depalpur political situation 819

پی ٹی آئی کی طرح ن لیگ میں بھی ٹکٹوں پر اختلافات،دیپالپورکی سیاست دلچسپ مرحلے میں داخل

دیپالپورکو سیاست کے میدان میں ہمیشہ بڑی اہمیت رہی ہے اور یہاں پر بڑے بڑے سیاسی نام موجود ہیں.اب جبکہ الیکشن کی آمد آمد ہے اور ایسے میں ٹکٹوں کی تقسیم انتہائی اہم مرحلہ ہے.اور اس سلسلے میں اب تک یہی دیکھا جارہاتھا کہ دیپالپور میں پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارلیمانی بورڈ مخمصے کا شکار رہاہے مگر آج مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی اختلافات کھل کرسامنے آگئے ہیں.میڈیا رپورٹس کے مطابق حجرہ شاہ مقیم کے معروف سیاستدان سیدرضاعلی گیلانی جو کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ وابستہ تھے اور حالیہ دور میں مسلم لیگ ن کے انہیں وزیرہائیرایجوکیشن بھی مقرر کررکھا تھا مگر الیکشن کی آمد کیساتھ ہی ان کے مسلم لیگ ن سے اختلافات اس وقت سامنے آگئے جب انہوں نے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا.لیکن اس کیساتھ ہی مسلم لیگ ن جو خود اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہے اس نے ان کو راضی کرنے کی کوشش کی تو اب انہوں نے واضح طور پر اپنے موقف کا واضح کردیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے راؤاجمل خان چاہئے یا کہ حجرہ شاہ مقیم گروپ.اور ان کا ساتھ دیپالپور حلقہ پی پی 187 کے سابق ایم پی اے ملک علی عباس کی جانب سے بھی دئے جانے کی خبریں گرم ہیں تاہم جب اوکاڑہ ڈائری نے ملک علی عباس کے قریبی ذرائع کیساتھ رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ملک علی عباس نے اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا ہے اور نہ ہی راؤمحمداجمل خان کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے.دوسری جانب سید گلزار سبطین کو پی ٹی آئی کی جانب سے این اے 143 کا ٹکٹ ملنے کا قوی امکان نظرآرہاہے مگر آج ڈرامائی طور پر سامنے آنے والی اس خبر نے مقامی سیاست کو ایک نیا اور دلچسپ موڑ دے دیا ہے.آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں