649

رینالہ میں عطائی ڈاکٹر کے ہاتھوں معصوم بچہ قتل،ماں پر غشی کے دورے

رینالہ خورد(چوہدری شاہد رسول سے)عطائیت کا ناسور بیشمار افراد کی ہلاکت اور معذوری کا باعث بن چکا ہے مگر اس کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا گزشتہ روزرینجرز سے ریٹائرڈ ملازم کا اکلوتا بیٹا چار سالہ معصوم پھول غلام مصطفی ڈاکٹر کی غلط تشخیص کی بھینٹ چڑھ گیا معصوم کی لاش دیکھ کر صدمہ سے والدہ پر غشی کے دورے پڑنے لگے لواحقین کا شدید احتجاج ڈاکٹر اور عطائی کمپوڈر کے خلاف سخت ترین کاروائی کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق نصرت ٹاون رینالہ خورد کا رہائشی ظفر اقبال جوکہ پاکستان رینجرز سے ریٹائرڈ ہے کے ہا ں شادی کے پندرہ سال بعد دعاوں منتوں مرادوں کے بعد بیٹا غلام مصطفی پیدا ہوا جو اس وقت نجی تعلیمی ادارے میں KGکا طالب علم تھا کو گزشتہ روز معمولی طبعیت خراب ہونے پر شیر گڑھ روڈ پر واقع ڈاکٹر کامران شکور کے پاس لایا گیا۔جہاں منع کرنے کے باوجود ڈاکٹر اور اس کے عطائی ڈسپنسر نوید نے مبینہ طور پر اس کو ہائی پوٹینسی انجکشن لگا دیا بچے کی حالت غیر ہونے پرڈاکٹرا ور کمپاؤڈر کلینک چھوڑ کر فرار ہو گئے معصوم غلام مصطفی ڈاکٹر کی نان تجربہ کاری کی بھینٹ چڑھ کر تڑپ تڑپ کر خالق حقیقی سے جا ملا جبکہ اس کے والدین سخت صدمے سے نڈھال ہیں اور میاں شہباز شریف سے انصاف کی اپیل کررہے ہیں۔

لواحقین نے اس واقع پر شیرگڑھ روڈ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈاکٹر اور عطائی ڈسپنسر کے خلاف سخت ترین کاروائی کا مطالبہ کیا ۔اس المناک حادثے نے ہمارے پرائیویٹ طبی نظام پر بہت سے سوالیہ نشان چھوڑے ہیں ۔غلام مصطفی کی الم ناک موت بھی ایک قتل ہے لاحقین خصوصا ماں اور باپ کو انصاف کون دے گا یہ محکمہ صحت اور ارباب اقتدار کے لیے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں