411

دیپالپور میں ریسکیو1122 سروس شروع

تحریر:قاسم علی

یہ پانچ جون کی ایک گرم دوپہر تھی جب اٹھارہ سالہ وقاص دیپالپور سے اوکاڑہ جارہاتھا کہ کہ سوبھارام
کے قریب اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا جس کے بعد لگتا یہی تھا کہ یہ نوجوان بھی بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھوبیٹھے گا مگر اس موقع پر کسی نے ریسکیو1122کو کال ملا دی جس نے محض ایک روز قبل ہی دیپالپور میں اپنی سروس کا باقاعدہ آغاز کیا تھا بس پھر کیا تھا محض سات منٹ میں ریسکیو کی گاڑی موقع پر پہنچی اور وقاص کو نہ صرف گاڑی میں ابتدائی طبی امداد دی بلکہ فوری ٹی ایچ کیو ہسپتال دیپالپور میں پہنچادیا اور یہ ریسکیو 1122کی سروس کا ہی کمال ہے کہ وقاص آج بالکل تندرست ہے اور حکومت کے اس منصوبے کو سراہ رہاہے۔
وقاص کا کہنا ہے کہ اس تو جیسے مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی اچانک حادثے کے بعد میں سڑک پر بے آسرا پڑا تھا مگر بھلا ہو ریسکیو والوں کا

جو فوری میری امداد کو پہنچے اور میری جان بچ گئی۔
سینئر صحافی حافظ جمشید اشرف نے بتایا کہ ریسکیو1122منصؤبے کا آغاز پنجاب حکومت نے 2004ء میں کیا تھا اور آج یہ پنجاب کے تمام 36اضلاع میں کام کررہاہے اس کے علاوہ 18تحصیلوں میں بھی ریسکیو 1122کا چاک و چوبند عملہ عوام کی خدمت کیلئے دن رات کوشاں ہے۔
پنجاب ممیں 2004ء سے اب تک یہ سروس مجموعی طور پراکتالیس لاکھ سے زائد زخمیوں کو ریسکیو کرچکی ہے۔
http://www.rescue.gov.pk/Performance.aspx
انہوں نے بتایا کہ دیپالپور میں ریسکیو 1122کی عمارت کا سنگ بنیاد 17اپریل 2015کو وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے صنعت و پیداوار راو محمد اجمل خاں نے رکھا عمارت کی تکمیل کے بعد چارجون 2015ء کو دیپالپور میں اس سروس کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا
قائد اعظم چوک کے قریب چارکنال کے رقبے پر پھیلی اس عمارت کا تخمینہ ساٹھ ملین روپے ہے۔

دیپالپور میں ریسکیو اینڈ سیفٹی آفیسر محمد ندیم اصغر نے بتایا کہ
چارجون سے ابتک ہم دیپالپور میں مجموعی طور پر 320زخمیوں کو ریسکیو کرکے ہسپتال پہنچاچکے ہیں۔ان میں لڑائی جھگڑے کے کیس دو تھے جبکہ بم بلاسٹ آگ سے جلنے یا دیوار کے گرنے سے کسی زخمی کی اطلاع ہمیں نہیں ملی۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمیں حکومت کی جانب سے جدید ترین ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں جن میں نہ صرف وینٹی لیٹر،آکسیجن اور بی پی آپریٹس اور فرسٹ ایڈ باکس موجود ہوتا ہے بلکہ اس میں پیرا میڈیکل کا تربیت یافتہ عملہ بھی ہوتا ہے جو زخمی کو فوری طبی امداد مہیا کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس محض دو ایمبولینس گاڑیاں اور ایک فائر اینڈ ریسکیو وہیکل ہے جو کہ پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل دیپالپور کیلئے کم ہیں اگر ہمیں کم از کم دو مزید گاڑیاں فراہم کردی جائیں تو ہم زیادہ بہتر طور پر سروس فراہم کرسکتے ہیں۔
ہمارے پاس بائیس افراد پر مشتمل عملہ ہے دس افراد رات کو اور دس رات کو ڈیوٹی دیتے ہیں تاہم کچھ مزید لڑکے زیر تربیت بھی ہیں جو جلد ہی ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں گے اس کے بعد دو کی بجائے تین شفٹوں میں کام ہوگا یعنی ہر نوجوان آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دے گا۔
ہماری سروس 24گھنٹے جاری رہتی ہے کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔
سٹیشن کوآرڈی نیٹر راشد خان خلجی نے بتایا کہ شہری حدود سےکسی بھی کال کی صورت میں ہم صرف سات منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچ جاتے ہیں تاہم اگر فاصلہ زیادہ ہو یعنی دیہات وغیرہ سے کال ہو تو چند منٹ زیادہ لگ جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دیپالپور میں سب سے زیادہ حادثات دیپالپور اوکاڑہ روڈ پر پیش آتے ہیں جس کی وجہ اس کا ون وے نہ ہونا اور ٹریفک کا بہت زیادہ ہونا ہے۔
راشد خان خلجی نے بتایا کہ ہم عوام کو ریسکیو فراہم کرنے کیساتھ ساتھ فرسٹ ایڈ سروس کی ٹریننگ کا بھی جلد آغاز کررہے ہیں جو بھی ادارہ یا شخص فرسٹ ایڈ کی ٹریننگ حاصل کرنے کی درخواست کرے گا ہم ان کو یہ ٹریننگ فراہم کریں گے تا کہ عوام اپنی مدد آپ کے تحت بھی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے سکیں۔
سماجی شخصیت سید طاہر بلال شاہ نے سجاگ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سروس عوام کیلئے بہت بڑی نعمت ہے اب کوئی بھی زخمی کم از کم اس وجہ ان سے نہیں مرے گا کہ اسے بروقت ہسپتال نہیں پہنچایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ منصوبہ بہت پہلے شروع کردینا چاہئے تھا مگر دیر عائد درست عائد۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.