candidate pp 186 depalpur dr amjad waheed daula on pakistan day 544

دیپالپور،نظریہ پاکستان محض ایک پولیٹیکل تھیوری نہیں بلکہ ایک تہذیبی شعورکا اظہار ہے،ڈاکٹرامجد وحید ڈولہ

دیپالپور،رہنماء پاکستان تحریک انصاف وامیداور حلقہ پی پی 186دیپالپور پروفیسرڈاکٹر امجد وحید ڈولہ نے 23مارچ کے حوالے سے اوکاڑہ ڈائری کےساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوم پاکستان پر منعقد ہونے والے اکثر مذاکرات اور سمینیار ز کا عمومی ماحول یہ ہوتا ہے کہ اس میں کبھی نظریہ پاکستان کو ایک سیاسی نظریہ کے طور پر پیش کیا جا تا ہے تو بعض اوقات اسے مذہبی اور سیکولر نظریہ قرار دیا جاتا ہے حالانکہ نظریہ پاکستان محض ایک پولیٹیکل تھیوری نہیں جسے سر سید احمد خان ،علامہ اقبال یا قائد اعظم محمد علی جنا ح نے پیش کیا بلکہ نظریہ پاکستان ایک تہذیبی شعور کا اظہار ہے اور یہ شعور اس روز بیدار ہونا شروع ہوگیا تھا جب ہندوستان میں پہلا ہندو مسلمان ہوا انہوں نے کہا ہے کہ علامہ اقبال شروع میں پین اسلام ازم کے حامی تھے جبکہ محمد علی جناح آغاز میں ہندو مسلم اتحاد کے سفیر تھے لیکن 13صدیوں میں ہند اسلامی تہذیب کے اس اجتماعی شعور نے ان دونو ں کی فکر کا رخ موڑکر انہیں ہندوستانی مسلمانوں کے علیحدہ تشخص کا حامی بنا دیا محمد علی جناح کا قائد اعظم بننا در حقیقت اسی تہذیبی شعور کا مجسم ہوجانا تھا اس تہذیبی سانچے نے نہ صرف جناح اور اقبال کو تراشا بلکہ قرارداد پاکستان کی صورت میں مسلم لیگ کو بھی ایک نئی جہت عطاء کی جس کے نتیجہ میں وہ ہی مسلم لیگ جو اپنے قیام سے لے کر 1937تک کے 31برسوں میں ہندوستان کے 11میں سے کسی ایک صوبے میں بھی حکومت نہ بنا سکی تھی 23مارچ 1940کو جب اسے قرارداد پاکستان نے ایک نیا رخ دیا تو صرف 7برس کی جدوجہد نے مسلمانوں کے علیحدہ تشخص کو پاکستان کے نام سے ایک جغرافیائی وحدت میں ڈھال دیا یہ اسی تہذیبی شعور کی طاقت تھی جس نے برصغیر میں ایک نئی مسلم ریاست قائم کی آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کریں بلکہ اس کی نظریاتی بنیادوں اوراس تہذیبی شعور کی بھی حفاظت کریں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں