364

رینالہ کے ایک بدقسمت خاندان کی رُوداد

تحریر؛قاسم علی ….
عام طور پر کہاجاتا ہے کہ ریاست رعایا کی ماں ہوتی ہے مگر پاکستان میں عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا رہتا ہے کہ عوام پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ جاتے ہیں مگر ریاست کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی یہی وہ بے حسی ہے جو ریاست اور عوام کے مابین دوری کا باعث بنتی ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ دسمبر 2016ء میں صدیق نے اپنے بھائی کی فیملی کیلئے کھانے کی دعوت کی مگر عین اس وقت جب یہ تمام لوگ کھانا کھارہے تھے مکان کی چھت ان پر آن گری اس حادثے نے چار افراد کی جان لے لی اس کے بعد حکومتی وعدے تو میڈیا پر بہت دیکھنے میں آئے مگر حقیقت میں اس خاندان کو دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا گیا یہ خاندان آج کس حال میں ہے یہ جان کر واقعی آپ بھی یہ کہہ اٹھیں گے کہ کیا واقعی مائیں ایسی ہوتی ہیں ؟
مدینہ ٹاؤن رینالہ کا رہائشی پینتالیس سالہ محمد صدیق اس واقعے کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ
یہ دسمبر2016ء کا مہینہ تھاکہ ایک دن مجھے میرے بھائی محمد حنیف کا فون آیا کہ وہ رینالہ آرہاہے وہاں پر والدین کی قبروں پر مل کرجائیں گے جس پر میں نے گھر بیگم کو کھانے کا سامان لے کر دیا تھوڑی ہی دیر بعد میرا بھائی اوکاڑہ سے میرے پاس پہنچ گیا اس کیساتھ میری بھابی اور اس کی شیر خوار بیٹی بھی تھی ہم سب قبرستان چلے گئے واپسی پر کھانا لگ چکا تھا ہم سب ہنسی خوشی کھانا کھانے بیٹھ گئے ساتھ ساتھ خوش گپیاں بھی جاری تھیں کیوں کہ بھائی سے کافی دیر بعد
ملاقات ہوئی تھی مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا عین اسی دوران ہمیں یوں لگا جیسے ہم پر آسمان ہی ٹوٹ پڑا ہو جس کمرے میں ہم بیٹھے تھے اس کی چھت ہم پر آن گری جس کے مجھے مقامی ہسپتال میں ہوش آیا اس حادثے نے مجھ سے میرا بھائی ،بھابی ،بھتیجی اور میرا جواں سال بیٹا عبدالطیف چھین لیا ۔
میری دنیا اجڑ چکی تھی میرا جان سے پیارا بھائی اور میرے بڑھاپے کا سہارا اٹھارہ سالہ بیٹا مجھے چھوڑ کرجاچکے تھے یہ میرے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھا مگر ابھی میرے ساتھ اور بھی بہت کچھ ہونا باقی تھا ۔
یہ اندوہناک واقعہ ہوتے ہی اس وقت کی اسسٹنٹ کمشنر کنول نظام بھٹو اور ڈی سی او سقراط امان رانا موقع پر پہنچے اور آتے ہی گھر کو سیل کرنے اور اس واقعے کے ذمہ داران کو کیفرکردار پہنچانے کا کہہ کر چلتے بنے جس کے بعد ہمیں پتا چلا کہ سقراط امان رانا صاحب نے ٹی ایم اے رینالہ خوردکے بلڈنگ انسپکٹر حق نواز کو معطل کرکے اپنی ڈیوٹی بخوبی نبھا دی ہے جبکہ دوسری جانب ہمارے فوت شدہ افراد کی نعشوں کے کفن دفن اور آخری رسومات کی ادائیگی اہل محلہ نے مل کر کی
حکومت نے ہمارے گھر کو سیل تو کردیا مگر ہمارے رہنے کا کوئی بندوبست نہ کیا گیا ہم ایک ہفتہ تک سڑک پر ٹینٹ لگائے بیٹھے رہے ہمارے انٹرویوز ہوئے اخبارات میں خبریں چھپیں مگر کسی حکومتی ادارے کو ہماری حالت پر ترس نہ آیا آخرکار رینالہ کے ہی مخیر حضرات نے ہمارے لئے کرائے کے ایک مکان کا انتظام کیا جس کے پہلے مہینے کے کرائے کی ادائیگی تو مقامی افراد نے کردی تاہم اس کے بعد میں محنت مزدوری کرکے کرایہ دیتا رہا ۔
محمد صدیق نے بتایا کہ ابھی بھی اس کے زخم بھرے نہیں تاہم مکان کا کرایہ، گھر کے اخراجات اور بیوی کے علاج معالجے کیلئے مجھے مزدوری کرنی پڑتی ہے کبھی دیہاڑی لگتی ہے کبھی نہیں لگتی میرااٹھارہ سالہ جوان بیٹا جس کی ن وکری کیلئے میں کوشش کررہاتھا کہ میرا سہارا بنے گا مگر ایسا نہ ہوسکا اس حادثے کے بعد زندگی گزارنا کسی اذیت سے کم نہیں کئی بار جی چاہا کہ خود کشی کر کے میں بھی اپنے بھائی اوربیٹے کے پاس چلاجاؤں مگر پھر سوچتا ہوں میرے بعد میری بیٹیوں اور بیوی کا کیا بنے گا
صدیق نے بتایا کہ اس نے امداد کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب سمیت کئی افراد اور کئی اداروں کو درخواستیں دیں مگر کچھ نہ بن پایا
ساجد حسین رینالہ کے رہائشی ایک سماجی کارکن ہیں ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی فرد کسی بھی حالت میں اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالتا ایسے افسوسناک حادثات اچانک ہی ہوتے ہیں ایسے میں ریاست جسے رعایا کی ماں کہاجاتا ہے کو چاہئے کہ صدیق سمیت تمام ایسے افراد کا ڈیٹا جمع کرکے کم از کم ان کی رہائش اور بچوں کی تعلیم کا مناسب انتظام کرے تاکہ ان کے دکھوں کا کچھ ازالہ ہوسکے۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.