439

سردی میں جانوروں کو بیماریوں سے کیسے بچایا جائے ؟

تحریر؛قاسم علی…

سردی کے موسم میں جہاں انسانوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں جانور بھی اس سے بچ نہیں پاتے اور انہیں ٹمپریچر کی کمی کے باعث کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر سجاد احمد دیپالپور کے شفاخانہ حیوانات میں ویٹنری آفیسر ہیں
ان کا کہنا ہے کہ کورے کی شدت کی وجہ سے سردی انتہائی بڑھ جاتی ہے جس کے باعث جانوروں کا ٹمپریچر کم ہوجاتا ہے اور ان کی قوت مدافعت ختم ہوکر رہ جاتی ہے جس سے انہیں بیماریاں لگ جاتی ہیں اور کئی چھوٹے جانور تو مربھی جاتے ہیں علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ اس دوران جانوروں کو خوراک کی کمی کا بھی بڑا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ سردیوں میں پڑنے والا کورا برسیم اور کھاس وغیرہ کو جلا کررکھ دیتا ہے اس کم خوراکی کا نتیجہ دودھ کی کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔تاہم انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تحصیل بھر کے جانوروں کو چیک کرنے اور ان کی بروقت امداد کیلئے موبائل وین سروس شروع کررکھی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وقت کیساتھ ساتھ سردی کے موسم کا دورانیہ بھی تبدیل ہوگیا ہے ایک عشرہ پہلے تک نومبر سے سردی کی شدت شروع ہوکر اپریل تک رہتی تھی تاہم اب یہ دورانیہ جنوری سے مارچ تک کا ہی رہ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحصیل دیپالپور زراعت کیساتھ ساتھ جانوروں کے لحاظ سے بھی انتہائی زرخیز ہے جہاں پر ساڑھے سات لاکھ بھینسیں،ڈھائی لاکھ بھیڑ بکریاں اور ایک لاکھ سے زائد مرغیاں و دیگر پرندے موجود ہیں۔
جانوروں کو لگنے والی بیماریوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
سردی کی شدت بڑھتے ہی بھیڑبکریوں میں کلورو نمونیا کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں جس کی علامات میں نزلہ زکام نمایاں ہوتا ہے جس کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مرض خاصی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اس لئے محکمہ لائیوسٹاک سردیوں کے آغاز سے ایک ماہ پہلے ہی ان جانوروں کو اس بیماری سے بچانے کیلیئے حفاظتی ٹیکہ جات لگادیتا ہے۔
مرغیوں اور کبوتروں وغیرہ کوسردی کے موسم کے دوران رانی کھیت اور کوارائزہ جیسی امراض سے واسطہ پڑتا ہے جس میں انہیں سانس کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے جس سے بچاؤ کیلئے ہم انہیں بھی ویکسین فراہم کرتے ہیں۔
بڑے جانوروں بھینس اور گائے وغیرہ میں قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے تاہم اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو انہیں نمونیا ہوسکتا ہے تاہم چھوٹے بچھڑے اور کٹے سردی کی شدت کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرسکتے اور بعض اوقات بائیو تھرمیا نامی بیماری ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہے کیوں کہ سردی کی شدت کے باعث ان جانوروں کا نارمل ٹمپریچر جوکہ ایک سو تین تک ہوتا ہے میں نمایاں کمی ہوجاتی ہے اور جانور کھانا پینا چھوڑدیتا ہے اور آخرکارمرجاتا ہے۔

ایسا عام طور پر باڑے کے مناسب انتظام نہ ہونے اورجانوروں کو اچھی خوراک فراہم نہ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کو ہمیشہ چھت کے نیچے رکھاجانا چاہئے اور ان کو خوراک میں گڑ اور ونڈا دینے سے انہیں بیماریوں سے کافی حد تک بچایا جاسکتا ہے۔
جانوروں کو ان بیماریوں سے بچانے کیلئے محکمہ لائیوسٹاک کے اقدامات بارے انہوں نے بتایا کہ
تحصیل بھر میں محکمہ لائیوسٹاک کی پچپن ڈسپینسریاں کام کررہی ہیں جن کے پاس تمام جانوروں کی باقاعدہ فہرست موجود ہوتی ہے ہمارا عملہ سردی شروع ہونے سے پہلے ہی نہ صرف یہ کہ تمام جانوروں کو گھروں میں جاکر ویکسین دیتا ہے بلکہ یہ ڈسپینسریاں بغیر کسی معاوضے کے ہمہ وقت اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
اس کے علاوہ مئی 2016ء سے ابتک ہماری موبائل وین سروس بھی جانوروں کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کیلئے متحرک ہے۔
ڈاکٹر سجاد کا کہنا ہے کہ محکمہ لائیو سٹاک کی جانب سے مویشی پال حضرات کو جانوروں کو بیماریوں سے بچاؤ کیلئے پمفلٹس وغیرہ کے ذریعے آگہی بھی فراہم کی جاتی ہے
ان کا کہنا ہے کہ سردیوں میں محکمہ کی جانب سے کئے جانیوالے موثر اقدامات کے باعث بیماریوں کی وجہ سے مرنے والے جانوروں کی ریشو نہ ہونے کے برابر ہے۔تاہم انہوں نے تاکید کی کہ سردیوں میں برسیم میں کڑوی سرسوں کے استعمال سے گریز کیا جانا ضروری ہے کیوں کہ اس میں موجود زہریلے مادوں کے باعث کئی جانوروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )
کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.