دیپالپور اوکاڑہ کی ڈائری 72

دیپالپور کی ڈائری

تحریر:قاسم علی

جون گرمی کے عروج کا مہینہ ہوتا ہے مگر اس بار کا جون گرمی کیساتھ دکھ،رنج و الم اور غموں کا انباربھی ساتھ لایا ۔جون کے پہلے ہی روز سولہ جنازے اٹھائے گئے یہ تمام وہ لوگ تھے اکتیس مئی کی شب خوفناک طوفانی بارش کے دوران مختلف حادثات میں اللہ کو پیارے ہوگئے ان سولہ افراد میں آٹھ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔سب سے پہلی ہلاکت حویلی لکھا میں ہوئی جہاں مکان کی دیوار گرنے سے پچاس سالہ شخص احمد علی جاں بحق ہوگیا۔اس کے بعد اوکاڑہ غوثیہ مسجد چوک میں درخت گرنے سے ایک شخص محمد سہیل ولد لطیف بعمر تقریبا 40/45 سکنہ Dبلاک جاں بحق ہو گیا مرحوم وہاں پر چنا چاٹ کی ریڑھی لگاتا تھا۔اوکاڑہ کے نواحی علاقے بنگلہ گوگیرہ میں تو قیامت صغری برپا ہوگئی جہاں گھر کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد انتقال کرگئے مرنیوالوں میں عورتیں اور بچے شامل تھے چار افراد زخمی بھی ہوئے ۔

ریسکیو ذرائع نے اوکاڑہ ڈائری کو جو تفصیلات فراہم کیں اس کے مطابق اس دلخراش حادثے میں طاہرہ بی بی زوجہ نزیرعمر پینتیس سال،،رانی بی بی زوجہ مقصودعمر بیالیس سال ،عذراں بی بی زوجہ وریام عمر ستر سال،تنزیلہ دختر سلیم عمر سات سال،حارث ولد سیلم عمر تین سال،ضمن رضا ولد نزیرعمر پانچ سال،شگفتہ زوجہ ندیم عمر بائیس سال جاں بحق ہوئیں جبکہ زخمی ہونیوالوں میں کرن بی بی،اقرا،عظمی اور افشاں شامل تھیں ۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ضلع اوکاڑہ میں طوفان سے ایک ہی خاندان کے اتنے افراد کے جاں بحق ہونے کا پہلا واقعہ ہے۔لیکن طوفان کی ہلاکت خیزیاں ابھی مزید جاری رہیں اس کے بعد صدر گوگیرہ میں تیز آندھی سے درخت گرنے سے اس کی زد میں آکر محمد عباس بستی مصطفی آباد چل بسا۔حویلی لکھا کی نواحی بستی مولیا چشتی میں بھی طوفانی بارش دو افراد کی جان لے گئی جبکہ دو افراد زخمی بھی ہوئے۔اوکاڑہ کے نواحی گاں 22ون آر بی میں مکان کی چھت گرنے سیماں اور بیٹی جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوگئے۔جاں بحق ہونیوالوں کی شناخت 35 سالہ سمیرا بی بی اور تین سالہ بیٹی نورین کے ناموں سے ہوئی۔دیپالپور شاہی مسجد کے قریب ایک دیوار گرنے سے ندیم اشفاق نامی نوجوان شدید زخمی ہوگیا جسے طبی امداد کیلئے ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا.
دیپالپور اوکاڑہ میں طوفانی بارش سے سولہ افراد جاں بحق

ان سب جاں بحق ہونیوالوں کے جنازے ایک ہی روز اٹھائے گئے یوں اس طرح یکم جون ضلع اوکاڑہ کا یوم سوگ بن گیا۔اس شدید طوفانی بارش کے باعث بجلی کا نظام بھی مکمل طور پر درہم برہم ہوگیا تاہم واپڈا اہلکاروں نے بڑی جانفشانی سے محنت کرتے ہوئے اس کو بحال کردیا۔ دوسری جانب ریسکیو اہلکاروں کی کارکردگی انتہائی خراج تحسین کی مستحق ہے جنہوں نے زخمیوں اور نعشوں کو قریبی ہسپتالوں میں پہنچایا ۔اس کیساتھ ساتھ تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ بھی چوکس رہی اور تمام زخمیوں کو بروقت طبی امداد دے کر اپنی ڈیوٹی بخوبی سرانجام دے کر کئی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس واقعہ کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مقامی انتظامیہ فوری جائے وقوعہ پر پہنچتی اور متاثرین کی اشک شوئی کرتی مگر ایسا نہ ہوسکا تاہم پاکستان تحریک انصاف کی ضلعی قیادت بنگلہ گوگیرہ میں ضرور پہنچی جہاںایک ہی خاندان کے آٹھ افرادجان سے گزرگئے تھے۔ضلعی صدر سیدعباس رضا رضوی نے کہا کہ وہ غم کی اس گھڑی میں ان کیساتھ برابر کے شریک ہیں علاوہ ازیں انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ متاثرہ خاندان کی امداد کیلئے وزیراعلیٰ کو سفارشات بھیجیں گے اور وزیراعلیٰ جلد یہاں وزٹ کر کے امدادی پیکج کا اعلان کریں گے۔

چاند بی بی ویلفیئر فاؤنڈیشن کا فری میڈیکل کیمپ

ضلع اوکاڑہ میں صحت کی سہولیات کی کمیابی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے خاص طور پر دیپالپور اور حویلی لکھا کے ہسپتالوں کو تو ریفر پوائنٹ کہا جانے لگا ہے تاہم کچھ درد ِ دل رکھنے والے افراد اپنا کردار بحسن و خوبی سرانجام دیتے رہتے ہیں چھ جون کو حویلی لکھا کی معروف تنظیم چاند بی بی ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے لگایا جانیوالا فری میڈیکل کیمپ اس کی بہترین مثال ہے۔اس کیمپ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں نہ صرف ہیپاٹائٹس جیسے موذی مرض کے مہنگے ٹیسٹ فری کئے گئے بلکہ اس کیلئے درکار ادویات بھی مفت دی گئیں ۔یہی نہیں اس کے علاوہ دیگر کئی امراض میں مبتلا سینکڑوں مریض بھی اس کیمپ سے مستفید ہوئے۔ یاد رہے یہ تنظیم حویلی لکھا کی معروف سماجی شخصیت دیوان شاہزیب نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ان کے ایصال ثواب کی نیت سے قائم کی تھی جس کے تحت اب تک کئی بچیوں کی شادیاں،رمضان اور کرونا وائرس کے دنوں میں غرباء میں راشن اور ایمبولینس سروس شروع کرنے جیسے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔

جگنو ویلفیئر فاؤنڈیشن کا فری میڈیکل کیمپ

اسی روز جگنو ویلفیئر فاؤنڈیشن نامی تنظیم نے بھی فری میڈیکل کیمپ منعقد کیا یہ اس تنظیم کی جانب سے لگایا جانیوالا تیسرا فری میڈیکل کیمپ تھااس کیمپ میں سینکڑوں مریضوں کو فری چیک اپ اور ادویات فراہم کی گئیں ۔جگنو ویلفیئر فاؤنڈیشن علی جگنو نامی نوجوان نے کچھ عرصہ قبل یہ تنظیم قائم کی جس کا مقصد ہسپتالوں میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا مریضوں کو خون عطیہ کرنا تھا اور یہ تنظیم اس میں خاصی حد تک کامیاب بھی رہی ہے اور اب تک بیشمار مریضوں اور خاص طور پر تھیلیسیمیا کا شکار بچوں کی جان بچانے میں اس تنظیم کو اللہ نے وسیلہ بنایا ہے ۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ صحت سہولت کارڈ پر پہلے دو ہسپتالوں میں علاج ہوتا تھا لیکن اب کوثرمیٹرنٹی اینڈ سرجیل ہسپتال بھی اس فہرست میں شامل ہوچکا ہے جہاں پر معروف گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر یاسمین کوثر سمیت تجربہ کار سرجن ،آرتھوپیڈک ،آئی سپیشلسٹ سمیت انتہائی قابل سٹاف عوام کی خدمت کیلئے دستیاب ہوگا۔

دیپالپور،کوثر میٹرنٹی اینڈسرجیکل سنٹر پر صحت سہولت کارڈ کے تحت علاج ممکن ہے،جاویدجسکانییپالپور

کوثرمیٹرنٹی اینڈسرجیکل ہسپتال کے اونر جاوید اشرف جسکانی نے بتایا کہ صحت کارڈ کے حامل افراد کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ ہسپتال سے ڈسچارج کے وقت بھی فری ادویات اور ایک ہزار روپیہ کرایہ دیا جاتا ہے اور یہ سب اس قدرشفاف انداز میں ہوتا ہے کہ کسی بھی قسم کی کرپشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ دیپالپور میں طویل انتظار کے بعد نئے اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی عمل میں آگئی اور راؤ آصف حسین نے اپنی ذمہ داریو ں کا چارج سنبھال لیا ہے یہ اہم ترین سیٹ کئی ماہ سے خالی تھی اب دیکھتے ہیں کہ نئے اسسٹنٹ کمشنر دیپالپور شہر میں صفائی ستھرائی اور دیگر معاملات کو کس طرح ہینڈل کرتے اور سدھارتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں