680

لائبریریوں کا ختم ہوتا ہوا خطرناک رجحان

تحریر:قاسم علی

ہماری بدقسمتی ہے کہ نوجوان نسل نے کتاب سے دوری اختیار کرلی ہے یہ کتاب سے دوری ہی کا نتیجہ ہےکہ ہم میں سے اخلاقیات و تہذیب نکلتی جارہی ہے اگر پاکستان نے حقیقی طور پرعلم دوست ملک کا درجہ حاصل کرنا ہے تو ہمیں ہر شہر میں اچھی لائیبریریاں قائم کرنا ہوں گی اور نوجوانوں کو کتب بینی کی جانب راغب کرنا ہوگا۔
یہ کہنا تھا ڈھکی بازار میں ایک دوکان میں قائم نجی لائبریری میں بیٹھے حافظ افتخار کا جو یہاں بیٹھے کسی دینی کتاب کے مطالعے میں محو تھے۔
لائبریری کے مالک قاضی عبدالروف نے بتایا کہ سے وہ اپنی دوکان پر کتابیں اور کاپیاں وغیرہ بیچتے آرہے ہیں بعدازاں انہیں کسی دوست نے مشورہ دیا کہ وہ ساتھ میں لائبریری بھی بنالیں چنانچہ انہوں نے کچھ کتابیں بھی رکھ لیں۔
ابتدائی چند سالوں میں کام بہت اچھا رہااس وقت روزانہ ساٹھ ستر لوگ کتابیںلے جاتے تھے اور معقول آمدن ہوجاتی تھی مگر ایسا زیادہ عرصہ تک نہیں رہا کیوں کہ انٹرنیٹ کی آمد اور موبائل کی بہتات نے نوجوانوں کی ترجیح اور سوچ بدل دی۔
انہوں نے بتایا کہ اکثر کتابیں انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہوجاتی ہیں چنانچہ لائبریریاں ویران ہوتی گئیں اور 2010ء کے بعد تو بس اکا دکا لوگ ہی کتاب لینے آتے ہیں۔
کتاب کا روزانہ کرایہ پانچ روپے ہوتا ہے تاہم اس کیلئے باقاعدہ ممبر شپ دی جاتی ہے اور 300روپے سیکیورٹی کے طور پر بھی لئے جاتے ہیں۔
قاضی عبدالروف نے بتایا کہ اب نوجوان زیادہ تر جاسوسی اورایڈونچر پر مبنی ناول اور کتابیں شوق سے پڑھتے ہیں جن میں ان کی پہلی ترجیح مشہورزمانہ عمران سیریز ہوتی ہےجبکہ خواتین رومانوی ناولز کی دلدادہ ہیں۔
انہوں نے بڑے افسوس بھرے لہجے میں بتایا کہ دیپالپور جیسے تاریخی شہر کے لوگوں کو اپنی تاریخ سے کوئی دلچسپی نہیں اور شازونادر لوگ ہی تاریخی کتب کی ڈیمانڈ کرتے ہیں ۔

اسی طرح کی ایک اور چھوٹی سی لائبریری دیپالپور کی حیدر مارکیٹ میں بھی بنائی گئی ہے لائبریری کے مالک سیف نیازی نے بتایا کہ کتابیں پڑھنا ان کا شوق تھا اور وہ چاہتے ہیں کہ لوگ بھی کتابیں پڑھیں اور ان سے استفادہ کریں اس لئے انہوں نے چھ ماہ قبل لائبریری بنانے کی ٹھانی مگر کافی زیادہ کتابیں گم ہوجانے کی وجہ سے میری بہت پریشانی اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا مگر میں ہمت نہیں ہارا اس کے باوجود میں عید کے بعد مزید کتابیں لاوں گا کیوں میں سمجھتا ہوں کہ کتب بینی ہمارے معاشرے کیلئے بہت ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ فی کتاب پانچ روپے یومیہ کرایہ چارج کرتے ہیں جبکہ اگر کسی کو کوئی کتاب پسند آجائے تو وہ مناسب داموں پر اس کوفروخت بھی کردی جاتی ہے۔

محمد زاہد دیپالپور کی واحد سرکاری لائبریری کے اٹینڈنٹ ہیں انہوں نے بتایا کہ ٹی ایم اے دیپالپور میں 1960میں لائبریری قائم کی گئی جس میں 1302کتابیں ہیں
2008ء میں حکومتی احکامات کے بعد اس لائبریری کو ہائی سکول میں شفٹ کردیا گیا جہاں سٹوڈنٹ 45منٹ کی تفریح کے دوران ان کتب کا مطالعہ کرتے ہیں اس کے علاوہ عام شہریوں کو بھی شناختی کارڈ پر کتاب پڑھنے کیلئے مہیا کردی جاتی ہے۔
محمد زاہد نے بتایا کہ یہ 2000ء کے بعد حکومت کی جانب سے لائبریری کیلئے نئی کتب نہیں خریدی گئیں۔
ایک سٹوڈنٹ محمد احمد نے سجاگ کو بتایا کہ یہ انٹرنیٹ کا دور ہے مگراسے کتب بینی کا جنون کی حد تک شوق ہے لیکن شہر میں کسی اچھی لائبریری کے نہ ہونے کی وجہ سے مجبوراََ ہمیں انٹرنیٹ سے کتب ڈاون لوڈ کرکے پڑھنا پڑتی ہیں جس سے نوجوان آنکھوں کے امراض میں مبتلاہوجاتے ہیں
محمد احمد نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہر شہر میں بہترین لائبریری کا قیام عمل میں لائے جہاں عام شہری اور امتحانات سے فارغ ہونے والے نوجوان اپنا وقت صرف کریں اس طرح کتب بینی کا رجحان پیدا ہوگا۔
ایک بزرگ شہری محمد آصف نے بتایا کہ جب تک ہم میں کتاب بینی تھی اور کتاب سے پیار کیا جاتا تھا تب تک ہمارے نوجوان میں لحاظ اور بزرگوں کا احترام بھی موجود تھا مگر اب مشینی دور نے کتب بینی کو مفتود کردیا ہے تو اخلاقیات کا بھی جنازہ نکل گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں