depalpur mai mosam garma ki soghat 1,022

دیپالپورمیں موسم گرما کی سوغاتیں

تحریر:قاسم علی…
موسم گرما کے آتے ہی آگ برساتے سورج کی تپتی دھوپ ہر ایک کو نڈھال کرڈالتی ہے ایسے میں ہر کوئی اپنے جسم کو توانائی فراہم کرنے کیلئے مشروبات اور دیگر ٹھنڈی میٹھی چیزیں استعمال کرتا ہے آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ دیپالپور میں گرمیوں کے دوران کون سی سوغاتیں ہیں جو عوام میں زیادہ مقبول ہیں۔
depalpur mai mosam garma ki soghat
گرم موسم میں دیپالپورکی جو سب سے زیادہ معروف سوغات ہے وہ باباسعید کا شربت بادام ہے قائد اعظم چوک پر قائم ایک چھوٹی سی دوکان پر کھڑے دوکان کے پروپرائیٹر محمدامجد سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ آج سے 37سال قبل یعنی 1980ء میں ان کے والد محمدسعید نے شربت بادام کا آغاز کیا جو اپنے بہترین ذائقے کی بدولت دیکھتے ہی دیکھتے شہر بھر کا پسندیدہ مشروب بن گیا 2001ء میں ان کے والد وفات پاگئے مگر وہ اپنا یہ فن مجھے اپنی زندگی میں سکھا گئے تھے لہٰذا ان کے بعد بھی ہم نے اس میعار کو برقرار رکھا اور آج بھی لوگ شربت بادام بڑے شوق سے پینے آتے ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ رات کو دس کلو بادام کے چھلکے بھگو کررکھتے ہیں جبکہ صبح چار بجے اٹھ کر شربت بادام کی تیاری شروع کردیتے ہیں اس کام میں ان کے اہلخانہ بھی معاونت کرتے ہیں صبح دس بجے تک ہم سو بوتل شربت بادام تیار کرلیتے ہیں جوشدید گرمی کے موسم میں شام تک ختم ہوجاتی ہیں جبکہ اگر کام مندا بھی ہوتو دودن بعد نیا شربت بنانا پڑتا ہے ۔امجد نے بتایا کہ لوگ شربت یہاں پینے کیساتھ ساتھ اپنے گھر بھی لے جاتے ہیں جو ہم فی بوتل 170روپے فروخت کرتے ہیں۔
ratta khanna chowk qulfi
دیپالپور کی دوسری معروف سوغات رتہ کھنہ چوک پر دستیاب قلفی ہے ۔قلفی کی یہ ریڑھی 1978ء میں حاجی محمد الیاس نے لگائی تھی جو 45سال تک اس کاروبار سے منسلک رہنے کے بعد 2015ء میں جہان فانی سے کوچ کرگئے ان کے بعد اب ان کے بیٹے منظور حسین یہ کام سنبھالے ہوئے ہیں منظور حسین نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد صاحب کی ہدائت کے مطابق ہمیشہ میعار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔انہوں نے بتایا کہ اچھی قلفی خالص دودھ سے بنتی ہے اور وہ آج بھی اپنی نگرانی میں خالص دودھ لیتے ہیں اور پھر اپنے ہاتھ سے قلفی کیلئے کھویا تیار کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہماری قلفی کی کامیابی کی وجہ اچھے میعار کیساتھ ساتھ ہمارے پوائنٹ کاشہر کے عین بیچ ہونا بھی ہے ۔
hafiz dawood ka falooda daula pukhta
حافظ داؤود کے فالودے کی گونج دیپالپور ہی نہیں بلکہ دیپالپور سے بہاولنگر تک پھیلی ہوئی ہے ۔اس فالودہ شاپ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی مارکیٹ میں نہیں بلکہ اس شاپ کے دور دور تک نہ تو کوئی دوکان ہے اور نہ ہی کوئی مکان ہاں البتہ شائد ہی کوئی ایسی گاڑی یا موٹرسائیکل سوار ہوگاجو یہاں سے گزرے اور حافظ کا فالودہ کھائے بغیر آگے چلاجائے ۔
حافظ داؤد نے اس ویرانے میں دوکان بنانے اور اس کی کامیابی کی وجہ بڑی دلچسپ بتائی ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر معیشت کا یہ اصول ہے کہ کاروبار کیلئے وسیع مارکیٹ اورگنجان آبادی کو ملحوظ خاطر رکھاجاتا ہے مگر میں نے اپنی مارکیٹ سڑک پر چلتی گاڑیوں کو بنالیا اس کے بعد میں نے اس چیز کو بھی سامنے رکھا کہ لوگ شہر کے جھنجھٹ اور شور شرابے کی بجائے پرسکون ماحول میں کھانا پینا زیادہ اچھا سمجھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دیہات میں موجودگی کا بھی مجھے یہ فائدہ ہوا کہ یہاں پر مجھے خالص دودھ ڈھونڈنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی اور فالودے میں خالص دودھ کا کردار کلیدی ہوتا ہےانہوں نے کہا کہ ان کا یہ آئیڈیا سو فیصد کامیاب رہاہے اور اب گاڑیوں اور موٹرسائیکل والے اور بعض اوقات بڑی بسیں بھی یہاں رکتی ہیں اور مسافر کھاتے بھی ہیں اور مٹی کے چٹورے میں ساتھ بھی لے جاتے ہیں۔حافظ داؤد 1999ء سے اس روزگار سے وابستہ ہیں۔حافظ داؤود نے بتایا کہ کئی بڑے بڑے سیاستدان،جج،وکلا ،صحافی اور معروف شخصیات ان کے مستقل گاہکوں میں شامل ہیں اور روز بروز یہ دائرہ مزید وسیع ہورہاہے۔حافظ داؤد کے مطابق ان کی روزانہ سیل تیس سے چالیس ہزار کے درمیان ہوتی ہے جس سے ان کو بہترین روزی مل جاتی ہے ۔
aljannat rabri hose madina chowk
اگر آپ دیپالپور کے رہائشی ہیں تو شہر کے مشہور ترین مدینہ چوک میں جنت سویٹس اینڈ ربڑی ہاؤس سے ضرور واقف ہوں گے کیوں کہ یہ پورے شہر میں ربڑی اور رس ملائی بنانیوالی واحد دوکان ہے.دوکان کے مالک راؤمحمد اکبر نے بتایا کہ وہ ربڑی اور رس ملائی کا بیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں تاہم دیپالپور میں وہ گزشتہ پانچ سال سے یہ کام کررہے ہیں ان کا کہنا تھا ربڑی اور رس ملائی بنانا ذرا مشکل اور محنت طلب تو ہے ہی ساتھ اس پر خرچہ زیادہ اور مارجن کم ہوتا ہے شائد اسی لئے یہ پروڈکٹ کم دوکاندار ہی بناتے ہیں۔
bagga milk shop depalpur
گرمیوں میں ملک شیک،جوس اور دودھ سوڈا پینا کسے پسند نہیں اگرچہ یہ مشروبات ہر چوک بلکہ ہر گلی میں مل جاتے ہیں لیکن اگر آپ ہر قسم کا جوس ،ملک شیک اور میعاری دودھ سوڈا بینا چاہتے ہیں تو اس کیلئے آپ کو کچہری چوک یں بگا ملک شیک اینڈ جوس پوائنٹ کا رخ کرنا پڑے گا.اس دوکان کے مالک محمد اکرم عرف بگا نے اوکاڑہ ڈائری کو بتایا کہ یہ دوکان 1984میں میرے بھائی نے بنائی تھی جو یہاں پر چائے بناتے تھے مگر دس سال قبل میں یہ سارا سیٹ اپ تبدیل کردیا اور اس کو مکمل طور پر کولڈ کارنر بنادیامیں روزانہ تازہ پھل منڈی سے لاکر جوس اور ملک شیک بناتا ہوں جو سو فیصد خالص ہوتا ہے جس کی وجہ سے میری اچھی بِکری ہوجاتی ہے انہوں نے بتایا کہ ان کا روزانہ تقریبادوسو لیٹر دودھ لگتا ہے جس سے اللہ اچھی خاصی روزی دے دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں