syed zahid shah gilani 894

صدرپاکستان مسلم لیگ ن ضلع اوکاڑہ سید زاہد شاہ گیلانی کی اوکاڑہ ڈائری سے خصوصی گفتگو

تحریر:قاسم علی…
سیدزاہدشاہ گیلانی دیپالپور کی انتہائی معزز و محترم شخصیت ہیں جن کے خاندان نے سیاست میں قدم رکھنے کے بعد دیپالپور کی بہتری کیلئے بہت کام کیا ہے ۔سیدزاہد شاہ گیلانی پینتیس سال سے پاکستان مسلم لیگ ن کیساتھ وابستہ ہیں اور ایک عشرے سے ضلع اوکاڑہ میں ن لیگ کی صدارت بھی ان کے پاس ہے ۔اوکاڑہ ڈائری نے ان سے ملاقات میں مختلف امور پر بات چیت کی جو آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔
اوکاڑہ ڈائری۔شاہ صاحب اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ۔
سیدزاہدشاہ گیلانی۔آج سے تقریباََ ڈھائی سوسال قبل ہمارے بزرگ سیدعبداللہ شاہ دیپالپور میں تشریف لائے اور انہوں نے اس علاقے میں تبلیغ اسلام کے ذریعے دین کو پھیلایا ۔سخی سیدن کی شادی جھنگ میں ہوئی اور انہوں نے جہیز میں سواونٹ لدے ہوئے سامان کے دئیے مگر سخی سیدن نے گھر پہنچتے تک وہ تمام سامان غریبوں میں بانٹ دیا صرف دلہن کی نتھلی باقی تھی اور آج بھی ہمارے خاندان میں کوئی جتنا بھی معاشی بدحالی کا شکار ہوجائے مگر وہ دلہن کی نتھلی نہیں بیچتے ۔
میں 21ستمبر 1952ء کو دیپالپور میں پیدا ہوامیرے والد سید محمداصغر شاہ گیلانی ایک زمیندار تھے جبکہ داداجی سید اکبر شاہ گیلانی برصغیر کے ایک نہائت اعلیٰ پائے کے حکیم تھے اور اس دور میں ان کو شعبہ طب میں اجمل دواخانہ کے بانی حکیم محمد اجمل خان کے برابر مرتبہ حاصل تھا اور اس وقت مقامی علاقے میں جتنے بڑے بڑے خاندان تھے وہ دادا جی کے معتقد بھی تھے اور ان سے علا ج بھی کرواتے تھے۔میرے آباؤاجدادنے اگرچہ انتخابی سیاست میں باقاعدہ حصہ نہیں لیاوہ بھی مگر مسلم لیگ ن کو ہی پسند کرتے تھے اورمسلم لگ کے جلسوں اور پروگراموں کیلئے فنڈز بھی دیاکرتے تھے۔
میرے تین بیٹے ہیں سید نقی گیلانی،سید رضی گیلانی اور سیدفصیح گیلانی ہیں اور تینوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔
اوکاڑہ ڈائری۔زاہد شاہ صاحب آپ اپنے خاندان کی سیاسی جدوجہد کے بارے میں اوکاڑہ ڈائری کے قارئین کوکچھ بتائیں ؟
سیدزاہدشاہ گیلانی۔قیام پاکستان کے بعد سید ناصر شاہ گیلانی کے والد سیدروشن شاہ گیلانی اور میرے سسر سید زین العباد نے ہمارے خاندان میں عملی سیاست کا آغاز کیا اور مسلم لیگ میں انتہائی اہم مقام رکھتے تھے ۔جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جو خاندان بھارت سے ہجرت کرکے دیپالپورآئے ان کو یہاں پر زمینیں بھی سیدزین العباد نے الاٹ کیں جن میں دیپالپور کی معروف بودلہ فیملی بھی شامل ہے ۔سیدروشن شاہ گیلانی میونسپل کمیٹی دیپالپورکے چیئرمین بنے اور پھر ان کے بعد سیدزین العباد گیلانی نے دیپالپور کیلئے بہت کام کیا وہ سیاستدان ہونے کے علاوہ ایک بلندپایہ قانون دان بھی تھے ان دنوں دیپالپور میں وکلاء کی تعداد بمشکل ایک درجن ہوگی۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی کے دوران بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیااور چیئرمین میونسپل کمیٹی منتخب ہوئے اس وقت دیپالپور کے محض نو وارڈ تھے۔انہوں نے اپنے دور میں صاف پانی کے منصوبوں،بلدیہ ٹاؤن ہال کی تعمیر،سیوریج اورپختہ گلیوں سمیت ڈویلپمنٹ سمیت بہت سے انقلابی اقدامات کئے۔ اس کے بعد میرے بڑے بھائی سید محمدغوث عرف چن پیر بھی میونسپل کمیٹی کے ممبر رہے اور یہ سیڑھیاں بھی ان کے نام سے ہی منسوب ہیں ۔انہوں نے اپنے دور میں بیشمار فلاحی منصوبوں پر کام کیا جس میں فری آئی کیمپس کے انعقاد ،انجمن فلاح مریضان و اسلاح معاشرہ کی تشکیل ان کے اہم کارنامے تھے جن کے ذریعے عوام کو بہت فوائد حاصل ہوئے یہ عوا م میں بیداری شعور کی ایک بہترین کوشش تھی ۔
اوکاڑہ ڈائری۔آپ مسلم لیگ میں کیسے آئے ۔
سیدزاہدشاہ گیلانی۔میرے بڑے بھائی سید غوث شاہ گیلانی مسلم لیگ دیپالپور کے تحصیل صدر بھی رہے اور ان کی دعوت پر 1981ء میں میاں نوازشریف نے پنجاب کے وزیرخزانہ کی حیثیت سے دیپالپور کا دورہ کیاجس میں انہوں نے دیپالپور پریس کلب کے عہدیداران کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی اور کھانا ڈیرہ چن پیر پر کھایاتھا یہی وہ وقت تھا جب میں میاں نوازشریف سے متاثر ہوا اور بعدازاں ان سے رابطہ برقرار رہااور یہیں سے مسلم لیگ سے تعلق بنا جو آج تک قائم ہے۔1982ء میں سیدمحمدغوث کے انتقال کے بعد ہماری سیاسی سرگرمیاں بھی محدود ہوگئیں ۔تاہم ملک محمد عباس کھوکھر نے مجھے 1985ء میں پاکستان مسلم لیگ دیپالپور کا صدر بناکر پارٹی کیلئے کام کرنے کی ہدائت کی یوں بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میں نے بھی مسلم لیگ کیلئے کام کا آغاز کردیا۔1990ء میں پہلی بار چیئرمین میونسپل کمیٹی دیپالپوربنا اورپھر دوسال بعد دوبارہ چیئرمین بنا ۔اس دور میں حکومتی فنڈز نہ ہوتے تھے مگر ہم نے اس کے باوجود یہ یادگار دور رہا جس میں کرپشن کا نام تک نہ تھا ہم چائے بھی اپنی جیب سے پیتے تھے ۔اس خلوص کا یہ نتیجہ تھا کہ ہم نے محدود وسائل کے باوجود اس شہر کو روشنیوں کا شہر بنادیا اور ریکارڈ ترقیاتی کام کئے ۔
syed zahid shah gilani
اوکاڑہ ڈائری۔آپ کاپاکستان مسلم لیگ کیساتھ تین عشرے پرانا ساتھ ہے اور آپ پاکستان مسلم لیگ ن ضلع اوکاڑہ کے صدر بھی ہیں مگر اس کے باوجود آپ کی سیاسی سرگرمیاں بہت محدود ہوتی ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟
سیدزاہدشاہ گیلانی۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ میرا مسلم لیگ اور خصوصاََ نوازشریف کیساتھ ذاتی تعلق تھا مگر اس کے باوجود پارٹی قیادت نے ہمیشہ مجھے نظرانداز کیا جب بھی الیکشن ہوئے میں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے لیکن پارٹی نے مجھے سپورٹ کرنے سے انکار کردیا لیکن میں نے اس سب کے باوجود پارٹی کو نہیں چھوڑا بلکہ اس کیلئے قربانیاں دیں ۔حتیٰ کہ 2003ء کے الیکشن میں ہمارے عزیز سیدحسن نے الیکشن میں حصہ لیا تو ہم نے ان کا ساتھ اس لئے دینے سے انکار کردیا کہ وہ شیر کے نشان کی بجائے آزاد لڑرہے تھے۔اس الیکشن میں انہیں بہت تھوڑے ووٹوں سے شکست ہوئی اورآج تک وہ اور میری فیملی مجھے موردالزام ٹھہراتی ہے کہ اگر آپ اس وقت سٹینڈ لے کر ہمارا ساتھ دیتے تو یہ الیکشن سیدحسن جیت سکتے تھے ۔اس کے علاوہ میں نے اپنے بیٹے سید نقی گیلانی کی جاب کو بھی قربان کیا جن کی یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن میں سترھویں گریڈ کی اپوائنٹمنٹ ہوچکی تھی میں اس وقت مسلم لیگ ن کا مقامی جنرل سیکرٹری تھا اورااس وقت مسلم لیگ ن کو یہاں پر کوئی امیدوار نہیں مل رہاتھا تو میں نے سیدنقی کو جاب چھوڑکرالیکشن لڑوادیاجس میں سیدنقی نے سات ہزار ووٹ لئے اور ہارگئے۔اس کے علاوہ ہم نے اپنی پارٹی کیلئے بطور ورکر اتنا کام کیا کہ مسلم لیگ کے مخالف امیدوار کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے یعنی ان کو یہاں سے ووٹ نہ ملنے کے برابر ہوتا تھا ہم نے نوازشریف لورز بنائی جس نے دیپالپور کو ن لیگ کا گڑھ بنانے میں اہم ترین کردار اداکیالیکن ہماری ان قربانیوں کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی یہاں تک کہ ہمیں میونسپل کمیٹی کی چیئرمینی پر بھی سپورٹ نہیں کیا گیا ۔سب سے بڑھ کر ستم یہ کہ اعلیٰ قیادت نے مقامی ایم این ایز اور ایم پی ایز کو اس قدر چھوٹ دے رکھی ہے کہ کسی بھی سرکاری پروگرام یا مسلم لیگ ن کے فنکشن میں بھی مجھے بلانے کی زحمت نہیں کی جاتی۔اور اس کی وجہ صاف طور پر یہی معلوم ہوتی ہے مسلم لیگ ن اور نوازشریف کو ایسے ہی خوشامدی او مفاد پرست لوگوں کی ضرورت ہے جو ہمہ وقت ان کے آگے پیچھے رہیں اور ان کے ہر غلط اور صحیح اقدام پر ان کو ڈیفینڈ کریں اور ہم چونکہ یہ کام نہیں کرسکتے یہی ہمارے نظرانداز کئے جانے کی وجہ بھی ہے مقامی مسلم لیگی قیادت نے اپنے مفادات کیلئے ہمیں دبایا ہے ۔
اوکاڑہ ڈائری۔اب ایک بار پھر الیکشن کی گہماگہمی جاری ہے مگر آپ کی جانب سے سمندر کی سی خاموشی ہے ۔آخر کیوں ؟
سیدزاہدشاہ گیلانی۔ہماری اس سلسلے میں اپنی فیملی اور عزیز واقارب کیساتھ میٹنگز جاری ہیں اور انشااللہ ہم اب کی بار پارٹی کیساتھ اندھا دھند چلنے کی بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے اور ہم انشااللہ ایسا فیصلہ کریں گے جو ہمارے شہر کیلئے بہتری کا باعث ہوگا ۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری اسمبلیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی اور کی تو کیا اپنے شعبہ بارے بھی بات نہیں کرتے۔آپ زراعت کی مثال لے لیں کہ زراعت کا برا حال ہے مگر اسمبلی میں زمینداروں کی اکثریت ہونے کے باوجود کوئی اس پر نہیں بولتا ۔توہم انشااللہ اس بار اس ٹرینڈ سے عوام کو نکالنا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو شعور دیں کہ اب بس ہوگیا اب مزید پسنے کی بجائے بہتر نمائندوں کاچناؤکریں ۔اور ہم ایسے لوگوں کا ساتھ دیں گے جو اپنے مفادات کی بجائے عوامی مسائل کو سمجھیں اور اسمبلی میں ڈسکس کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں