amjad waheed daula left pti 922

دیپالپور،پی ٹی آئی کو اب تک کا سب سے بڑا دھچکا لگ گیا،اہم رہنما نے الوداع کہہ دیا

اس وقت پورے ملک میں پی ٹی آئی کا بول بالا ہے اور ہر کوئی پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے ہاتھ پاؤں مارتا نظر آرہاہے مگر ایسے میں دیپالپور سے پی ٹی آئی کے اہم رہنما نے پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا ہے معروف سیاسی و سماجی شخصیت ڈاکٹر امجدوحید ڈولہ نے آج ڈولہ پختہ میں پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کیساتھ اپنی پانچ سالہ وابستگی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری پی ٹی آئی میں شمولیت کی وجہ عمران خان کی 2013ء کے الیکشن سے پہلے کی یہ سوچ تھی کہ الیکٹ ایبلز کبھی تبدیلی نہیں لاسکتے پڑھے لکھے لوگوں کو سیاست میں آکر میرا ساتھ دینا چاہئے لیکن آج کی اس پریس کانفرنس کی وجہ الیکشن 2018ء سے پہلے عمران خان کے وہ انٹرویوز ہیں جن میں انہوں نے یہ موقف اپنا یا کہ میں تو ہمیشہ سے ہی الیکٹ ایبلز کا ساتھ چاہتاتھا لیکن تب وہ میرے ساتھ شامل نہیں ہونا چاہتے تھے ۔ڈاکٹرامجدوحید ڈولہ نے کہا کہ عمران خان کا یہ یوٹرن ہی پی ٹی آئی چھوڑنے پر مجبور کررہاہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس گزشتہ پانچ سال میں موقع تھا کہ کہ وہ کے پی کے میں ماڈل بنا کر دکھاتے یا پھر پی ٹی آئی کو ہی ایک ادارہ بنا کردکھا دیتے لیکن عمران خان نے اس کی بجائے دو اور کام کئے ایک125دن کا شفاف الیکشن نہ ہونے کے خلاف دھرنا اور دوسرا پانامہ ایشو پر کرپشن کے خاتمے کیلئے تحریک ۔انہوں نے کہا کہ میرا پی ٹی آئی ورکرز سے سوال ہے کہ کیا الیکشن 2018ء صاف اور شفاف ہورہے ہیں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ”جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے ”آج میں انصاف کی جدوجہد کرنیوالوں کی خاموشی پر حیران ہوں ۔کرپشن کے خاتمے کی تحریک کا انجام بھی یہی ہوا کہ گاڈ فادرز کو تو جیل ملی لیکن سسیلین مافیا کے حصے میں پی ٹی آئی کی ٹکٹیں آگئیں اور نوازشریف کی طرح باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہل قرار پانیوالے رائے حسن نواز ریجنل صدر اور پارلیمانی بورڈ کے ممبر کے طور پر ٹکٹیں بانٹتے رہے ۔پی ٹی آئی کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ درحقیقت 2004ء میں امریکی نائب صدر جان ایڈورڈز کے ون امریکہ کا چربہ ہے اور عمران خان کی مینار پاکستان کی تقریر درحقیقت جان ایڈورڈ کی تقریر کا ہی اردو ترجمہ تھا جو جماعت تبدیلی کا اپنا لائحہ عمل دینے کے قابل نہ ہو بلکہ اس میں بھی سرقہ کا شکا ر ہو وہ تبدیلی ہرگز نہیں لاسکتی۔موجودہ صورتحال پر انہوں نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کو نہ تو فری ایند فیئر الیکشن دیا جارہاہے اور نہ ہی ان کا احتساب برابری کی سطح پر ہورہاہے یہ الیکشن 2018ء نہیں بلکہ سلیکشن 2018ء ہے انصاف کا نعرہ لگانے والوں کو اس پر بھی آواز اٹھا نا ہوگی۔ کچھ بدھی مانوں کا مشورہ تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت بننے جارہی ہے اور کافی فائدے لئے جاسکتے ہیں لیکن میری سوچ یہ ہے کہ
‘اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں