mian manzoor wattoo family joined pti 879

میاں منظور احمد خان وٹو کی نئی سیاسی حکمت عملی کتنی موثر ثابت ہوگی ؟

تحریر:قاسم علی…
سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد خان وٹو ملکی سیاسی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل رہاہے ۔وٹوصاحب کو جوڑتوڑ کی سیاست کا بادشاہ کہاجاتا ہے ماضی میں ان کے سیاسی داؤپیچ خاصے کامیاب رہے ہیں اور اسی بناپر انہوں نے ایک مرتبہ صرف ڈیڑھ درجن امیدواروں کیساتھ وزارت اعلیٰ بھی حاصل کرلی تھی۔
حالیہ الیکشن میں میاں منظور احمد خان وٹوایک بار پھر بہت سرگرم ہیں اور پی ٹی آئی سے طویل مزاکرات کے بعد اپنے بیٹے میاں خرم جہانگیروٹواور بیٹی روبینہ شاہین وٹو کیلئے ٹکٹ حاصل کرچکے ہیں جبکہ وہ خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے۔
میاں خرم جہانگیروٹو پی پی 186،روبینہ شاہین وٹو پی پی 185سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور یہ دونوں حلقے این اے 144کے تحت آتے ہیں جہاں پر میاں صاحب خود آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔اس طرح این اے 144کا پینل وٹو فیملی پر مشتمل ہے۔
mian manzoor wattoo left ppp
اس سے قبل میاں منظور احمدوٹو این اے 143سے بھی الیکشن لڑنے کا اعلان کرچکے تھے اور اس کیلئے انہوں نے اس حلقہ سے کاغذات نامزدگی بھی جمع کروا رکھے تھے۔تاہم اب انہوں نے این اے 143میں پی ٹی آئی کے امیدوار سیدگلزارسبطین شاہ کو سپورٹ کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے این اے 144میں ان کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کرکے میدان میاں منظور احمدخان وٹو کیلئے کھلا چھوڑدیا ہے۔جس کا صاف مطلب ہے کہ پی ٹی آئی اس حلقے میں میاں منظور احمد وٹو کو جتوانا چاہتی ہے ۔
میاں منظور احمدوٹو کے حامی اور پی ٹی آئی کو اقتدار میں دیکھنے کے خواہشمند وٹو خاندان کو ٹکٹ دینے کے فیصلے کوپسندیدگی کی نظرسے دیکھ رہے ہیں ان کا کہنا ہے ان حلقوں میں پی ٹی آئی کے پاس کوئی مضبوط امیدوار نہیں تھا جو یہ سیٹیں نکال سکے جبکہ میاں منظوروٹو سیاست کا ایک بڑا نام ہے جو اپنی ساکھ کی بدولت تمام سیٹیں باآسانی جیت جائیں گے۔
مگر پاکستان پیپلز پارٹی نے ان کے مقابلے میں شہزاد نول کو ٹکٹ جاری کردیا ہے جس کا بہرحال کچھ نقصان منظور وٹو کو ضرور ہوگا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے ہی مقامی رہنماؤں کا موڈ کچھ اورہی نظر آرہاہے۔اور وہ ان حلقوں میں پارٹی پالیسی پر شدیدنالاں ہیں۔
اس سلسلے میں ٹکٹ کے اجراء سے ایک رات قبل این اے 144،پی پی 185اور پی پی 186کے پی ٹی آئی رہنماؤں نے ایک ہنگامی اجلاس سردار علی حیدروٹو کی رہائشگاہ پر منعقدہوا جس میں حلقہ پی پی 185اور پی پی 186کے امیدواروں جن میں سابق ایم پی اے دیوان اخلاق احمدوامیدوار پی پی 186،میاں ظفریٰسین وٹو،جاویداحمدمہار
،صدرپی ٹی آئی تحصیل دیپالپورفیاض قاسم وٹو،سردارجاوید اقبال کوئیکاوٹو،میاں غلام رسول بازیدیکاوٹونے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ ان حلقوں میں پی ٹی آئی کے امیدواروں میں کسی کو ٹکٹ دینے کی بجائے کسی پیراشوٹر کو سامنے لایا گیا تو ہم ہرگز اس کو سپورٹ نہیں کریں گے بلکہ ہم سب مل کر اس کو شکست دیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ گزشتہ گیارہ سال سے وابستہ انتہائی سرگرم رکن عمرمیواتی نے کہا کہ
ہم نے پاکستان تحریک انصاف کیلئے گیارہ سال دھکے کھائے ہیں،تشدد برداشت کیاہے الغرض ہرقسم کی قربانیاں دی ہیں مگر پارٹی نے ٹکٹ دیتے وقت ہم سے مشاورت کرنا بھی گوارا نہیں کیا اور اوپر سے ستم یہ کیا کہ ٹکٹیں ان لوگوں کو جاری کردی ہیں جو پی ٹی آئی کے ممبرز بھی نہیں ہیں۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے گیارہ سال انہی لوگوں کے خلاف ہی تو جدوجہد کی ہے جن کو اب ہم پر مسلط کیاجارہاہے جو ہم قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے بعدہم تو مذاق بن کر رہ گئے ہیں ۔
NA 144 pti workers ne kisi ki supprt na krne ka ailan kr dia
عمرمیواتی نے کہا کہ حویلی کا پی ٹی آئی ووٹر،سپورٹر اور ورکرشدیدخواہش رکھتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار آزاد الیکشن لڑیں اس صورت میں ان کی کامیابی یقینی ہوجائے گی کیوں کہ یہاں پر نظریاتی ووٹر ہے جوپی ٹی آئی کے حقیقی ورکر کو ہی جتوانا پسند کرے گااور اس کیلئے دیوان اخلاق اور فیاض قاسم وٹو بہترین چوائس ہیں۔
پی پی 186کی بات کی جائے تو اس میں حال ہی میں شامل ہونیوالی کوئے کی بہاول قانوگوئی کی وجہ سے میاں خرم جہانگیروٹو کی جیت کے امکانات خاصے روشن ہیں یادرہے گزشتہ الیکشن میں اس علاقہ نے راؤمحمداجمل خان کی جیت میں اہم کردار اداکیا تھا مگر نئی حلقہ بندیوں کے بعد یہ علاقہ پی پی 186میں چلاگیا ہے جس کا فائدہ وٹو فیملی کو ہونے کا امکان ہے۔
پی پی 185میں میاں منظور وٹو کی صاحبزادی کا مقابلہ ن لیگ کے افتخارحسین چھچھر کیساتھ ہے ۔افتخار حسین چھچھر یہاں کے مقبول سیاستدان ہیں جنہوں نے عوام کیلئے بہت ترقیاتی کام کئے ہیں اگر روبینہ شاہین وٹو آزاد حیثیت میں یا پیپلزپارٹی کی طرف سے الیکشن لڑتیں تو کبھی نہ جیت سکتیں تاہم پی ٹی آئی ٹکٹ کی وجہ سے یہاں پر کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اوکاڑہ کے برج میاں منظور احمدخان وٹو کی الیکشن 2018ء کیلئے نئی حکمت عملی کہاں تک کامیاب ہوپاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں