550

صحت کے ہفتے عوام کیلئے کتنے سُود مند ثابت ہوتے ہیں ؟

تحریر:قاسم علی …

یہ ایک ازلی حقیقت ہے کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ قوم کی بنیاد بنا کرتا ہے اور بنیادی انسانی حقوق ہر ریاست سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ہر انسان کو یکساں سہولیات ہمہ وقت فراہم کی جائیں اور پوری دنیا میں ایسا ہی کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں حکومت اس حساس ترین معاملے پر بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن رہتی ہے ۔جس کے باعث عوام کو علاج کی بروقت اور بہتر سہولیات نہیں مل پاتی ہیں۔
حکومت پنجاب کی جانب سے صحت کے ہفتے بھی ایسا ہی ایک اقدام ہے جس کو حکومتی اہلکار اور نمائندگان تو عوام کیلئے بہت مفید سمجھتے ہیں مگر اس کے ناقدین کی بھی کمی نہیں جو ان ہفتوں کی بجائے عوام کو صحت کی سہولیات بارے مزید بہتر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ڈاکٹرنوید حفیظ ڈولہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال دیپالپور کے ایم ایس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے سکریننگ ویکس کا آغاز کیا ہے ہم نے پہلے عوام کیلئے سکریننگ شروع کی تین دن میں اٹھارہ سو لوگوں کے مکمل ٹیسٹ لئے گئے اسی طرح اگست میں محکمہ صحت اور نومبر میں محکمہ پولیس کیلئے ہفتہ صحت منایا گیا اس دوران تمام افراد کی سکریننگ کی جاتی ہے جس میں پانچ بیماریوں سے متعلق ٹیسٹ لئے جاتے ہیں جن میں شوگر،ہیپاٹائیٹس،ملیریا،ایڈز اور ٹی بی شامل ہیں اور پھرجو اس مرض میں مبتلا ہو اس کا علاج کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت کیساتھ ساتھ اس سکریننگ کا دائرہ کار عام آدی تک بڑھایا جائے گا اور چالیس سال سے زائد ہر فرد کی سکریننگ شروع کی جائیگی تاہم یہ عمل کب شروع ہوتا ہے اس کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔ انیس فروری سے شروع کئے گئے ہفتہ صحت بارے انہوں نے کہا کہ پہلے ہی دن تین سو افراد کی مکمل اور فری سکریننگ کی گئی ہے اور ہیپاٹائٹس،یرقان،شوگر،ملیریا اور ٹی بی سے متاثرہ افراد کو باقاعدہ ادویات بھی فراہم کی جائیں گی۔
hafta sehat thq depalpur
نجم گیلانی ایڈووکیٹ ایک سرگرم سوشل ورکر اور آوازوجوابدہی فورم کے ضلع اوکاڑہ میں کنوینیئر ہیں انہوں نے کہا کہ
حکومت کی صحت کے حوالے سے ایسی پالیسی یقیناََعوام کیلئے ہرگز سُودمند نہیں ہے کیوں کہ جب حکومت زچہ بچہ کیلئے کسی مخصوص محکمہ یا کمیونٹی وغیرہ کیلئے ہفتہ صحت منعقد کرتی ہے تو اس ہفتے کے علاوہ جب لوگ بیمار ہوتے ہیں تو پھر انہیں ہسپتال آتے ہیں تو انہیں وہ سہولیات نہیں ملتیں جو اس ہفتہ کے دوران ملتی ہیں بلکہ انہیں ایسی کڑوی کسلی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں کہ آپ اس ہفتہ کے دوران کیوں نہیں آئے جبکہ بیماری تو کسی سے پوچھ کر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں صحت کی ابتر صورتحال کی ایک بڑی وجہ ڈاکٹرز کے پرائیویٹ کلینک بھی ہیں۔تمام سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز نے اپنے پرائیویٹ کلینک بنا رکھے ہیں نرسوں اور ڈسپینسرزنے بھی اپنے ہیلتھ سنٹرز نے بنائے ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال میں مفت چیک اپ کرنا پڑتا ہے جبکہ وہی ڈاکٹرز اپنے پرائیویٹ کلینک پر سات سو فیس لیتے ہیں اس طرح نہ صرف وہ حکومت سے ایک سے ڈیڑھ لاکھ تنخواہ وصول کرتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ وہ پرائیویٹ کلینک سے بھی کما لیتے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں بہتری اور یہاں پر بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے پرائیویٹ کلینکوں کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جانا چاہئے۔
amjad waheed daula on health weaks
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور معروف سکالرڈاکٹرامجد وحید ڈولہ نے کہا کہ
پنجاب حکومت کی یہ پالیسی انتہائی مضحکہ خیز ہے خصوصاََ جب کسی سرکاری محکمہ کیلئے ویک منایا جاتا ہے تو اس دوران تمام ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل سٹاف اور لیبارٹری ان محکموں کے ملازمین کیلئے ہی مختص ہوجاتے ہیں جبکہ اس پورے ہفتے میں آؤٹ ڈور میں عوام کو چیک اپ ،ادویات کی فراہمی اور ٹیسٹوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پرتا ہے جو کہ عوام کیساتھ زیادتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں پر ڈاکٹرز کو ڈبل شفٹ کام کرنے کی ہدائت کی گئی ہے اور وہاں کے ہسپتالوں میں ہر وقت ڈاکٹرز عوام کیلئے دستیاب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہاں پر ایسے ہفتوں کی بجائے ہر وقت ہر ایک کو علاج کی بہترین سہولت حاصل ہوتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبوں سے قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچتا ہے کیوں کہ اس پورے ہفتے کے دوران حکومت کی جانب سے تمام بڑے اخبارات میں اشتہارات،شہروں میں بڑی بڑی فلیکسوں اور دیگر طرح سے تشہیر کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے جس پر کثیر قومی سرمایہ فضول میں خرچ ہوتا ہے حکومت کو چاہئے کہ ان پیسوں کو اس اشتہار بازی کی نظر کرے کی بجائے ہسپتالوں کی مجموعی صورتحال کی بہتری اور ڈاکٹرز کو مزیدمراعات دینے پر صرف کرے تاکہ صحت کے ہفتوں کے انتظار کی بجائے عوام کو ہر وقت صحت کی بہترین سہولیات میسر ہوں۔
منظوراں بی بی ڈولہ پختہ کی رہائشی ہیں انہوں نے بتایا کہ میرے آٹھ بچے ہیں مگر مجھے آج تک کسی نے نہیں بتایا کہ زچہ بچہ سنٹر کہاں ہے یا ہفتہ صحت کب منایا جاتا ہے اور اس میں کیا سہولیات ملتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام جب بھی شروع ہوں اس بارے دیہا تی علاقوں میں باقاعدہ اعلانات وغیرہ ہونے چاہیءں کیوں کہ کئی علاقوں میں ٹی وی اور اخبارات نہیں جاتے ۔پروین اختر کہتی ہیں کہ کچھ عرصہ قبل میں ہسپتال گئی وہاں پر عوام کا ایک جم غفیر تھا جو علاج معالجے کیلئے آیا ہوا تھا میرے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس کے ملازمین کے طبی معائنے کیلئے تین روز کیمپ ڈی ایس پی آفس میں لگایا گیا ہے جہاں پر ڈاکٹرز گئے ہوئے ہیں اور یہاں پر صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے اسی لئے اتنا رش ہے اور مجھے یقین ہے کہ آج میری باری نہیں آئیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں