government girls high school mun charian 637

دیپالپور،گورنمنٹ گرلزہائی سکول منچریاں انتظامیہ نےبچیوں سے بھتہ وصولی شروع کردی

دیپالپور کے نواحی گاؤں منچریاں میں قائم گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کی انتظامیہ ہربچے کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے حکومتی مشن کو شدیدنقصان پہنچارہی ہے کیوں کہ انتظامیہ آئے روز بچوں سے کسی نئے حیلے بہانے سے پیسے وصول کرتی رہتی ہے۔بچوں کے والدین نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سکول کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے اور اس سکول کی انتظامیہ نے بچوں کو تعلیم دینے کی بجائے اسے کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔سکول میں زیرتعلیم بچوں اور ان کے والدین نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ انتہائی قابل تحسین ہے لیکن منچریاں میں فی الحال یہ منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا ہے کیوں کہ ہمیں یہاں بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑرہے ہیں اگر یہی سلسلہ جاری رہاتو ہم یہ بوجھ زیادہ دیر برداشت نہیں کرپائیں گے اور ہم مجبوراََبچوں کو سکول سے ہٹا لیں گے لوگوں نے بتایا کہ پیپرمنی کے طور پر ہم سے چالیس روپے فی کس لئے گئے ہیں اس کے علاوہ رزلٹ کارڈ کی مد میں دو سو روپے، پانچ پانچ مہینے کی ایڈوانس فیس،داخلے کیلئے تصویروں کے نام پر پچاس پچاس روپے بھی وصول کئے گئے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ حکومت نے گرین پاکستان کا منصوبہ شروع کیا مگر سکول انتظامیہ نے اس مد میں بھی بچوں سے پیسے اکھٹے کرنے شروع کردئیے اور فی بچہ دس روپے وصول کئے ہیں۔یادرہے اصولی طور پر گورنمنٹ سکول بچوں سے فروغ تعلیم فنڈ کی مد میں صرف بیس روپے وصول کرسکتا ہے اس کے علاوہ کسی مد میں کوئی رقم وصول نہیں کی جاسکتی۔جب اس بارے سکول کی پرنسپل سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سب اطلاعات غلط اور سکول انتظامیہ پر الزامات ہیں ہم نے کسی بچے سے کوئی اضافی فیس یا پیسے وصول نہیں کئے ہیں۔ مزیدبرآں ان کا کہنا تھا کہ ہمارا محکمہ اس بارے ہم سے باز پرس کرے اس کے علاوہ ہم کسی کو جواب دہ نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں