پھلرون کمبوہ کے عوام کی فریاد کون سنے گا ؟ 111

پھلرون کمبوہ کےعوام کی پکارکون سنے گا ؟

اوکاڑہ ڈائری رپورٹ

املی موتی سے پھلرون کمبوہ اور لالو پور تک کارپٹ سڑک،واٹر فلٹریشن پلانٹ جسکے نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے بوڑھےبیمار ہورہے ہیں اور گورنمنٹ بوائز پرائمری، گرلز پرائمری سکول جو کہ قیام پاکستان سے پہلے1903 میں بھی پرائمری تھے اور اب بھی پرائمری ہیں جو تقریبا اب بند ھوتے جارھے ہیں خاص کر گرلز سکول کو ہائی کروایا جائے جو تعداد نہ ہونے کی وجہ سے بند ھوتے جارہے ہیں ۔

اس علاقہ کی غیور عوام نے گزشتہ جنرل الیکشن میں جن امیدواروں کو ووٹ دیا تھا اس امید کے ساتھ کہ شاید ان کے حالات میں تبدیلی آجاۓ گی۔سید گلزار سبطین شاہ اور چوہدری طارق ارشاد کو اس علاقہ کی عوام نے دل کھول کر سپورٹ کیا۔ان صاحبان نے بھی دوسرے سیاستدانوں کی طرح دوران الیکشن بلند وبالا جھوٹے وعدوں کا انبار لگا دیا تھا۔جن میں سے اس علاقہ کی مین سڑک کی تعمیر سرفہرست تھی۔

اس علاقے کے لوکل سیاسی چہرے بشمول بہت سارے وکلاء حضرات بھی طفل تسلیوں میں مصروف رہے ۔الیکشن کے بعد سے آج تک تقریباً ہر دو تین ماہ بعد سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا جاتا رہا کبھی فنڈ آرہا ہے تو کبھی ریلیز ہوگیا ہے مگر ان سیاسی جوکروں کے اعلانات کے باوجود ابھی تک سڑک ویسے کی ویسے ہی ہے اور دور دور تک اس کی تعمیر کے کوئی چانس نہیں۔

عوام اپنے کسی مریض کو بخیروعافیت ھسپتال نہیں پنہچاسکتے۔مقامی سطح پر علاج معالجے کیلئے ہسپتال کا ہونا ضروری ہے لیکن اس بارے عمل درآمد تو دور کی بات سوچا بھی نہیں گیا۔ہم سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے اپنی زرعی اجناس منڈیوں تک نہیں لے جاسکتے۔اس کو اہلیان علاقہ کی بے حسی کہیں یا پھر سیاسی امیدواران کی نااہلی۔فیصلہ عوام کو کرنا ہوگا۔

خالی نعروں سے ہٹ کر ان سست اور نااہل سیاست دانوں سے جان چھڑانے کا سنہری موقع ہے عوام آگے بڑھیں اور ان نااہل مفاد پرست ٹولے سے جان چھڑالیں تو بہتر ہوگا۔اپنے علاقے میں ان کو گھسنے مت دیں ان کو اگر عوام کا احساس نہیں تو عوام بھی اپنی بے حسی کی چادر اتار دے اور ان جوکروں کا احتساب کرے۔جس میں ہر سیاست دان شامل ہے جو قیام پاکستان سے الیکشن لڑتے اور جیتتے آرہے ہیں۔اگر عوام انکو ووٹ نہ دے کر اس علاقہ سے آؤٹ کرسکتی ھے تو آپ تو ابھی نئے ھو۔

ہمارے اس دیہات کی آبادی اور ووٹ لسٹ سے کوئی انجان نہیں اور ہاں اس میں کسی ایک سیاسی جماعت کا قصور نہیں بلکہ مقامی سطح کے سبھی سیاست دان اور لوکل گورنمنٹ ذمہ دار ہیں۔ان کا کام صرف فوتگی پہ تعزیت کرنا رہ گیا ہے اور کچھ نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں