825

ملئے بیسٹ میڈیکل آفیسر آف دی ایئر ڈاکٹر عادل رشید سے

تحریر:قاسم علی…
ڈاکٹری ایک معزز پیشہ ہے جس میں آنیوالوں کوانسانیت کی خدمت کے بہترین مواقع ملتے ہیں مگر اس سے بھی بڑھ کر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ہاتھ میں قدرتی طور پر اتنی شفا اور زبان میں اتنی مٹھاس رکھی ہوتی ہے کہ ہر کوئی ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے ڈاکٹر عادل رشید بھی ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیت ہیں جن کو ان کی خدمات کے صلہ میں حکومت پنجاب کی جانب سے صحت خدمت ایوارڈز تقسیم پروگرام میں ”بیسٹ میڈیکل آفیسر آف ساہیوال ڈویژن”کے اعزازسمیت متعدد ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا جا چکا ہے.
پینتالیس سالہ ڈاکٹر عادل رشید نے اوکاڑہ ڈائری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ
انہوں نے اوکاڑہ کے علاقے سمن آباد میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شخص کے ہاں آنکھ کھولی وہ پانچ بھائی ہیں ابتدائی حالات اگرچہ کچھ زیادہ سازگار نہ تھے والد صاحب ایک چھوٹی سی جاب کرتے تھے جس سے گھر کا گزراوقات بڑی مشکل سے ہوتا تھابعد میں وہ ملازمت بھی جاتی رہی مگر ہمارے والد نے ہمت نہ ہاری اور ایک سائیکل مرمت کی دوکان کھول لی کیوں کہ ہمارے والد کے ارادے بلند اور نیک تھے اس لئے قدرت نے بھی ان کی مدد کی اوراس نئے کاروبار سے کم از کم اتنی آمدن شروع ہوگئی کہ ہم پانچوں بھائیوں کے تعلیمی اخراجات نکلنے لگ گئے میں نے میٹرک ایم سی ہائی سکول اوکاڑہ اور ایف اے ڈگری کالج اوکاڑہ سے کیا اور کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد میو ہسپتال میں ہاؤس جاب کی اور پھر میری پہلی تعیناتی2010ء میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال دیپالپور میں ہوئی ۔
آپ اس فیلڈ میں کیسے آئے اور کس لمحے آپ نے ڈاکٹربننے کا فیصلہ کیا تھا اس سوال کے جواب میں ڈاکٹرعادل رشید نے کہا کہ
انہوں نے بچپن میں کبھی بھی ڈاکٹر بننے بارے نہیں سوچا تھامیں بیوروکریٹ بننا چاہتا تھا البتہ میرے والد صاحب کی یہ خواہش تھی کہ عادل کو ڈاکٹر بنانا ہے اگرچہ وہ مجھے ڈاکٹر بنتا دیکھ نہ پائے اور 1995ء میں چل بسے تاہم میں نے ان کی وفات کے بعد یہ اٹل فیصلہ کیا کہ وہ اپنے باپ کے اس خواب کو ضرور عملی جامہ پہنائیں گے بس اس کے بعد میں نے یہ مشن بنالیا کہ اس شعبہ میں اپنانام بنائیں گے اور دکھی انسانیت کی خدمت کرینگے۔
ٹی ایچ کیو دیپالپور میں اپنی تعیناتی کے ابتدائی ایام بارے بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ
2010ء میں جب انہوں نے یہاں پر ڈیوٹی سنبھالی شروع میں مجھے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑااس کی ایک وجہ تو بڑے شہر سے چھوٹے شہر میں آنا بڑا عجیب لگا دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ یہاں پر کام کا بہت بوجھ تھا مجھے آتے ہی اس بات کا علم ہوچکا تھا کہ یہاں پر کوئی ڈاکٹر اس لئے زیادہ دیر نہیں ٹکتا کہ اسے ہرروز پانچ سو مریضوں کو اکیلے چیک کرنا پڑے گا کیوں ویسے بھی ان دنوں یہاں پر میرے سوا کوئی اور میڈیکل آفیسر موجود بھی نہ تھا لیکن میرے سامنے میرا مشن اور میرے باپ کا خواب تھا جس نے مجھے اس چیلنج کو قبول کرنے کا حوصلہ دیا اور اس چیلنج کا مقابلہ میں نے اس طرح کیا کہ میں اپنے گھر سے بستر بھی اٹھاکر ہسپتال اپنے آؤٹ ڈور کے کمرے میں لے آیا اور یہ بستر میں تب تک اپنے گھر نہ لایا جب تک ایک اور میڈیکل آفیسر یہاں نہیں آگیا جو مریضوں کی دیکھ بھال کرسکے ۔
اب تک ملنے والے صحت خدمت ایوارڈز بارے انہوں نے بتایا کہ
2016ء میں حکومت پنجاب نے محکمہ صحت کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی حوصلہ افزائی کیلئے صحت خدمت ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیاجس کے مطابق ہر ٹی ایچ کیو،تحصیل لیول،ڈسٹرکٹ لیول اورڈویژن لیول پر ہرتین ماہ بعد اعلیٰ کارکردگی پرایوارڈز دینے کا اعلان کیا گیا جس پر پہلے ٹی ایچ کیو اور تحصیل لیول پر مسلسل چارمرتبہ یہ ایوارڈ مجھے ہی ملا جبکہ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر آفس سے مجھے بہترین میڈیکل آفیسر کا ایوارڈ اور ڈیڑھ لاکھ روپے کا چیک ملا اور اسی طرح ساہیوال ڈویژن کی جانب سے بھی بیسٹ میڈیکل آفیسر کا اعزاز اور ستر ہزار نقد حکومت کی جانب سے عطاکئے گئے ہیں ۔
اپنی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے ڈاکٹر عادل رشید نے بتایا کہ ایک مرتبہ محفل نعت سے واپسی پر تین ڈاکوؤں نے ان سے گن پوائنٹ پر نقدی اور موبائل چھین لئے چندروز بعد انہی میں سے ایک ڈاکو ایکسیڈنٹ میں زخمی ہوکر میرے ہی پاس علاج کیلئے لایا گیا جسے میں نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا مگر میں نے نہ تو اسے کچھ کہا اور نہ ہی پولیس کو اطلاع دی بلکہ اپنے فرض کے مطابق اس کا علاج کیا ۔
ڈاکٹرعادل رشید اپنی تمام تر کامیابیوں کو اپنے والدین کی دعاؤں اور دیپالپور کی عوام کی محبتوں کا ثمر قراردیتے ہیں۔
ڈاکٹر نوید احمد ڈولہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال دیپالپور کے ایم ایس ہیں ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عادل رشید ایک ایماندار اور انتھک انسان ہیں جو ہر مریض کو اس طرح ٹریٹ کرتے ہیں جیسے وہ ان کا بھائی یا بیٹا ہو یہی وجہ ہے کہ یہاں کی عوام ان سے بے پایاں محبت کرتی ہے اور ان کے ہاتھ میں شفا بھی ہے اور حکومت کی جانب سے انہیں اس کا صلہ ایوارڈز کی صورت میں مل رہاہے۔اور ساہیوال ڈویژن بیسٹ میڈیکل آفیس کااعزاز واقعی قابل رشک ہے ۔
حافظ محمد شفیق جو کہ ٹی ایچ کیو کے ڈسپینسر ہیں اور خود انہیں بھی صحت خدمت ایوارڈ اور کیش انعام ملاہے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عادل رشید اچھے مسیحا ہونے کیساتھ ساتھ نہائت شفیق اور نیک انسان بھی ہیں اور اپنے ماتحت عملہ کیساتھ ان کی محبت اور لگاؤ ایسا ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔
ملک مظہر نواز نوناری انجمن بحالی معذوراں رجسٹرڈ ضلع اوکاڑہ کے صدر ہیں انہوں نے کہا کہ معذورافراد کو علاج معالجے کیلئے خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا تاہم اب انجمن بحالی معذوراں کی کوششوں سے ضلع اوکاڑہ کے تمام ہسپتالوں میں اس حوالے سے صورتحال کافی بہتر ہوچکی ہے لیکن ڈاکٹر عادل رشید ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے کسی حکومتی آرڈر یا نوٹیفکیشن کے بغیر بھی ہمیشہ معذورافراد کو پوری توجہ اور محبت دی ہے جس کیلئے معذورافراد ان کو بہت عزت و قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ دیگر ڈاکٹروں کو بھی ان کی تقلید کرنی چاہیئے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں