police front desk employees 726

پولیس سٹیشنوں میں قائم فرنٹ ڈیسک ملازمین سروس سٹرکچرسے محروم کیوں ؟

تحریر:قاسم علی…
ملک میں امن و امان کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کیلئے محکمہ پولیس کا کردارہمیشہ کلیدی اہمیت کا حامل رہاہے۔ماضی کے ادوار میں پولیس نظام میں خاصی خرابیاں رہی ہیں مگر موجودہ حکومت نے اس میں اصلاحات کیلئے کافی اقدامات کئے ہیں جن کی وجہ سے عوام اور پولیس کے مابین فاصلے بہت کم ہوئے ہیں۔
انہی اقدامات میں ایک احسن اقدام پولیس سٹیشنوں میں فرنٹ ڈیسک کا قیام ہے جو پولیس کے 150سالہ سسٹم میں ایک انقلابی تبدیلی ہے ۔
فرنٹ ڈیسک کا آغاز 2016ء میں کیا گیا اور پنجاب بھر کے 732پولیس سٹیشنوں میں فرنٹ ڈیسک قائم کردئیے گئے ہیں ۔ان فرنٹ ڈیسکوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ عملہ بھرتی کیا گیا ہے جن کو سینئرسٹیشن اسسٹنٹ اور پولیس سٹیشن اسسٹنٹ کہاجاتا ہے۔
police front desk employees
پولیس سٹیشنوں میں فرنٹ ڈیسک کا قیام کسی نعمت سے کم نہیں ہے کیوں کہ اس کے ذریعے عوام کو پولیس میں تعلقات تلاش کرنے اور کسی محرر کی منت سماجت کرنے کی بجائے سیدھا فرنٹ ڈیسک پر جانا ہوتا ہے اور وہاں پر بیٹھے عملے کو اپنا مسئلہ بتانا ہوتا ہے جو اس کی شکائت کو فوری طور پر کمپیوٹرائزڈ کمپلینٹ میں تبدیل کرکے اسے ایک ٹریکنگ نمبر جاری کردیتا ہے جس کے ذریعے کوئی بھی شخص کسی بھی وقت اس درخواست کے بارے میں گھر بیٹھے اپ ڈیٹ حاصل کرسکتا ہے ۔
یہ سسٹم نہ صرف عوام کیلئے بہت مفید ہے بلکہ اس کے ذریعے پنجاب بھر میں تین ہزار کوالیفائیڈافراد کو روزگار بھی ملا ہے ۔صرف ضلع اوکاڑہ میں 62افراد فرنٹ ڈیسک کے شعبہ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ان ملازمین میں فی میل بھی شامل ہیں جو خواتین کے مسائل کو سنتی ہیں اور ان کی رپٹ یا ایف آئی آردرج کرتی ہیں ۔فی میل سٹاف کی وجہ سے خواتین باآسانی اپنے مسائل ان کو بتاسکتی ہیں۔
police front desk employees
اس نئی سروس سے عوام بہت خوش ہیں پولیس سٹیشن دیپالپور میں فرنٹ ڈیسک میں بیٹھے عاصم حسین سے جب ہم نے پوچھا کہ آپ اس تبدیلی کو کیسا سمجھتے ہیں تو اس کا کہنا تھا کہ میری کل موٹرسائیکل چوری ہوئی تھی تو میں نے اپنے ایک سابقہ تجربہ کی وجہ سے اس کی رپٹ لکھوانا بھی مناسب نہ سمجھی مگر مجھے کسی نے بتایا کہ اب وہ سب سسٹم بدل چکا ہے اور واقعی مین یہاں آیا ہوں تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ اتنی آسانی سے اور بغیر کوئی رشوت دئیے میری ایف آئی آر درج ہوگئی یہ میرے لئے بہت خوشگوار تجربہ ہے۔
مگر نئے سسٹم کے ذریعے عوام کو سہولت فراہم کرنے کا باعث بننے والے فرنٹ ڈیسک کے ملازمین انتہائی پریشانی کا شکار ہیں اور پنجاب حکومت کے آئندہ بجٹ سے امیدلگائے بیٹھے ہیں کہ اس میں فرنٹ ڈیسک ملازمین کوبھی زیرغور رکھا جائے گا۔
فرنٹ ڈیسک ملازمین کا کہنا ہے کہ تین سال قبل جب ہمیں بھرتی کیا گیا تو اس وقت ہماری جو تنخواہ مقرر کی گئی اب بھی وہی چل رہی ہے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیاہے جو کہ زیادتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سینئر سٹیشن اسسٹنٹ کی بتیس ہزار جبکہ اس کے جونیئر کیلئے پچیس ہزار روپے تنخواہ مقرر کی گئی تھی۔
فرنٹ ڈیسک ملازمین نے بتایا کہ میاں شہباز شریف نے تین سال قبل تھانہ کلچر میں تبدیلی کرتے ہوئے فرنٹ ڈیسک قائم کئے مگر افسوس کہ تاحال پنجاب بھر کے تین ہزار ملازمین آج بھی بے یارومددگار ہیں کیوں کہ نہ تو ان کو ریگولر کیاگیا ہے اور نہ ہی ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہوسکا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمیں کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا اور بعد ازاں اس کی تجدید کی جاتی رہی ہے لیکن ان کو مستقل نہیں کیاگیا ہے جس کے باعث وہ بہت پریشان ہیں۔
police front desk employees
فرنٹ ڈیسک کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ فرنٹ ڈیسک سسٹم سے تھانہ کلچر میں واقعی بہتری آئی ہے ایسے میں حکومت کو بھی چاہئے کہ اس کے ملازمین کی بھرتی ہمیشہ ہی مستقل بنیادوں پر کرے اور ہمارا باقاعدہ ایک سروس سٹرکچر ہونا چاہئے جس کے تحت دیگر سرکاری ملازمین کی طرح ان کو بھی مراعات وسہولیات ملیں اور تنخواہوں میں اضافہ ہوسکے ورنہ ملازمت کا تحفظ نہ ہونے کی صورت میں سٹاف نوکری چھوڑ کر بھی جاسکتا ہے جیسا کہ اس سے قبل پنجاب میں 98ملازمین اس جاب کو خیرباد کہہ بھی چکے ہیں ۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ اب محرر کا کردار بھی مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے ایسے میں فرنٹ ڈیسک عملہ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کو اس کا حق نہ دینا سمجھ سے بالا تر ہے۔
ملازمین نے اس امید کا اظہار کیا کہ فرنٹ ڈیسک ملازمین کیلئے باقاعدہ سروس سٹرکچر جلد بنایاجائے گا تاکہ تمام عملہ اطمنان سے اپنے فرائض بخوبی سرانجام دیتا رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں