450

عطائیت اور کتنی جانیں لے گی ؟

تحریر:قاسم علی …

کہتے ہیں کہ ریاست اپنی رعایا کی ماں ہوتی ہے جس کے اولین فرائض میں شامل ہوتا ہے کہ وہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کرے مگر افسوس کہ ماضی کی کسی بھی حکومت نے اس معاملے پر سنجیدگی نہیں دکھائی جس کی وجہ سے پورے ملک میں سرکاری سطح پر علاج معالجے کی صورتحال کچھ زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیںآتی۔ موجودہ پنجاب حکومت نے اگرچہ اس حوالے سے کافی کام کیا ہے مگراس کے باوجود جگہ جگہ عطائی ڈاکٹروں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں جو آئے روز کسی نہ کسی کی معذوری یا موت کا باعث بنتے رہتے ہیں رینالہ خورد میں کامران شکور نامی ڈاکٹر نے ناتجربہ کار کمپاؤڈر نوید کے ہاتھوں چار سالہ بچے کی ہلاکت اس کی تازہ ترین مثال ہے۔
ظفراقبال رینالہ خور کے علاقے نصرت ٹاؤن کا رہائشی اور پاکستان رینجرز کا ریٹائرڈ ملازم ہے اس کی شادی کو انیس سال گزر گئے تھے مگر پندرہ سال اللہ نے اولادکی نعمت سے محروم رکھنے کے بعد اللہ نے انہیں چار سال قبل بیٹے کی نعمت سے نوازا جس کا نام غلام مصطفٰی رکھاگیا ۔
واقع کی تفصیلات بتاتے ہوئے ظفراقبال نے تایا کہ
غلام مصطفٰی کو نزلہ زکام اور کھانسی تھی جس پرمیں اسے شیرگڑھ روڈ پر ڈاکٹر کامران شکور کے کلینک پر لے گیا جس نے اپنے کمپاؤنڈر نوید کو ہدائت کی کہ وہ بچے کو یہ ٹیکہ لگادے جو اس نے لگادیا مگر ٹیکہ لگتے ہی بچے کی حالت غیر ہونا شروع ہوگئی جس کودیکھتے ہوئے میں نے شوروغوغا کیا کہ میرے بچے کو بچاؤ مگر اس صورتحال کو ہینڈل کرنے کی بجائے ڈاکٹر کامران شکور اور نوید کلینک چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔
اس کے بعد میں فوراََ رینالہ میں ایک دوسرے ڈاکٹر توفیق کے پاس لے گیا جس نے بچے کو چیک کرکے بتایا کہ اس کا نروس سسٹم انتہائی اپ سیٹ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے اس کا بچنا محال ہے ڈاکٹرتوفیق کے جواب کے بعد ہم اسے چلڈرن ہسپتال لے جارہے تھے کہ رستے میں ہی میرا لعل دم توڑ گیا ۔
بچے کی ہلاکت کے بعد ظفراقبال اور اس کے عزیز و اقارب شدید مشتعل ہوگئے اور انہوں نے کلینک میں توڑ پھوڑ کی اور سڑک بھی بلاک کئے رکھی اس موقع پرظفراقبال نے روتے ہوئے بتایا کہ غلام مصطفٰی پندرہ سال بعد ملنے والی اس کی واحد اولاد اوراس کی کل کائنات تھا مگر ظالم ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر نے وہ بھی مجھ سے چھین کر میری کمر توڑ دی ۔ظفرنے کہا کہ اس نے ڈاکٹر کو کہا کہ وہ ٹیکہ نہ لگائے کوئی سیرپ وغیرہ لکھ دے مگر اس نے یہ کہہ کر کہ ڈاکٹر میں ہوں یا تم اپنے کمپاونڈر نوید کو کہا کہ اسے فوری ٹیکہ لگاؤ جو اس نے پورا ٹیکہ لگادیا زیادہ ڈوز کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آگیا۔
اس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں موجود ایسے مکروہ عناصر کے خلاف گرینڈ آپریشن کرکے سخت ترین کاروائی کریں تاکہ آئندہ کسی کا چراغ گل نہ ہو۔
جاں بحق ہونیوالے غلام مصطفٰی کی ماں جس کوبار بار غشی کے دورے پڑرہے تھے وہ اس حالت میں بار بار کہہ رہی تھی کہ شہباز شریف تم خود کو خادم اعلیٰ کہتے ہو میرے بچے کے قاتل کو ایسی سزا دو کہ آئندہ کسی ماں کی گود نہ اجڑے ۔
عمران علی رینالہ کے رہائشی ہیں انہوں نے کہا کہ
ڈاکٹر کامران ہمیشہ ہائی پوٹینسی اور مہنگی ادویات تجویز کرتے ہیں ان کی اسی لالچی طبعیت نے بچے کی جان لی حکومت کو چاہئے کہ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر مکمل پابندی لگاتے ہوئے ان سرکاری ہسپتالوں کا دورانیہ بڑھائے اور ان سے وہاں ڈیوٹی لے۔
سی ای او ہیلتھ سیف اللہ وڑائچ نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے کسی بھی عطائی پریکٹیشنر کو کام کی اجازت نہیں دی جاسکتی اس سلسلے میں ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے بھی مجھے لیٹر موصول ہوا ہے اور میں نے معاملے کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے وہ جو بھی فیصلہ کرے گی اس کی روشنی میں لواحقین کو ضرورانصاف ملے گا۔
سید طاہربلال شاہ ایک سوشل ورکر ہیں
اگر حکومت سرکاری ہسپتالوں میں مکمل سہولت دے تو عوام کو ان کے پاس نہ جانا پڑے ۔سرکاری ہسپتالوں میں موجود عملہ جان بوجھ کر پرائیویٹ سیکٹر کو پروموٹ کرتا ہے ،پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی کا اعلان ہوا ہے مگر عملدرآمد نہیں ہوتا ،میڈیکل سٹور والے بھی لائسینس کے بغیر پریکٹس کرتے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے ان تمام وجوہات کی وجہ سے اموات بھی ہوتی ہیں اور کئی عذور بھی ہوچکے ہیں ضرورت اس چیز کی ہے کہ حکومت اپنے نوٹیفکیشنز پر مکمل عملدرآمد بھی کروایا کرے۔ اسی طرح ہی عطائیت کا ناسور ختم ہوسکتا ہے
انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہمارا المیہ ہے کہ جب کبھی ایسا واقعہ ہوتا ہے اور میڈیا اس کو ہائی لائٹ کرتا ہے تو حکومت کو کچھ ہوش آتا ہے چند معطلیاں ہوتی ہیں اور چند دن بعد معاملہ پھر ٹھپ ہوجاتا ہے لوگوں کو محفوظ علاج مفراہم کرنے کیلئے ایسے نمائشی اقدامات کی بجائے ٹھوس اور جامع اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں