depalpur flop severage syestem 766

دیپالپور کا میگا پروجیکٹ فلاپ ہونے کا خدشہ کیوں ؟

تحریر:قاسم علی…
دیپالپور کے شہریوں کودرپیش ایک بڑا مسئلہ سیوریج کا ہے سیوریج منصوبہ کی مد میں بتیس کروڑ روپے کی خطیرلاگت سے ترقیاتی کام ایم پی اے ملک علی عباس کھوکھرکروا تے رہے ہیں.اس بڑے منصوبے کا آغاز 2009ء میں ہوا بلاشبہ یہ منصوبہ انتہائی ضروری ہے لیکن گزشتہ کئی سالوں سے جاری یہ پروجیکٹ آج کل پاکپتن روڈ کے شہریوں کیلئے وبال جان بنا ہوا ہے دوکانداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے ہمارے کاروبار اس سیوریج کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں مقامی لوگوں نے اوکاڑہ ڈائری سے گفتگو میں بتایا کہ ایک تو ادریس رحمانی نامی اس پروجیکٹ کا ٹھیکیدار انتہائی سست روی سے کام کررہاہے اور دوسری اہم بات جو اس سے بھی زیادہ قابل توجہ ہے وہ یہ کہ پائپوں کے جوڑ بھی اس طرح لگائے جارہے ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ جیسے ہی یہ سیوریج چالو ہوگا کچھ ہی عرصہ بعد پائپوں کی لیکج شروع ہوجائے گی اور اگر ایسا ہوگیا تو عوام کے ٹیکسز سے اکھٹے ہونیوالے بتیس کروڑ تو ڈوبیں گے ہی ساتھ میں لوگوں کے کئی گھر بھی ڈوب سکتےہیں۔لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ سیوریج ڈالنے والے عملہ نے ایک اور کرم فرمائی یہ کی کہ روڈ پر پہلے سے موجود مین ہولوں میں مٹی ڈال دی ہے جس کی وجہ سے گھروں کا سارا پانی پاکپتن روڈ پر ہی مسلسل کھڑا رہتا ہے.
depalpur flop severage syestem
یہی نہیں اس بدانتظامی اور سست روی سے اربوں روپے کی لاگت سے بننے والی سڑک کئی جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے اور ٹوٹل پٹرول پمپ اور گلبرگ ٹاؤن کے قریب مارکیٹ دونوں طرف سے ان میں ہولوں میں مٹی بھرنے کی وجہ سے انتہائی پریشان ہے اور لوگ قریبی مسجد جامعۃ القریش میں بھی جانے سے قاصر ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ متعدد بار میونسپل ملازمین کو بھی اپیل کی کہ کم از کم بلدیہ ملازمین مین ہول ہی صاف کردیں تاکہ فی الحال پانی کی روانی متاثر نہ ہو مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی یہاں تک کہ خود ملک علی عباس صاحب نے بھی میرے سامنےاس بارے متعلقہ ذمہ داروں کو کال کی مگران کی بھی نہیں مانی گئی.
جب اوکاڑہ ڈائری ٹیم نے پپلی چوک کا وزٹ کیا تو وہاں گردوغبار کی فضا عجیب منظر ییش کررہی تھی ہر طرف اس طرح حال تھا جیسے ہم کسی صحرا میں آگئے ہوں وہاں کے دوکاندار ہم سے بات کرتے ہوئے پھٹ پڑے.ساجد نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ عید کا موقع ہے مگر اس طرف کوئی گاہک رخ نہیں کرتا جس کی بڑی وجہ یہ سیوریج سیاپا ہے پورے چوک میں یہی حال ہے اب الیکشن کی وجہ سے ترقیاتی کام بند ہوگئے ہیں پتہ نہیں ہمارا کیا بنے گا اور کب اس عذاب سے نجات ملے گی.
مقامی عوام نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیں اور اپنی نگرانی میں کام کروائیں ورنہ آپ لوگوں کی آج کی کوتاہی کی وجہ سے فلاپ ہونے والے اس منصوبے کا خمیازہ دیپالپور کی عوام کو آئندہ پچاس سال بھگتنا پڑے گا۔
جب اس صورتحال بارے ہم نے سابق ایم پی اے ملک علی عباس کھوکھر سے موقف لیا تو ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لیٹ ہونے کی وجہ بروقت فنڈز کی فراہمی نہ سکنا ہے تاہم اب تمام فنڈز فراہم ہوگئے ہیں اور جلد ہی یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا اور شہریوں کو آئے روز بند ہونے والے گٹروں سے نجات مل جائے گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں