no confidence move against mian fakhar masood bodla 1,159

معاملہ چیئرمین بلدیہ میاں فخرمسعود بودلہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا

تحریر:قاسم علی…
سیاسی اختلاف رائے جمہوری حق ہے اسی لئے ایک یونین کونسل کا چیئرمین ہو یا وزیراعظم ان کے انتخاب کے وقت اکثریتی حمائت ضروری ہوتی ہے اور اگر اختلاف رکھنے والے زیادہ ہوں تو اس کو عہدہ نہیں دیاجاتا۔اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے دیپالپور میونسپل کمیٹی کے چیئرمین میاں فخرمسعود بودلہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد 11اگست کو پیش کی جارہی ہے ۔
میاں فخر مسعود بودلہ نے سیاسی زندگی کا آغاز 1983ء میں اپنے ماموں میاں محمدعمربودلہ کے دور میں کیا جو کہ دیپالپور کی معروف سیاسی شخصیت تھے ۔1987ء میں میاں فخرمسعود پہلی مرتبہ جنرل کونسلرمنتخب ہوئے بعدازاں بھی کونسلر منتخب ہوتے رہے جبکہ 2007ء میں یونین کونسل 104کے وائس چیئرمین بھی منتخب ہوئے ۔اور اکتوبر 2015ء کے الیکشن میں بلامقابلہ جنرل کونسلر منتخب ہوگئے کیوں کہ ملک اعجاز الرحمان ایڈووکیٹ آخری وقت میں ان کے حق میں دستبردار ہوگئے ۔
اس کے بعدمیونسپل کمیٹی کے چیئرمین کا مرحلہ آیا تو اس وقت ان کے مدمقابل انہی کے ہی عزیزمیاں بلال عمر بودلہ تھے جو کہ برادری اور پارٹی مشاورت کے بعد میاں فخرمسعود کو چیئرمین کا امیدوار نامزدکیا گیااور میاں بلال عمر بودلہ ان کے حق میں دستبردار ہوگئے اس طرح بلامقابلہ کونسلر کے بعد میاں فخرمسعود بودلہ چیئرمین بھی بلامقابلہ منتخب ہوئے اور یہ دیپالپور کی بلدیاتی تاریخ کا پہلا واقعہ بھی تھا۔
جولائی کے آخر میں چیئرمین میاں فخر مسعود بودلہ نے اجلاس طلب کیاجس میں 2017ء میں پیش کئے گئے اٹھارہ کروڑ روپے کے بجٹ سے بھی ساڑھے تین کروڑ روپے کے اضافی اخراجات ظاہر کئے گئے تھے ۔چیئرمین صاحب نے ہاؤس سے اپیل کی کہ تمام ممبران ان اضافی اخراجات کی منظوری دے دیں۔جس پر ممبران میونسپل کمیٹی نے اس منظوری کو فنانس کمیٹی کی منظوری سے مشروط کردیا ۔ممبران کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا جائے کہ یہ اضافی فنڈز کس مد میں خرچ کئے گئے ہیں ۔
ممبران میونسپل کمیٹی نے ہاؤس کو اعتماد میں لئے بغیر اضافی بل کو پاس کروانے کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے عدم اعتماد کا فیصلہ کیا اس سلسلے میں انہوں نے باقاعدہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اوکاڑہ کو درخواست پیش کی کہ وہ اپنے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا چاہتے ہیں ۔جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گونمنٹ اوکاڑہ کی جانب سے گونمنٹ آف دی پنجاب سیکرٹری لوکل گورنمنٹ وکمیونٹی ڈویلمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن نمبری SOR(LG)38-28/2017کے تحت تمام جملہ ممبران و کونسلرزکو میونسپل کمیٹی دیپالپور میں گیارہ اگست دن 11:30اطلب کیا گیاہے ۔
no confidence move against mian fakhar masood bodla
اس تحریک عدم اعتماد کی بازگشت ہر طرف ہے اور ہرکوئی اس پر چہ میگوئیاں کررہاہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حال ہی میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک علی عباس کے خلاف میاں فخرمسعود بودلہ کے عزیز میاں بلال عمر بودلہ کا الیکشن لڑنا بھی ہے۔
میاں فخرمسعود بودلہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر اور انہوں نے ہاؤس کو بڑی خوبصورتی سے چلایا ہے ان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت کی جانب سے انہیں انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا جارہاہے جبکہ الیکشن لڑنا ہر ایک کا جمہوری حق ہے اور بودلہ برادری نے یہ حق استعمال کرکے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب اس تحریک کے روح رواں رانا سیف اللہ خان اور وائس چیئرمین راجہ غضنفرجتالہ کا کہنا ہے کہ ہماری اس موومنٹ کو سیاسی انتقام کا نام دینا جمہوری روایات سے واقفیت کا نہ ہونے کی وجہ سے دیاجارہاہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام نے منتخب کیا ہے تو وہ ہم سے پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کی گلیوں میں صفائی ستھرائی کیوں نہیں ہورہی اور ہمارے گھروں میں گٹروں کاگندا پانی کوں داخل ہورہاہے تو بالکل اسی طرح ہم بھی اپنے چیئرمین سے فنڈز کے استعمال بارے پوچھنے کا پورا حق رکھتے ہیں اور یہی کچھ ہم نے کیا ہے جس کا مناسب جواب نہ ملنے پر ہم نے وسیع تر شہری مفاد میں چیئرمین تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ ایک دو شخصیات کا نہیں بلکہ ہمارے ساتھ شامل اکثریتی اراکین کا متفقہ فیصلہ ہے ۔
اس بارے جب شہریوں سے رائے لی گئی تو ملے جلے تاثرات سننے کو ملے تاہم ایک بزرگ کی بات بہت معقول تھی کہ میاں فخرمسعود بودلہ کو چیئرمین پاکستان مسلم لیگ ن بنوایا اس کے بعد بودلہ برادری کو چاہئے تھا کہ اپنی ہی پارٹی کے امیدوار برائے ایم پی اے ملک علی عباس کھوکھر کے خلاف الیکشن نہ لڑتے لیکن اگر انہوں نے الیکشن لڑنے کا جمہوری حق استعمال کیا ہے تو بجٹ کا آڈٹ اور تحریک عدم اعتماد بھی توممبران میونسپل کمیٹی کا جمہوری و آئنی حق ہے اس کو انتقامی کاروائی کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔
بہرحال 11اگست کو دن ساڑھے گیارہ بجے اجلاس میں سامنے آجائے گا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا نہیں تاہم دونوں طرف سے کامیابی کے دعوے ئے جارہے ہیں اور اس سلسلے میں میاں فخرمسعود بودلہ کو ایک بڑی خوشخبری اس وقت ملی جب سید زاہد شاہ گیلانی کے بیٹے سید نقی گیلانی،وقاربابرچنڈور،ممتاز پھلرون ایڈووکیٹ اورامتیازاحمدکوکب نے بھی میاں فخرمسعود کی حمائت کا اعلان کردیا اس کے بعد سوشل میڈیا پر خبریں گردش میں ہیں کہ تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار ہوگئی ہے.یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سیف اللہ خان گروپ تحریک پیش ہی نہ کرے .تاہم اس کا حتمی فیصلہ تو آج بارہ بجے ہی ہوگا اور یہ یاد رکھئے گا کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں