atai doctor k hathion bachi qatal 821

چورستہ میں عطائی کے ہاتھوں بچی کی ہلاکت کی خبر،حقیقت کچھ اورنکلی

عطائیت بلاشبہ ایک ناسور ہے جو ہرسال کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہی ہے حالیہ دنوں عدلیہ کے سخت احکامات کی روشنی میں ان کے خلاف کچھ اقدامات کئے بھی گئے ہیں تاہم اب بھی یہ سلسلہ کسی نہ کسی صورت جاری ہے
گزشتہ روز دیپال پور بصیر پور روڑ چورستہ میاں خاں میں عطائی ڈاکٹر محمد حسین نامی کے ہاتھوں زہریلا انجکشن لگائے جانے سے 12 سالہ عابدہ شاہین ولد محمد حسین قوم شیخ کی موقع پر ہلاکت کی خبر سامنے آئی تو اوکاڑہ ڈائری نے اس بارے وہاں کے مقامی لوگوں سے جب صورتحال معلوم کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ٹھیک ہے کہ عابدہ شاہین کی ہلاکت انجیکشن لگنے سے ہوئی مگراس کی موت کا ذمہ دار محمدحسین کو قراردینا غلط ہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ عابدہ شاہین ہیپاٹائٹس کی آخری سٹیج پر تھی اور چندروز قبل ہی جنرل ہسپتال والوں نے اسے لاعلاج قراردے کر گھر بھیج دیا تھا اور جس انجیکشن لگنے کے بعد عابدہ کی موت ہوئی وہ انجیکشن بھی جنرل ہسپتال والوں نے ہی دیا تھا کہ جب اس کی حالت زیادہ خراب ہو اس وقت یہ لگوالیا کرنا اور کل بھی یہی ہوا کہ عابدہ کا پورا جسم کانپنے لگا اور وہ اسے محمد حسین کے پاس لے آئے اور انجیکشن لگانے کا کہا مگر محمدحسین نے انکار کردیا تاہم گھروالوں نے خود ضد کرکے اسے انجیکشن لگانے پر مجبور کیا جس کے بعد بچی کی ہلاکت ہوگئی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں