456

دیپالپور پریمیئر لیگ کا پہلا ایڈیشن

پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کی ایشیا کپ میں بدترین ناکامی نے کرکٹ سے جنون رکھنے والے ہر شخص کو مایوس کیا ہے مگر دیپالپور میں دیپالپور پریمیئر لیگ کے انعقاد نے کرکٹ شائقین میں ایک نئے روح پھونک دی ہے۔
2 مارچ کو تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے سبزہ زار میں ڈی پی ایل میں حصہ لینے والی نوفرنچائز کیلئے نیلامی کی تقریب ہوئی جس میں مجموعی طور پر دس پارٹیوں
خان محب الرحمان خان (رحمان گروپ آف انڈسٹریز)،
مون کمیانہ (اتحاد گروپ) اینڈ اتحاد پریس کلب دیپالپور
ملک رفیق احمد،(ملک سٹیٹ اینڈ بلڈرز)،
چوہدری سعید احمد اینڈ ٹیپو خاں(فرینڈز گروپ دیپالپور)،
مہروز خان راجو(اے ٹی ایس کنسٹرکشن کمپنی)،
میاں احسن منیر جوئیہ(باہری پور ایگریکلچر فارمز)،
میاں عابد وحید ڈولہ(ڈولہ ایگری کلچر فارمز)،
ملک شہزاد(حتیم کنسٹرکشن کمپنی)،
عدہل خاں (سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی این اے 146)
محب اللہ خاں (رحمان گروپ آف انڈسٹریز) نے حصہ لیا۔
ڈی پی ایل میں شامل ہونیوالی چھ ٹیموں کیلئے جو نام فروخت کیلئے رکھے گئے وہ دیپالپورقلندرز،نائٹ رائیڈرز،گلیڈی ایٹرز،لائن،وارئیرزڈھکی گلیڈی ایٹرزاورتھنڈرر تھے۔
تقریب میں نو پارٹیوں کو کامیاب اور سب سے زیادہ بولی دینے پر منتخب کرلیا گیا جن میں دیپالپور قلندر ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے میں ملک شہزاد نوناری نے خریدی،دیپالپور گلیڈی ایٹر دولاکھ روپے میں مہروز خان لے اڑے،نائٹ رائیڈر کی ایک لاکھ پچاس ہزارروپے بولی لگا کر مون کمیانہ کامیاب ٹھہرے،دیپالپور وارئیر دو لاکھ پچاس ہزارروپے میں خان محب اللہ خان کے حصے میں آئی اور دیپالپور لائن جس کی سب سے بڑی بولی لگائی گئی تاہم میاں فخر حیات بودلہ چار لاکھ پچاس ہزار روپے لگا کر کامیاب ٹھہرے۔
ڈی پی ایل کے روح رواں میاں بلال عمر بودلہ ہیں جو کہ دیپالپور کی نامور سیاسی شخصیت میاں محمد عمر بودلہ مرحوم کے فرزند ہیں سجاگ سے بات چیت کرتے ہوئے میاں بلال عمر بودلہ نے ڈی پی ایل بارے بتا یا کہ انہوں نےدیپالپور پریمیئر لیگ کا آئیڈیا پاکستان سپرلیگ سے لیا ہے دیپالپور میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ دیپالپور کی دھرتی سے کئی ایسے کھلاڑی مل سکتے ہیں جو قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کے اہل ہوں گے مگر مناسب مواقع نہ ملنے کی وجہ سے نوجوانوں میں یہ جوہر ضائع ہورہا ہے اور ڈی پی ایل کے انعقاد کا مقصد اسی جوہر کو دنیا کے سامنے لانا ہے انہوں نے بتایا کہ ڈی پی ایل کی ایک شرط یہ ہے کہ ہر فرنچائز اپنی ٹیم میں آٹھ کھلاڑی دیپالپور تحصیل سے لے گی باقی کھلاڑی وہ اپنی مرضی سے کسی بھی شہر سے شامل کرسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم کو دو لاکھ روپے اور ٹرافی دی جائے گی جبکہ رنر اپ ٹیم کو ایک لاکھ روپے اور ٹرافی کی حقدار سمجھی جائے گی اس کیساتھ ساتھ شائقین کرکٹ کا گراونڈ میں داخلہ نہ صرف فری ہوگا بلکہ شائقین کرکٹ کیلئے انعامات بھی رکھے گئے ہیں جس کے مطابق ہرروز قرعہ اندازی کے ذریعے دس خوش نصیبوں کو موبائل فون دئیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح عوام کو مفت تفریح فراہم کرنا ہے اور اس کیلئے کسی قسم کی سیاسی مداخلت و اثرورسوخ کو سامنے نہیں رکھا گیا تمام فرنچائزز کو ہر ایک کیلئے اوپن رکھاگیا ہے۔
دیپالپور پریمیئر لیگ کے یہ یادگار مقابلے 15 اپریل سے شروع ہورہے ہیں تاہم ان میچوں کا باقاعدہ شیڈول کچھ دن تک جاری کردیاجائے گااور تمام میچ حال ہی میں تعمیر ہونے والے جناح منی سٹیڈیم میں ہوں گے۔
سپورٹس جرنلسٹ عبدالرؤوف طاہر نے کہا کہ دیپالپور میں منعقد ہونےوالا یہ ایونٹ اس علاقے میں موجود ایک عرصے سے مسدود ہوجانے والی کرکٹ سرگرمیوں کو ایک بار پھر سے شروع کردے گا اور فرنچائزز کی بولی کے وقت ہی عوام نے جس جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈی پی ایل دیپالپور کی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے جارہی ہے ۔
کرکٹ کے ایک اور متوالے عاصم حسین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرکٹ کا بڑا شوقین ہے مگر اسے اور اس جیسے بیشمار کرکٹ کے شوقین دوستوں کا یہ شوق اس لئے نہیں پورا ہوپاتا کہ انہیں کھیلنے کیلئے مناسب گراؤنڈز ہی میسر نہیں ہیں اب ڈی پی ایل کے انعقاد کے بعد امید ہے نوجوان کھلاڑیوں کی ایک نئی کھیپ سامنے آئے گی اور حکومت کو مزید گراؤنڈز بھی بنانا پڑیں گے۔
دیپالپور پریمیئر لیگ کی نیلامی میں ساڑھے چار لاکھ روپے کی سب سے بڑی بولی دیپالپور لائینز کیلئے لگاکر خریدنے والے میاں فخر حیات بودلہ نے کہا کہ دیپالپور پریمیئر لیگ میاں بلال عمر بودلہ کی جانب سے ایک انقلابی ایونٹ ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسے ایونٹس بہت پہلے شروع ہوجانے چاہئے تھے مگر دیر عائد درست عائد۔
انہوں نے کہا کہ دیپالپور ایسی تحصیل ہے جو کئی اضلاع سے بھی بڑی ہے انہیں امید ہے کہ ڈی پی ایل کے انعقاد سے دوسرے شہروں میں بھی ایسے پروگرامز کے انعقاد کی روائت پڑے گی اور قومی کرکٹ میں جہاں نئے چہرے سامنے آئیں گے وہیں ان مقابلوں سے عوام کو صاف ستھری تفریح بھی دیکھنے کو ملے گی۔
اسسٹنٹ کمشنر امتیاز احمد خاں کھچی نے ڈی پی ایل کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحتمندانہ سرگرمیاں صحتمند اور خوشحال معاشرے کیلئے انتہائی ضروری ہوتی ہیں اس سلسلے میں ہم ڈی پی ایل انتظامیہ کیساتھ مکمل تعاون کریں گے اور انہیں ہماری جس بھی طرح کی معاونت چاہئے ہوگی ہم فراہم کریں گے تاکہ اس ایونٹ میں کسی کی قسم کی بد مذ گی نہ ہو۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اورامیدوار برائے چیئرمین ضلع کونسل اوکاڑہ راؤ سعد اجمل کا کہنا تھا کہ اس سٹیڈیم میں گزشتہ چار برس سے یہ مقابلے ہورہے تھے مگر اب کی بار ان میں ایک نیا چارم آگیا ہے جس کی وجہ پاکستان سپر لیگ کے آئیڈئیے پر اس کو آرگنائز کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مستقبل میں ایسی خوبصورت اور صحتمندانہ سرگرمیوں کا انعقاد کرتے رہیں گے تاکہ ہمارا نوجوان نشہ اور دوسری غیر اخلاقی سرگرمیوں کا شکار نہ ہو اور وہ معاشرے و ملک کا کاآمد شہری بنے اور اب کی بار اس میں کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کو بھی شامل کیا جائے گا
نائٹ رائیڈر کی فرنچائز کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں اتحاد پریس کلب دیپالپور کا بھی شیئر ہے اس سلسلے میں اتحاد پریس کلب کے جنرل سیکرٹری حافظ جمشید اشرف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی پی ایل ایک منفرد آئیڈیاتو ہے ہی لیکن اس کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ صحافی بھی اس میں عملی طور پر شامل ہوئے ہیں اور وہ ثابت کریں گے کہ وہ صرف لفظوں سے ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی چوکے چھکے مار سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں