afzal bhatti died 620

دیپالپور،معروف شخصیت محمد افضل بھٹی کی زندگی پر ایک سرسری نظر

تحریر:قاسم علی
دیپالپور کی مشہور سیاسی،کاروباری و سماجی شخصیت محمد افضل بھٹی کے اچانک حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال کی خبر کے بعد کل سے دیپالپورکی فضا ایک بار پھراسی طرح مغموم ہے جس طرح چند روز قبل ہردلعزیز سیاستدان راؤقیصر علی خان کی وفات پر تھی ۔محمد افضل بھٹی ایک قدآور شخصیت تھے ان کے والد محترم حاجی محمدشریف بھٹی تحریک پاکستان کے متحرک کارکن تھے ۔محمد افضل بھٹی کے دوبھائی حاجی طفیل بھٹی اور حافظ سرور پہلے ہی انتقال کرچکے ہیں ۔پیپلز پارٹی کے رہنمامرحوم راؤمحمد افضل کیساتھ ان کی گہری سیاسی وابستگی تھی اور ان کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے ۔محمد افضل بھٹی دس سال تک دیپالپور میں پیپلز پارٹی کے صدر رہے80 کی دہائی میں کونسلر منتخب ہوئے بعد ازاں ناظم کا الیکشن لڑا جو کہ آپ صرف بارہ ووٹوں سے ہارگئے ۔آپ کو کاروباری حلقوں میں انتہائی ادب و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ آپ مسلسل بیس سال تک صدرانجمن کریانہ ایسوسی ایشن رہے جبکہ انجمن تاجران کے صدر کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔مرحوم ایک سنجیدہ اور ملنسار شخصیت تھے اور ہمیشہ سب کو جوڑ کر رکھتے تھے خاص طور دیپالپور میں بھٹی فیملی کے سر کا تاج اور فخر سمجھے جاتے تھے. آپ کافی عرصہ سے ہائی بلڈپریشر کے مرض میں مبتلا تھے گزشتہ روز اپنے بیٹے عامر بھٹی کے آپریشن کے سلسلے میں اوکاڑہ کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں گئے جہاں ان کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور جہاں فانی سے کوچ کرگئے ۔آپ کی عمر تقریباََ پینسٹھ برس تھی۔نماز جنازہ آج ڈھائی بجے افضل سٹیڈیم دیپالپور میں ادا کر دی گئی جوکہ مہتم جامعہ شاہی مسجد سید انور شاہ بخاری نے پڑھائی اللہ مرحوم کی جملہ تقصیرات سے درگزر فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے.بیشک ہم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں