387

عظیم قلعہ دیپالپور کے عروج و زوال کی داستان

تحریر:قاسم علی

آپ نے اب تک موہنجودڑو،ہڑپہ اور بابل وغیرہ کی قدیم ترین تہذیبوں کے بارے میں سنا ہوگا اور یہ بھی جانتے ہوں گے کہ یہ تمام شہر وقت کیساتھ ختم ہوگئے مگر ہم آج آپکو ایک ایسے شہر سے متعارف کروانے جارہے ہیں جس کی تہذیب ان تمام شہروں کی نسبت نہ صرف زیادہ پرانی ہے بلکہ یہ شہر آج بھی زندہ اور آباد ہے اور وہاں لاکھوں لوگ بستے ہیں جی ہاں یہ شہر ہے دیپالپور۔

دیپالپور شہر برصغیر پاک وہند کا قدیم ترین زندہ شہر ہے۔جو کئی بار امتداد زمانہ کا شکار ہوکر مسمار ہوامگرہربار اس کے کھنڈرات پر پھر سے آبادکاری ہوگئی اور دیپالپور آج بھی زمین کے سینے پر اپنی پوری آب و تاب کیساتھ موجود ہے۔

قلعہ دیپالپور کا داخلی دروازہ جو آج بھی گزرے دنوں کی یادیں تازہ کر رہا ہے

جنوبی پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں واقع تحصیل دیپالپور کو اگر دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کہاجائے تو شائد غلط نہ ہوگا

مشہور بنگالی مورخ ابناش چندرداس کی کتاب ”رگ ویدک آف انڈیا” کے مطابق اس شہر کا پہلا نام سری پور یا سری نگر تھا جسے بعد ازاں سیالکوٹ کے راجہ سلواہان کے بھائی دیپاچند نے اپنے بیٹے راجہ دیپاکے نام پر دیپاپور رکھ دیا جو وقت کیساتھ ساتھ دیپالپور میں تبدیل ہوگیا۔

سو ایکٹر رقبے پر محیط قلعہ دیپالپور کی نایاب سرخ اینٹوں سے بنی پچیس فٹ چوڑی دیواریں اگرچہ آج گردش ایام نے منہدم کردی ہیں مگر ان ٹوٹی پھوٹی دیواروں کے پار آج بھی دیکھنے والوں کیلئے بہت سی داستانیں بہرحال موجود ہیں جن پر وقت کی گرد نے دبیز تہہ چڑھا دی ہے۔

دیپالپور قلعہ کے اندر موجود خستہ دیواریں حکومتی توجہ کی منتظر ہیں

ماضی کا دیپالپور اس قلعے کے اندر تک محدود تھا اس قلعے کے دروازوں پر زمانہ قدیم کے مطابق چوکیاں بنائی گئی تھیں جن کا مقصد دشمنوں پر نظر رکھنا تھا۔ یہ چوکیاں خستہ حالی میں سہی تاہم آج بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

قلعے کے درودیوار آج بھی وہ داستانیں بیان کرتے نظر آتے ہیں جب سکندراعظم 325قبل مسیح میں پوری دنیا میں یلغار کرتا ہوا یہاں پہنچا مگر دیپالپور میں اس کے قدم رک گئے بلکہ یہ بھی مشہور ہے کہ یہاں پر ہی ایک معرکے میں وہ شدید زخمی ہوا تھا اور یہاں پر ایک معرکے کے دوران لگنے والے زہرآلود نیزے کا زخم اس کی موت کا باعث بھی بنا۔ اس زخم کے بعد ہی سکندر نے واپسی کی راہ لی اور واپس جاتے ہوئے بابل کے مقام پر وہ جہان فانی سے کوچ کرگیا۔

بارھویں صدی عیسوی میں جب غیاث الدین تغلق دیپالپور کا حاکم تھا اس وقت اٹھنے والے تاتاری سیلاب کو بھی قلعہ دیپالپور میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تاہم اس جنگ میں قلعے کو کافی نقصان پہنچا جسے 1244ء میں غیاث الدین تغلق نے پھر سے مرمت کیا 1526ء میں جب ظہیرالدین بابر نے برصغیر پر حملہ کیا تو اسے بھی سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا قلعہ دیپالپور میں کرنا پڑا۔جس کا اعتراف اس نے اپنی کتاب تزک بابری میں کیا ہے

قلعہ دیپالپور کے چار دروازے تھے مشرقی گیٹ کو دہلی دروازہ،مغربی گیٹ کو ملتانی دروازہ،شمالی گیٹ کو لاہوری دروازہ اور جنوبی گیٹ کو بیکانیری گیٹ کہتے تھے ان میں مشرقی اور مغربی گیٹ تو موجود ہیں تاہم شمالی اور جنوبی گیٹ ختم ہوچکے ہیں۔

1285ء میں منگولوں سے جنگ کے دوران فیروز شاہ تغلق کا بیٹا محمد شاہ اسی مارا گیا اور اسی دوران مشہور شاعر امیر خسرو کو دیپالپور میں قید کر دیا گیا۔1398ء میں بادشاہ تیمور نے برصغیر پر حملوں کے دوران اس خطے کو ملتان کے بعد خاص اہمیت دی۔1578ء میں اکبر بادشاہ حضرت بابا فرید الدین مسعود کے دربار پر حاضری دینے آئے تو انہوں نے اپنے بیٹے سلیم اور شاہی وفد کے ہمراہ دیپالپور میں قیام کیا۔برطانوی قبضے سے پہلے جو دیپالپور بادشاہوں اور سپہ سالاروں کی توجہ کا مرکز بنا رہا، اسے بعد میں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔اس وقت دیپالپور کو ضلع اوکاڑہ کی ایک تحصیل کا درجہ حاصل ہے۔ماضی میں دیپالپور ایک قلعے میں آباد تھا جس کی فصیل 25 فٹ چوڑی اور گہری ہونے کی وجہ سے خاصی مضبوط تھی۔ اس قلعے کی پہلی دفعہ تعمیر کا کوئی خاص حوالہ تاریخ میں موجود نہیں ہے لیکن چودھویں صدی عیسوی میں اس کی مرمت و تعمیرنو کا کام فیروز شاہ تغلق اور بعدازاں عبدالرحیم خاناں خاں نے کیا۔

فیروز شاہ تغلق نے قلعہ دیپالپور میں ایک کشادہ بھی سرنگ بنوائی تھی جس میں نہ صرف روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام تھا بلکہ یہ اتنی چوڑی تھی کہ دو گھوڑے بیک وقت اس میں دوڑ سکتے تھے اس کے علاوہ اس نے ایک بہت بڑی شاہی مسجد بھی بنوائی جو کہ آج بھی موجود ہے۔

قلعہ دیپالپور میں ہندوؤں کے کئی مندر بھی تھے جن میں پوجا پاٹ کیلئے ہندوستان سے لوگ آتے بھی رہے مگر 1992ء میں بھارت میں جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو مقامی لوگوں نے ان مندروں کو منہدم کرکے ان پر قبضہ کرلیا اور اپنی رہائشیں بنالیں۔

قلعہ دیپالپور میں لالو جسرائے نامی کالونی میں ایک مندر کے آثار آج بھی موجود ہیں یہ وہ جگہ ہے جہاں لالو نامی بچہ اپنی ماں کی بددعا کے نتیجے میں زندہ زمین میں گڑھ گیا تھا جس جگہ وہ غرق ہوا وہاں پر مندر بنادیا گیا وہ مندر تو اب ختم ہوچکا ہے تاہم لالو کے غرق ہونے کی جگہ پر آج بھی ایک پتھر کی چھوٹی سی سلیٹ نشانی کے طور پر پڑی ہوئی ہے۔

اسی مندر سے ملحقہ تباہ حال کمرے کے بارے میں یہاں پر رہائش پزیر اسدللہ نامی شخص نے بتایا کہ فیروزتغلق کی بنائی گئی سرنگ کا ایک دھانہ یہاں پر تھا جو کہ اب بند ہوچکا ہے دوسرے دھانے کا کسی کو کوئی پتہ نہیں۔

قلعہ میں ایک ڈبل سٹوری سرائے بھی موجود ہے جس کے ہر کمرے کیساتھ ہندی زبان میں کچھ لکھا ہوا ہے جو کہ نیم پلیٹ بھی ہوسکتی ہے اس کے کچھ کمرے کھلے ہیں جہاں مقامی لوگ آباد ہوچکے ہیں لیکن اکثر دروازوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ مسلسل حکومتی عدم توجہی کے باعث اس قلعے کی رہی سہی عمارات بھی تباہ حالی سے دوچار ہوتی جا رہی ہیں بلکہ جن بلڈنگوں میں یہاں کے لوگ رہ رہے ہیں ان کی حالت اتنی خستہ ہے کہ کسی بھی وقت انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے اور کئی جانیں انتظامی غفلت کی بھینٹ چڑھ سکتی ہیں۔

مقامی لوگوں نے بھی اس جانب توجہ دینے کیلئے حکومت سے اپیل کی ہے۔

قلعہ دیپالپور برصغیر پاک و ہند کا ایک یادگار تاریخی مقام ہے جس کی طرف حکومتی توجہ نہ صرف سیاحت کو فروغ دے سکتی ہے اور لوگوں کوایسا مقام دیکھنے کو ملے گا جو اب تک دنیا سے اوجھل ہے بلکہ اس اقدام سے مقامی لوگوں کی معیشت بھی بہتر ہوگی۔

اس قلعے کے درو دیوار کی آواز سننے اور محسوس کرنے کیلئے یہ وڈیو ضرور دیکھئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں