dr amjad waheed daula exposed pti 689

پروفیسرڈاکٹرامجدوحیدڈولہ کی تحریک انصاف کو چھوڑنے کی وجوہات

تحریر:قاسم علی…
آج کل سیاسی لحاظ سے بظاہرپاکستان تحریک انصاف کازمانہ چل رہاہے آئے روز ہر پارٹی سے رہنما پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں ۔لیکن ایسے میں دیپالپور سے معروف سیاسی و سماجی شخصیت ڈاکٹرامجدوحید ڈولہ نے پاکستان تحریک انصاف کو خیرباد کہہ دیا ہے ۔ڈاکٹرامجدوحید ڈولہ نے اسلامک سویلائزیشن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کررکھی ہے اس کے علاوہ آپ ملکی و عالمی سطح پر بیشمار سکالرز کانفرنسز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے مقالہ جات پیش کرچکے ہیں۔ڈاکٹرامجدوحید ڈولہ نے پانچ سال قبل یوایم ٹی کے ڈائریکٹر کی پرکشش جاب چھوڑ کر تحریک انصاف جوائن کی ۔لیکن تین روز پہلے انہوں نےانہوں نے دیپالپور میں ایک پرہجوم کانفرنس میں تحریک انصاف سے اپنی پانچ سالہ وابستگی ختم کردی۔صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے کی وجوہات پورے دلائل کیساتھ بیان کیں۔اس پریس کانفرنس اور بعد ازاں اوکاڑہ ڈائری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جو گفتگو کی وہ آپ کے پیش خدمت ہے۔
dr amjad waheed daula press confrence
ڈاکٹرامجدوحید ڈولہ نے کہا کہ پاکستان کی سیاست بدقسمتی سے مفاد پرستی کے گردگھومتی رہی ہے مگرانہوں نے عمران خان کے اس نظرئیے کو دیکھ کر پی ٹی آئی جوائن کی کہ جب تک ہم سسٹم میں نئے اور پڑھے لکھے لوگوں کو نہیں لائیں تب تک تبدیلی نہیں آئے گی اس موقع پر خان صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ الیکٹ ایبلز حلوہ کھانے والے ہوتے ہیں وہ کسی کے وفادار نہیں ہوتے ان مفادپرستوں کا نظرئیے اور نظریات کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن اس نظرئیے پر عمران خان نے اس وقت خود ہی کلہاڑی چلادی جب انہوں نے کہا کہ ہم تو شروع سے ہی الیکٹ ایبلز کی تلاش میں تھے مگر اس وقت کوئی کونسلر بھی ہماری بات سننے کو تیارنہیں تھا ۔عمران خان کا یہ بڑا یوٹرن ان سے علیحدگی کا بڑا سبب بنا۔
ڈاکٹرامجدوحید ڈولہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں پاکستان تحریک انصاف کے پاس دو ایسے مواقع تھے جہاں وہ ڈلیور کرکے خود کو ایک بہترین جمہوری جماعت ثابت کرسکتی تھی مگر ایسا نہ ہوسکا ۔ان میں سے پہلا موقع خیبرپختونخواہ کی حکومت تھی جہاں انہیں مکمل اختیار حاصل تھا کہ وہاں اس طرح کا نظم حکومت اورفلاحی منصوبہ جات مکمل کرکے ایسا ماڈل بناکر دکھاتے کہ سب خیبرپختونخواہ کی ترقی کی مثال دیتے مگر خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی جوائن کرنے والے الیکٹ ایبلز نے ایسا نہ ہونے دیا۔
دوسرا موقع یہ تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے اندر ایک جمہوری نظم پیدا کرکے دکھادیتی کہ جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر میرٹ اور انصاف اکا ایک نظام پیدا ہوجاتا لیکن انٹراپارٹی الیکشن سمیت ایسی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں ۔کیوں کہ پی ٹی آئی میں بھی پہلے تو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی بجائے ایک نوٹیفکیشن کلچر کو فروغ دیا اورسفارش پرپارٹی عہدے ملنے لگ گئے ۔پھر اس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اصرارایک انٹراپارٹی الیکشن کروائے بھی تو دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح انجینئرڈ ہی تھے۔
dr amjad waheed daula left pti
لیکن ان دواہم کاموں کی بجائے پاکستان تحریک انصاف نے دو اور کام کئے جن میں سے ایک 125روز کا دھرنا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ چار حلقے کھولے جائیں تاکہ لوگوں کو پتا چلے کہ 2013ء کے انتخابات شفاف نہیں تھے لیکن کیا آج کوئی یہ یقین کیساتھ کہہ سکتا ہے کہ 2018ء کے انتخابات شفاف ہورہے ہیں ؟یقیناًیہ الیکشن شفاف نہیں ہیں مگر عمران خان نے 2013ء میں اس لئے دھرنا دیا کہ اس وقت شفاف الیکشن نہ ہونے کا نقصان پاکستان تحریک انصاف کو ہوا تھااور اب اس لئے خاموش ہیں کہ 2018ء میں الیکشن شفاف نہ ہونے کا نقصان ن لیگ کو ہوتا نظرآرہاہے۔
دوسرا کام پانامہ ایشو سامنے آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی کرپشن کے خلاف جدوجہد تھی یہ اسی جدوجہد کا ہی نتیجہ تھا کہ نوازشریف اور اس کے ساتھیوں کیلئے گاڈفادراور سسیلین مافیا کے الفاظ استعمال ہوئے لیکن افسوس کہ آج گاڈفادر تو اس جدوجہد کے نتیجے میں جیل پہنچ چکا ہے لیکن اس کے سسیلین مافیا کو پی ٹی آئی کی ٹکٹیں دے دی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ وہ منتخب ہو کر سب کچھ ٹھیک کرلیں گے مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کی ٹیم میں کوئی ایسا بندہ موجود نہیں جو پی ٹی آئی کیلئے ایک نعرہ بھی بنا سکے ۔کیوں کہ پی ٹی آئی کا معروف نعرہ ”دو نہیں ایک پاکستان”بھی پی ٹی آئی کا اپنا نہیں ہے بلکہ یہ 2004ء کے امریکی انتخابات میں امریکی نائب صدر جان ہارورڈ کے ”ون امریکہ”کا چربہ ہے یہی نہیں بلکہ مینارپاکستان پر کی گئی عمران خان کی تقریر بھی جان ہارورڈ کی تقریر کا ہی اردو ترجمہ تھی۔اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے سودن کے ایجنڈے میں پچاس لاکھ نوکریوں اور ایک کروڑ گھروں کا جو اعلان کیا وہ بھی امریکی منشور سے لیا گیا جو وہاں کی صورتحال کے لحاظ سے سیٹ کیا گیا تھا لیکن جان ہارورڈ کی تقریروں کا ترجمہ کرنے والی پی ٹی آئی ٹیم میں اتنی بھی اہلیت نہیں تھی کہ ان اعداد وشمار کو پاکستان کے مطابق ٹھیک کرلیتے۔
موجودہ سیاسی صورتحال پر ان کا موقف یہ ہے کہ ن لیگ کو فیئراینڈفری الیکشن نہیں دیا جارہا اور لیول پلیئنگ فیلڈ بھی نہیں دیاجارہااس طرح یہ انتخاب الیکشن 2018ء کی بجائے سلیکشن 2018ء بن گیا ہے اسی طرح احتساب کا عمل بھی غیرجانبدارانہ نہیں ہے.
amjad waheed daula exposed pti
مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں ہیں لیکن مختلف ایشوز پر جس جماعت کا موقف درست ہوا کرے گااس ایشو پراس جماعت کا ساتھ دیا کریں گے.
مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح انہوں نے تحریک انصاف کی کرپشن مکاؤتحریک اور صاف شفاف الیکشن کی خاطر تحریک کا ماضی میں ساتھ دیا اسی طرح اگر2018ء کے الیکشن صاف شفاف نہ ہونے اور احتساب کے عمل کے غیرجانبدارانہ نہ ہونے پر ن لیگ نے تحریک چلائی تو وہ اس کا بھی ساتھ دیں گے۔اوراسی طرح تحریک انصاف چھوڑنے کے باوجود مستقبل میں کسی ایشو پر تحریک انصاف نے بھی کسی ایشو پر درست موقف اپنا یا تو وہ اس کا بھی ساتھ دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں