893

محکمہ زراعت کی جڑی بوٹی مکاؤ مہم کتنی موثر ؟

تحریر قاسم علی…

جس طرح انسانوں کو جراثیم نقصان پہنچاتے ہیں اسی طرح جڑی بوٹیاں فصلوں کیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں اس سلسلے میں پنجاب حکومت کی ہدائت پر چارسے بارہ مارچ تک جڑی بوٹی مکاؤ پیداوار بڑھاؤ مہم پورا ہفتہ جاری رہی۔
ضلع اوکاڑہ میں اس مہم کا افتتاح ڈپٹی کمشنر صائمہ احد نے کیا تھا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام تسلسل کیساتھ مستقبل میں بھی جاری رہنے چاہیئں اور فصلوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے محکمہ زراعت کو چاہئے کہ ہر علاقےمیں جاکر آگہی فراہم کرے تاکہ کسان اور زمیندار جڑی بوٹیوں کے مضر اثرات سے اپنی فصلوں کو بچا سکیں۔
چوہدری فاروق جاوید ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ضلع اوکاڑہ ہیں
انہوں نے اس مہم کے بارے میں بتایا کہ پنجاب حکومت کی ہدائت پر شروع کی گئی اس مہم میں ہم نے ضلع بھر کے گیارہ مراکز میں آگہی پروگرام منعقد کئے ہر مرکز میں منعقد کئے جانیوالے دو پروگراموں میں کسانوں اور زمینداروں کو جڑی بوٹیوں کے نقصانات بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس کے علاوہ ہم نے اس مہم کو مزید موثر بنانے کیلئے ضلع کے بیس سکولوں میں بھی سیمینارز کئے اور ایف ایم ریڈیو پر بھی پروگرام چلائے گئے جبکہ مرکز میں روزانہ کی بنیاد پر سیمینارز منعقد کئے جاتے رہے جن میں زرعی ماہرین اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے کسانوں کو انتہائی مفید لیکچرز دئیے۔

agriculture okara

اس سلسلے میں مختلف این جی اوز کے تعاون سے بھی اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا گیا اور ہر گلی اور گاؤں میں جڑی بوٹیوں سے بچاؤ کیلئے معلوماتی بروشرز اور کتابچے تقسیم کئے گئے۔
چوہدری محمد سرور اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت دیپالپور ہیں انہوں نے بتایا کہ ضلع اوکاڑہ پنجاب کا بہترین زرعی علاقہ ہے مگر خطرناک جڑی بوٹیوں کے متعلق مناسب آگہی نہ ہونے کے باعث یہاں پر پیداوار کم ہوتی ان کا کہناتھا کہ جڑی بوٹیاں بھی زندہ ہوتی ہیں جن کا وجود ہمارے ماحول پر گہرے اثرات ڈالتا ہے ان میں بعض جڑی بوٹیاں ایسی ہوتی ہیں جو جانوروں کیساتھ ساتھ انسانوں کیلئے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہیں گاجر بوٹی بھی ان بوٹیوں میں شامل ہے۔
گاجر بوٹی اتنی نقصان دہ ہے کہ اس کو کھانے سے جانوروں کو بیماریاں تو لگتی ہی ہیں اس کیساتھ یہ اتنی جراثیم ذدہ ہے کہ انسان اگر صرف اس کو چھوہی لے تو اس سے اس کو دمہ،ٹی بی اور دیگر جِلدی امراض لگ سکتی ہیں۔
راؤ ریاض احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر رینالہ ہیں
انہوں نے بتایا کہ اس مہم کے تحت ضلع اوکاڑہ کی دیگر تحصیلوں دیپالپور اوکاڑہ کی طرح رینالہ میں بھی کسانوں اور زراعت سے وابستہ تمام افراد کو جڑی بوٹیوں کے نقصانات اور ان کے تدارک سے متعلق آگاہ کرنے کیلئے ریلی اور سیمینار منعقد کیا گیا۔
جڑی بُوٹی کی تعریف کیا ہے ؟ یہ پیدا کیسے ہوتی ہے ؟ اور ان کا تدارک کیسے ممکن ہے اس بارے میں بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
ہر وہ پودا جو اگائی گئی فصل کی بجائے کوئی اور ہو اسے جڑی بوٹی ہی سمجھا جاتا ہے جڑی بوٹیاں اگائی نہیں جاتیں بلکہ یہ از خود ہی پیدا ہوجاتی ہیں اور یہ بغیر کسی تخصیص کے ہر فصل میں اُگ آتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جڑی بوٹیاں نہ صرف خود جراثیم کا گڑھ ہوتی ہیں بلکہ اگر ان کو فوری تلف نہ کیاجائے تویہ جراثیم کو پھیلانے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں عام طور پر یہ کھڑے ہوئے پانی،کھالوں کے اردگرد یا جس کھیت میں یہ ہوتی ہیں وہاں بھی ان کا بیج بن جاتا ہے جو بڑھتا رہتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ان جڑی بوٹیوں کو اگر بروقت کنٹرول نہ کیاجائے تو پیداوار میں پچیس سے پچاس فیصد تک متاثر کرسکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جڑی بوٹیوں سے نجات کے مختلف طریقے ہیں جن میں سے ایک گوڈی کرنا،درانتی،گوبل ،ہل یا دیگر زرعی آلات کے ذریعے ان کو ختم کرنے کا ہے جبکہ دوسرا طریقہ کیمیکل سپرے کا ہے مارکیٹ میں ایسے سپرے باآسانی دستیاب ہیں جو کرنے سے فصل کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا مگر اس سے تمام جڑی بوٹیاں جل کر ختم ہوجاتی ہیں۔اس کے علاوہ ایک اور سپرےجسے زرعی زبان میں بلائنڈ سپرے کہاجاتا ہے بھی کیاجاتا ہے اس سپرے کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ ہر پودے کو جلا کر راکھ کردیتا ہے مگر یہ کسی فصل پر نہیں بلکہ کھلی جگہوں پرپیدا ہونے والی جڑی بوٹیوں کے خاتمے کیلئے کیاجاتا ہے۔
غلام رسول نے بتایا کہ اس نے پچھلی بار مکئی کاشت کی تھی مگر زیادہ تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے جڑی بوٹیوں نے میری فصل کو کافی نقصان پہنچایا مگر اس بار محکمہ زراعت کی جانب سے بروقت آگہی مہم شروع کئے جانے کے باعث مجھے اس بارے مکمل معلومات مل گئی ہیں اب مجھے کوئی پریشانی نہیں۔
چوہدری عاطف اقبال منچریاں یونین کونسل کے چیئرمین اور ایک زمیندار ہیں ان کا کہنا ہے کہ محکمہ زراعت کی جانب سے یہ مہم خوش آئند ہے لیکن اس میں ایک کمی یہ رہی کہ یہ مہم زیادہ تر شہری علاقوں اور سکولوں میں چلائی گئی اور دیہاتوں میں محض پمفلٹ اور ہنڈ بل تقسیم کرنے پر اکتفا کیا گیا جس کا کسانوں کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ سکتا کیوں کہ دیہات میں کسانوں کی بڑی تعداد تعلیم یافتہ نہیں ہوتی۔
انہوں نے تجویز دی کہ یہ سیمینار اور پروگرام ان فصلوں کے نزدیک اور دیہاتی علاقوں میں ہونا چاہئے اور کسانوں کو جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے جدید طریقوں سے روشناس کرنے کیلئے باقاعدہ بریکٹس کروانی چاہئے اور یہ سلسلہ صرف چند روزہ مہم تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس کو سارا سال جاری رہنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں