317

فون لائن کے بغیر چلتا ریسکیو 1122 آفس

تحریر؛قاسم علی
ریسکیو 1122سروس بلاشبہ اک بہترین سروس ہے جو اس وقت انسان کی امداد کو پہنچتی ہے جب وہ کسی سڑک پر زخمی اور لاوارث پڑا ہوتا ہے تاہم میری حکومت سے اپیل ہے کہ جہاں جہاں یہ سروس فراہم کی جائے وہاں پر اس کی تمام تر ضروریات بھی پوری کی جائیں کیوں کہ اس سروس کا تعلق براہ راست انسانی جان کو بچانے سے ہے
یہ کہنا ہے محمد جاوید کاجو کہ افضل کالونی دیپالپورکے رہائشی ہیں
انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل ان کا بھائی محمد ظفر بہن کیساتھ موٹرسائیکل پر پاکپتن سے دیپالپور اپنے گھر آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگیا اس وقت موقع پر موجود لوگوں نے ریسکیو1122پر فون کیا تو وہ کال سیالکوٹ جاملی جنہوں نے کہا کہ آپ فلاں نیٹ ورک سے دوبارہ کال ملائیں مگر وہ نیٹ ورک کسی کے پاس نہیں تھا ادھر میرے بہن بھائی تڑپ رہے تھے کافی دیر بعد ایک اور شخص وہاں آیا اس نے پھر کال کی جو اوکاڑہ ریسکیو آفس میں ملی جنہوں نے دیپالپور والوں کو اطلاع دی جس کے بعد ریسکیو گاڑی وہاں پہنچ گئی مگر اس وقت تک میری بہن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوچکی تھی جبکہ بھائی بھی ہسپتال جاتے جاتے زیادہ خون بہہ جانے کے باعث چل بسا

جاوید نے بہتے آنسوؤں اور دکھی دل کیساتھ بتایا کہ اگر ریسکیوگاڑی بروقت پہنچ جاتی تو شائد میرے بہن بھائی آج زندہ ہوتے۔
محمد ندیم اصغر ریسکیو 1122دیپالپور کے انچارج ہیں
انہوں نے ریسکیو آفس کو درپیش مسائل بارے کچھ یوں بتایا
ریسکیو1122کی سروس ایک سال قبل شروع ہوئی مگر تاحال یہاں پر پی ٹی سی ایل کی سہولت فراہم نہیں کی گئی جبکہ ہمارا کنٹرول روم ابھی تک اوکاڑہ میں ہے اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب کسی حادثے کی صورت میں کوئی کال کرتا ہے تو وہ کال پہلے اوکاڑہ رسیو ہوتی اور بعض اوقات اوکاڑہ کے علاوہ کسی اور ضلع میں بھی چلی جاتی ہے پھر بار بار کال کرنے سے اوکاڑہ ملتی ہے اور پھر اوکاڑہ والے وائرلیس کے ذریعے ہمیں آگاہ کرتے ہیں جبکہ ہماری وائرلیس کا دورانیہ بھی بہت کم ہے باہمی رابطے کے اس فقدان کے باعث ہمیں حادثے کی اطلاع بہت دیر سے مل پاتی ہے انہوں نے کہا کہ اس خرابی کی وجہ سے ہم ستر فیصد ایمرجنسی سے بے خبر رہتے ہیں اور انہیں ریسکیو نہیں کرپاتے ۔
انہوں نے کہا کہ دفتر میں پی ٹی سی فرہم کرکے اور کنٹرول روم یہاں بنانے سے براہ راست کالیں ہمارے پاس آئیں گی اور بلا کسی تاخیر کے زخمیوں اور مریضوں کی مدد کرپائیں گے
دوسرا بڑا مسئلہ ایمبولینس گاڑیوں کی کمی کا ہے دیپالپور پندرہ لاکھ سے زائد آبادی کا شہر ہے جہاں پر ٹریفک حادثات کی ریشو بھی زیادہ ہے ایسے میں صرف تین گاڑیاں ناکافی ہیں ان کی تعداد کم از کم دس ہونی چاہئے۔
ندیم اصغر نے بتایا کہ اس آفس کا عملہ صرف تیس افراد پر مشتمل ہے جن کی تعداد کم از کم سو ہونی چاہئے اتنی تعداد کیساتھ ہم آٹھ آٹھ گھنٹے کی تین شفٹیں بناکر بہتر سروس فراہم کرسکتے ہیں
ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب ہم کسی بہت زیادہ سریس زخمی کو ہسپتال لاتے ہیں تو ٹی ایچ کیو ہسپتال امرجنسی والے اس کو اس لئے رسیو نہیں کرتے کہ ان کے پاس آرتھو پیڈک یا میڈیکل سپیشلسٹ نہیں ہے لہٰذا اس زخمی کو ہمیں خود اوکاڑہ پہنچانا پڑتا ہے اور اس دوران دیپالپور میں کسی حادثے سے نمٹنا ہمارے لئے مشکل ہوجاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ دفتر میں کام کرنے کیلئے بہتر ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمارے نزدیک بنایا گیا مذبح خانہ ہمارے لئے کسی عذاب سے کم نہیں جبکہ ریسکیو دفتر سے ملحقہ گندا نالہ دفتر کی نہ صرف دیواروں کو کمزور کررہاہے بلکہ اس کا تعفن بھی ہمیں پریشان کرتا ہے۔
مظہر نواز ایک سوشل ورکر ہیں
ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو آفس کا شہر سے کافی باہر تنگ سڑک پر ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جہاں سے شہر کی مین سڑک پر پہنچنے میں ہی پانچ منٹ لگ جاتے ہیں یہ دفتر رضوی چوک یا قائد اعظم چوک میں ہونا چاہئے تھا تاہم اب بھی ان چوکوں پر ریسکیو پوائنٹ بناکر وہاں گاڑیاں کھڑی کی جاسکتی ہیں اس طرح وہ بروقت جائے حادثہ پر پہنچ سکتی ہیں۔
ملک علی عباس کھوکھر مقامی ایم پی اے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایمبولینس گاڑیوں ،دفتر کے عملے اور دیگر مسائل کے حل کیلئے وہ اگلے ہفتے لاہور جاکر خود وزیراعلیٰ سے گزارش کریں گے اور اس مسئلہ کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیاجائے گا۔

Subscribe
ہماری تمام سٹوریز اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کیلئے سبسکرائب کیجئیے
I agree to have my personal information transfered to MailChimp ( more information )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.