراضی پر قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن کرنا ہے تو بلاتفریق سب کے خلاف کرے لیکن با اثر افراد کو عداءت دینا اور کچے مکانوں کے غریب لوگوں کو بے گھر کرنا یہ صاف بتارہا ہے کہ نئے پاکستان میں بھی غریب اور امیر کیلئے الگ الگ پاکستان کی رواءت پر عمل کیا جارہا ہے ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں انتظامیہ نے ہ میں بے گھر کے سخت زیادتی کی ہے جس سے ہ میں اور ہمارے بچوں کو شدیدمشکلات کا سامنا ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف ان سیاسی مہروں کے کہنے پر کیا گیا ہے جو خود سرکاری اراضی پر قابض ہیں اگر انتظامیہ اس آپریشن کیلئے مخلص ہے تو غریبوں کی جھونپڑیوں سے پہلے ان کی کوٹھیوں کو گرائے ورنہ ہ میں بھی آباد کاری کی اجازت دی جائے ۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.