govt.girls high school muncharian 638

سرکاری سکول میں تعلیم دشمنی کیوں ؟

تحریر:قاسم علی…
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں بنیادی و کلیدی کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں مفت تعلیم کو عوام کے بنیادی حقوق میں شامل رکھا جاتا ہے ۔اور یہ تعلیم بچوں کو مفت فراہم کی جاتی ہے۔
پاکستان میں حکومت میٹرک تک مفت تعلیم فراہم کرتی ہے یہی وجہ ہے پاکستان میں شرح تعلیم میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔
لیکن اب بھی بعض علاقوں میں ایسا دیکھنے میں آرہاہے کہ جہاں بچوں کو تعلیم دینے کو بھی ذریعہ معاش بنا لیا گیا ہے اور ان سے بلاجوازاِضافی چارجز لئے جارہے ہیں۔
دیپالپور سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں منچریاں میں قائم گورنمنٹ گرلز ہائی سکول منچریاں میں بھی ایسا ہی ہورہاہے ۔گورنمنٹ گرلز ہائی سکول منچریاں میں بچیوں کی تعلیم کا واحدسرکاری سکول ہے جس کی تعداد ایک ہزار ہے ۔
اس سکول میں زیرتعلیم ایک بچی نے بتایا کہ اس کے والدین نے پہلے پرائیویٹ سکول میں مجھے داخل کروایا تھامگر وہاں کی بھاری فیسیں وہ افورڈ نہیں کرسکتے تھے اس لئے مجھے وہاں سے ہٹا کر گورنمنٹ سکول میں لگادیا گیا مگر یہاں پر بھی آئے روز ہم سے پیسے مانگے جاتے ہیں جس کی وجہ سے میرے ابا کہتے ہیں کہ میں تمھیں سکول سے چھڑوا کر گھر بٹھالوں گا۔لیکن میں پڑھنا چاہتی ہوں ۔
دوسری بچی نے بتایا کہ ان سے پیپرمنی کے نام پر چالیس روپے فی کس وصول کئے گئے ہیں ،رزلٹ کارڈ کی مد میں 200روپے فی کس،پانچ پانچ ماہ کی ایڈوانس فیس،تصویروں کیلئے پچاس روپے فی کس ،بورڈ امتحان کیلئے اور شجرکاری کے نام پر دس روپے ہر بچے سے لئے گئے ہیں۔ان بچیوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ میڈم نے ان سے کہا تھا کہ آپ نے اس بارے کسی کو نہیں بتاناہے۔
دسویں جماعت کی ایک طالبہ نے بتایا کہ ان کی پوری جماعت سے داخلہ فیس کی مد میں 1770روپے وصول کئے گئے ہیں۔
دوسری جانب بچیوں کے والدین نے کہا کہ منچریاں ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں زیادہ تر غریب اور دیہاڑی دار لوگ رہتے ہیں ہم حکومت کے مشکور ہیں کہ اس نے مفت تعلیم کی سہولت دے رکھی ہے مگر منچریاں میں موجود گورنمنٹ گرلز ہائی سکول انتظامیہ کی وجہ سے ہمیں بہت پریشانی کا سامنا ہے ۔جن کی طرف سے کبھی پیپرفنڈ تو کبھی شجرکاری کی مد میں اور کبھی کسی اور بہانے سے پیسے بٹورے جاتے ہیں اگر یہی سلسلہ جاری رہاتو ہم بچوں کو سکول سے ہٹانے پر مجبور ہوجائیں گے کیوں کہ ہم اتنے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔
بشارت علی کا کہنا تھا کہ جب ہم نے سکول جا کر بچیوں سے مانگے گئے پیسوں بارے استفسار کیا تو ہم کو کہا گیا کہ اگر آپ نہیں دینا چاہتے تو نہ دیں مگر بشارت علی کا مطالبہ یہ ہے کہ یہ ناجائز اخراجات کسی سے بھی نہیں لئے جانے چاہئیں۔
منچریاں کی رہائشی سماجی شخصیت میاں محمدیٰسین سعیدی کا کہنا ہے کہ منچریاں سکول میں بچیوں سے اضافی پیسے وصول کرنا تو زیادتی ہے ہی لیکن اس سے بھی بڑی زیادتی یہ ہے کہ انہیں جھوٹ بولنے پر مجبور کیا جارہاہے کیوں اس ایشو پر اخبارات میں خبریں لگنے کے بعد بچیوں کو کہا جارہاہے آپ سے کوئی بھی پوچھے آپ نے پیسوں کی وصولی سے انکارکردینا ہے اور اس ضمن میں بعض بچیوں کو پیسے واپس بھی کردئیے گئے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی غیرجانبدار انکوائری ہونی چاہئے اور ملوث افراد کو سخت سزا دی جانی چاہئے۔
پرنسپل آسیہ شاہین نے اس بارے موقف اختیار کیا کہ ہم نے کسی بچی سے بھی کوئی اضافی پیسے وصول نہیں کئے ہیں یہ سب الزامات جھوٹے ہیں اور ہمارے سکول کے عملے میں سے کوئی ملازم اس معاملے کو اٹھا رہاہے۔پرنسپل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سے اس بابت ہمارا محکمہ بازپرس کرے اس کے علاوہ ہم کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔
جب اس ایشو پرڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمداکرام سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ
حکومت بچیوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کے مشن پر کوشاں ہے اور اس ضمن میں سرکاری سکولوں کے تمام بچوں کوکتابیں بھی بالکل مفت فراہم کی جاتی ہیں اور ان سے ماہانہ صرف بیس روپے فروغ تعلیم فنڈ کے نام سے وصول کئے جاسکتے ہیں اس کے علاوہ کوئی بھی چارجز نہیں لئے جاسکتے۔
منچریاں ایشو بارے ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر معاملے کے ہائی لائٹ ہونے کے بعد ہم اس کی مکمل انکوائری کررہے ہیں اگر پرنسپل یا کوئی بھی ٹیچر اس میں ملوث ثابت ہوا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں